ساون آئیو (حمیرا اطہر)

4ایک زمانہ تھا، اور کیا زمانہ تھا، اس کے بارے میں صرف بزرگوں سے سنا یا پرانی فلموں میں دیکھا کہ ایک ”موسم برسات“ بھی ہوا کرتا تھا جسے عرف عام میں ساون بھادوں کہا جاتا تھا۔ ساون ہندوﺅں کے بکرمی کیلنڈر کا چوتھا مہینہ ہوتا ہے جب کہ اس کے ساتھ ہی بندھا ہوا پانچواں مہینہ بھادوں کہلاتا ہے۔ اُس زمانے میں برسات کا موسم شروع ہوتے ہی لڑکیاں بالیاں تو پائیں باغ میں جھولے ڈال کر پینگیں لینے لگتیں جب کہ آپائیں اور امائیں پکوان تلنے لگتیں۔
ایسے میں نوبیاہتا دلہنیں میکے کو اتنی شدت سے یاد کرتیں کہ حضرت امیر خسرو نے ان کی ترجمانی میں گیت بھی لکھ دیے۔
امّاں میرے بابا کو بھیجو نی کہ ساون آیا
(آپ سوچ رہے ہوں گے کہ برسات کے سارے مزے اور گیت صنف نازک کے لیے ہی ہیں؟ نہیں، ایسا ہرگز نہیں ہے۔ جہاں تک جھولوں کی بات ہے تو کم عمر لڑکے بالے بھی بہنوں سے چھین چھین کر اور کہیں تو انہیں جھولوں سے گرا کر بھی، پینگیں لینے لگتے۔ رہ گئے بڑی عمر کے مرد، تو وہ بھی کورس میں بآوازِ بلند گایا کرتے۔
”اُمڑ گھمڑ گھِر آئے بدرا“
تو اب جب سے یہ ساون بھادوں ”مون سون“ بنا ہے کراچی میں تو جیسے برسنا ہی بھول گیا ہے۔ محکمہ موسمیات والے اپنی طرف سے تو بہتیری خوش خبریاں سناتے ہیں مگر بارشیں ہیںکہ شمالی علاقہ جات، بالائی پنجاب، زیادہ سے زیادہ میدانی علاقوں تک ہی محدود رہتی ہیں۔ کراچی والے کئی برس سے بارشوں کو ترس گئے ہیں۔ بس ”خوش خبریوں“ پر ہی گزارا ہے یا ٹیلی ویژن اسکرین پر بارش کے مناظر جو یقیناً کسی اور شہر کے ہوتے ہیں، دیکھ کے خوش ہولیتے ہیں۔ ابھی گزرے مارچ کی بات ہے، محکمہ موسمیات نے اچانک ڈھول پیٹنا شروع کردیا کہ کراچی میں مارچ کے دوسرے ہفتے میں ایک اچھی بارش ہوگی۔ ہم خوش ہوگئے پھر یوں ہوا کہ ان ہی دنوں پاکستان فیڈرل کونسل آف کالمسٹ کا ایک وفد صحرائے تھر کے تین روزہ دورے پر روانہ ہونے والا تھا جس کے کرتا دھرتاﺅں میں ہمارا شمار بھی ہے۔ یہ دورہ 11 تا 13 مارچ یعنی جمعے سے اتوار تک کا تھا۔ ہم نے سوچا، ایک بنجر علاقے میں جا رہے ہیں تو کیا ہوا؟ جانے سے پہلے یہاں بارش میں سیراب ہو چکے ہوں گے۔ مگر ہوا یہ کہ بارش تو کیا بادل بھی نہیںآئے اور ہم دل پہ صبر کا بڑا سا پتھر رکھ کے عازمِ تھر ہوئے کہ جب وہاں پہنچ کر گھر میں فون کریں گے تو گھر والے بتائیں گے کہ تمہارے جاتے ہی خوب بارش ہوئی اور ہم دل مسوس کر غالب کا مصرعہ دہراتے رہیں گے:
ہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بہار آئی ہے
3
لیکن خدا کی قدرت دیکھیے کہ ہم واپس بھی آگئے اور کراچی میں بارش نہ ہوئی، البتہ دورے کے آخری روز واپسی پر مِٹھی میں بارش ہو رہی تھی۔ ماہ جون کے شروع سے ہی موسمیات والوں نے ایک مرتبہ پھر سبز باغ دکھانے شروع کر دیے کہ اس مرتبہ کراچی میں بھی خوب بارشیں ہوں گی بلکہ ملک بھر میں بارشوں کا یہ تناسب 20 فی صد زیادہ رہے گا۔ پہلے تو ہم بہت خوش ہوئے لیکن جب راولپنڈی، اسلام آباد، لاہور، پشاور حتیٰ کہ کوئٹہ میں بھی بارشیں ہوگئیں اور کراچی میں سورج بادلوں میں چُھپنے کی بجائے سوا نیزے پر آگیا تو ایک دوست ماجد صدیقی کی فیس بک والی پوسٹ کی صداقت پر یقین آنے لگا کہ ”محکمہ موسمیات نے چار روز قبل بارش کی پیش گوئی کی تھی جن میں سے دو آرزو میںکٹ گئے دو انتظار میں۔“ سچ پوچھیے تو ہمارا ماتھا تو اسی وقت ٹھنکا تھا جب محکمہ موسمیات کے ایک اعلیٰ افسر ڈاکٹر غلام رسول کسی چینل پر فرما رہے تھے کہ 20 فی صد زیادہ بارشیں ہونے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ پورے ملک میں زیادہ بارشیں ہوں گی بلکہ یہ کچھ علاقوں میں ہوں گی، کچھ علاقوں میں معمول کے مطابق، کچھ میں معمول سے کم اور کچھ میں بالکل نہیں ہوں گی۔ اب ظاہر ہے کہ یہ ”بالکل نہیں“ والی بات تو ماضی کے مون سون کو سامنے رکھتے ہوئے کراچی پر ہی صادق آتی ہے۔ سو میرا کراچی کے شہریوں کو یہی مشورہ ہے:
وہ ترے نصیب کی بارشیں کسی اور ”شہر میں“ برس گئیں
”مرے ہم شہر“ مری بات سن، اسے بھول جا، اسے بھول جا
ویسے ایک دو روز سے شہر میں کہیں کہیں بادلوں نے چھیڑخانیاں شروع کردی ہیں یعنی پانی کے دو چار چھینٹے پھینک دیے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ اس کالم کے بعد انہیںجوش آجائے اور وہ زوردار طریقے سے برس بھی جائیں۔ آپس کی بات ہے کہ پھر کیا ہوگا؟ یہی ناں کہ گرمی کا زور کچھ ٹوٹ جائے گا مگر شہر کا پرسان حال کون ہوگا؟ چھماچھم بارشوں کے انتظار میںآنکھیں بچھائے ہم اور آپ کس اذیت بلکہ عذاب میںمبتلا ہوں گے؟ گھٹنوں گھٹنوں پانی میں ڈوبی سڑکیں اور گلیاں، ٹریفک جام، بجلی کے طویل بریک ڈاﺅن، کرنٹ لگنے سے اموات، اُبلتے گٹر اور برساتی نالے، پانی میں تیرتے کچرے کے ڈھیر اور پہلے ان سے پھوٹتا تعفن پھر وبائی امراض، کچے مکانوں کی اُڑتی چھتیں، گرتی دیواریں، ان کے نیچے دب کر ہلاکتیں، پرانے درختوں، سائن بورڈز اور ہورڈنگز کی شکل میں کھڑے ملک الموت نہ جانے کتنی جانیں لے جائیں؟ خوب صورت ساون بھادوں یا مون سون کا ایک بدصورت پہلو یہ بھی تو ہے جس کی طرف کسی کا دھیان نہیں جاتا۔ حکومتی کارندے اس بارے میں عملی اقدامات تو کجا سوچنے پر بھی تیار نہیں۔ ایسے میںبارشوں کا مزہ کیسے آئے گا؟ جھولے اور گیت تو خواب وخیال ہو ہی چکے، پکوان بھی کیوںکر پکائے جائیں گے؟
اے لو! ابھی ہم اتنا ہی لکھ پائے تھے کہ بادل سچ مچ آگئے اور اچانک تیز ہواﺅں کے ساتھ بادلوں نے برسنا بھی شروع کردیا اور اور پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ وہی ہوا جس کی ابھی منظرکشی کی تھی یعنی کے الیکٹرک کے دوسو فیڈر ٹرپ کرگئے اور پورا شہر اندھیرے میں ڈوب گیا۔ خوش قسمتی سے ہماری رہائش ایسے علاقے میں واقع ہے جو لوڈشیڈنگ کے عذاب سے محفوظ ہے۔ اسی لیے ہمارا ”قول زرّیں“ ہے کہ ”ہمارے یہاں لائٹ جاتی نہیں مگر جب جاتی ہے تو آتی نہیں۔“ سو اس مرتبہ بھی یہی ہوا۔ رات تقریباً پونے آٹھ بجے کی گئی بجلی پونے دو بجے تشریف لائی۔ سحر دَم ٹی وی کی خبروں سے پتا چلا کہ اب بھی تیس فیڈروں کی مرمت پر کام جاری ہے اور شہر کا بڑا علاقہ بجلی سے محروم ہے۔ شہر میں جگہ جگہ پانی کھڑا ہے جب کہ اب تک صرف 25 ملی میٹر بارش ہوئی ہے اور 9 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ایم اے جناح روڈ پر بارش کا مزہ لیتے ہوئے چار جوانوں پر ایک چھتنار درخت گر پڑا جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہوکر ہسپتال پہنچ گئے۔ یہ تو وہی بات
2
ہوئی:
بارشیں آئیں اور فیصلہ کر گئیں
لوگ ٹوٹی چھتیں آزماتے رہے
بتائیے اب مون سون کیسے منایا جائے اور کس دل سے گایا جائے کہ ”ساون آئیو“۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top