Friday, November 27, 2020
- Advertisment -

مقبول ترین

آرزو فاطمہ کے اغوا اور کم عمری کی شادی کے کیس کی سماعت

سٹی کورٹ میں آرزو فاطمہ کے اغوا اور کم عمری میں شادی کے کیس کی سماعت،  پولیس چالان...

پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کی بھارتی فشنگ لانچ کے خلاف کاروائی

پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کی بھارتی فشنگ لانچ کے خلاف کاروائی، میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی نے بھارتی...

سر سبز شاداب کراچی مختصرڈاکومینٹری

سر سبز شاداب کراچی مختصرڈاکومینٹری

بھٹو خاندان کے لئے خوشی کا دن

بھٹو خاندان کے لئے خوشی کا دن، بختاور بھٹو کی منگنی آج، بلاول ہاؤس کراچی میں منگنی کی...

ایم کیو ایم اور الطاف بھائی کا مستقبل (سلیم صافی)

saleem-safiایم کیوایم دو انتہائوں کا مجموعہ ہے ۔ یہ جماعت کچھ ایسی خوبیوں کی حامل ہے کہ جس کا پاکستان کی دیگر جماعتوں کے ہاں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ یہ واقعتاً جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے چنگل سے آزاد ہے بلکہ بڑی حد تک کراچی اور حیدرآباد میں رہنے والے ان دو طبقات کو اس نے اپنے چنگل میں بند کر رکھا ہے ۔ دوسری سیاسی جماعتوں کو سرمایہ داراور جاگیردار اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں لیکن یہ جماعت ان دونوں کو اپنے لئے استعمال کرتی ہے ۔ اس کی قیادت سو فی صد لوئر اورلوئر مڈل کلاس پر مشتمل ہے ۔ کوئی امیر ہے بھی تو وہ ایم کیوایم میں آنے کے بعد امیر بنا ہے ‘ پہلے سے امیر نہیں تھا۔ اس تنظیم کا ڈسپلن بھی اپنی مثال آپ ہے ۔ یہ ایسی تنظیم ہے کہ جس کے ممبران پارلیمنٹ ‘ تنظیم کے تابع رہتے ہیں ۔ جتنی محنت اس تنظیم کے رہنماء کرتے ہیں ‘ دوسری تنظیموں کے ورکرز بھی وہ نہیں کرسکتے ۔ جو فعالیت یہ لوگ دکھاتے ہیں‘ وہ شاید منظم فورسز کے وابستگان بھی نہیں دکھاتے ۔ لیکن دوسری طرف اس تنظیم کے اندر بدترین تنظیمی جبردیکھنے کو ملتا ہے ۔ لوگ آتے شاید اپنی مرضی سے ہیں لیکن اس سے جااپنی مرضی سے نہیں سکتے۔ لاکھوں لوگ اپنی مرضی سے اس تنظیم کے ساتھ وابستہ ہیں لیکن ایک بڑی تعداد خوف کی وجہ سے بھی اس کے ساتھ ہے یا پھر اس کے بارے میں خاموش ہے۔ جبر اور تشدد اس تنظیم کا تاثر بنتا جارہا ہے جبکہ بھتے‘ بوری بند لاش اور ٹارگٹ کلنگ کا لفظ آتے ہی ‘ دھیان کہاں جاتا ہے سب کو معلوم ہے ۔ الغرض اس تنظیم نے مصطفی کمال بھی پیدا کئے ہیں اور فیصل موٹا بھی۔یہاں ڈاکٹر عشرت العباد بھی نظر آتے ہیں لیکن صولت مرزا جیسوں کا تعلق بھی جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ اردو بولنے والے ظلم کے شکار تھے اور ان کا استحصال ہورہا تھا ۔ ایم کیوایم نے انہیں اس ظلم اور استحصال سے نجات دلادی لیکن کچھ حوالوں سے خود اردو بولنے والے کے ساتھ ظلم کا موجب بن گئی۔
ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین کی ذات سے متعلق بھی دو مختلف اور متضاد آرا پائی جاتی ہیں ۔ ایک ان کے چاہنے والوں کی رائے ہے اور دوسری دیگر پاکستانیوں کی۔ ان کے چاہنے والے سمجھتے ہیں کہ قیدوبند اور جلاوطنی کی صعوبتیں کاٹ کر الطاف بھائی نے مظلوم اردو بولنے والوں کو پہچان دی اور اختیار بھی دلوادیا۔ اس کے برعکس ان کو کراچی کی روشنیوں کو اندھیروں میں بدلنے یا پھر تہذیب‘ علم اور شائستگی کے حامل اردو بولنے والوں کو تشدد کی راہ پر گامزن کرنے کا ذمہ داربھی سمجھتے ہیں ۔ ان کے حامی سمجھتے ہیں کہ اپنے عزیزوں کو نوازنے اور خود اپنے آپ کوسرکاری عہدوں پر متمکن کرنے کی بجائے الطاف بھائی نے اپنے لئے جلاوطنی کا انتخاب کیا ہے تو ان کے مخالفین کہتے ہیں کہ اپنے چاہنے والوں کو آگ و خون کے کھیل کے سپرد کرکے وہ خود لندن جابیٹھے ہیں جبکہ پاکستان میں میدان جنگ میں موجود پارٹی رہنمائوں کو انہوں نے تابع و محکوم بنا رکھا ہے۔ ان کے حامی سمجھتے ہیں کہ الطاف بھائی نے اسٹیبلشمنٹ‘ سندھیوں ‘ پنجابیوں اور پختونوں کے استحصال سے اردو بولنے والوں کو نجات دلا دی جبکہ ان کے مخالفین سمجھتے ہیں کہ انہوں نے باری باری ان سب سے اردو بولنے والوں کو لڑوایا ۔ علیٰ ہٰذہ القیاس۔
حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ دونوں تصورات میں وزن ہے ۔ ایم کیوایم کے اندر بھی یہ دونوں انتہائیں جمع ہوگئی ہیں اور الطاف بھائی کی ذات سے متعلق بھی دونوں تصورات میں وزن ہے ۔ اس تنظیم نے اردو بولنے والوں کو بہت کچھ دیا بھی ہے اور ان سے بہت کچھ چھینا بھی ہے ۔ اسی طرح الطاف بھائی نے اپنی جماعت کے وابستگان کو پہچان ‘ عزت اور اختیار سے بھی نوازا لیکن اب ان کی ذات ہی ان کی مشکلات میں اضافے کا موجب بن رہی ہے ۔ بہت بہتر ہوتا اور کاش ایسا ہوتا کہ الطاف بھائی منفی رجحانات پر قابو پاکر ایم کیوایم میں موجود خامیوں کو دور کرتے ۔ اس تنظیم کے دروازے فیصل موٹا جیسے لوگوں کے لئے بند کرتے اور مصطفی کمال جیسوں کو ہی مختار بناتے لیکن افسوس کہ ایسا نہیں ہوسکا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک طرف مصطفیٰ کمال جیسے چھوڑنے پر مجبور ہورہے ہیں جبکہ دوسری طرف نائن زیرو سے سزا یافتہ قاتل اور بھتہ خور پکڑے جارہے ہیں اور اگر حالات ایسے رہے تو یہ خطرہ محسوس ہورہا ہے کہ پوری ایم کیوایم نشانہ بن جائے ۔ اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ زمینی حقائق کو جھٹلانے کی بجائے ایم کیوایم کی صفوں سے مجرموں کو مکمل طور پر نکالا جائے تاکہ ایم کیوایم بطور سیاسی جماعت زندہ اور فعال باقی رہے ۔ جلاوطنی کا اثر ہے ‘ بیماری علت ہے یا پھر بڑھاپا غالب آگیا ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ الطاف بھائی کے ہر لمحہ بدلتے بیانات اور روز بروز بدلتی پالیسیاں پاکستان میں موجود ایم کیوایم کے رہنمائوں اور وابستگان کے لئے حزیمت اور رسوائی کا موجب بنتی ہیں۔ ایک روز وہ مارشل لاء کا مطالبہ کرلیتے ہیں اور پھر یہاں پر موجود بے چاروں کو دفاع کرنا پڑتا ہے اور دوسرے روز وہ اسی فوج کو تمام خرابیوں کی جڑ قرار دیتے ہیں اور پھر ان کے باصلاحیت ترجمانوں کو اپنی توانائیاں اس سمت میں صرف کرنی پڑتی ہیں۔ ایک دن وہ انہیں اے این پی سے لڑوادیتے ہیں ‘ دوسرے دن پیپلز پارٹی سے ‘ تیسرے دن تحریک انصاف سے اور چوتھے دن جماعت اسلامی سے ۔ صبح وہ طالبان کو طیش دلادیتے ہیں اور شام کو ان سے لڑنے والی فوج کو ناراض کردیتے ہیں ۔ اب تو نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ رابطہ کمیٹی بھی ہر مہینے تبدیل ہوتی رہتی ہے ۔ دوسری طرف المیہ ہے کہ عقیدت یا خوف کی وجہ سے ایم کیوایم کے اندر کوئی ان کو ہٹ جانے کا مشورہ دینے کا ریسک لے سکتا ہے اور نہ ان سے روز بروز بدلتی پالیسیوں پر احتجاج کرسکتا ہے ۔ لیکن میرے خیال میں اب معاملات اس نہج پر چل نکلے ہیں کہ الطاف بھائی کی علیحدگی کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ وہ اگر اپنے آپ کو قیادت سے الگ کرکے ایم کیوایم میں کارکنوں کی مرضی سے جمہوری طریقے کے ساتھ اپنے جانشین کا انتخاب کرلیں تو نہ صرف پارٹی اور ملک کے لئے بہتر ہوگا بلکہ خود ان کے لئے بھی بہتر ہوگا۔ پارٹی باقی رہے گی تو الطاف بھائی کے بھی کام آسکے گی لیکن اگر ایک طرف وہ زیرعتاب ہوں اور دوسری طرف پاکستان میں ان کی جماعت تو دونوں کے لئے خطرات بہت بڑھ جاتے ہیں ۔ مجھے ادراک بھی ہے اور احساس بھی کہ الطاف بھائی اس مشورے سے کس قدر ناراض ہوں گے اور ان کے وہ وابستگان جو انہیں پیر اور نہ جانے کیا کیا سمجھتے ہیں ‘ پر بھی مائنس الطاف کا فارمولا نہایت بھاری ہوگا لیکن بخدا اگر مجھے ایم کیوایم کے بچائو کا کوئی اور راستہ نظر آتا تو یہ تجویز کبھی نہ دیتا۔اگر الطاف بھائی کا یہ دعویٰ درست ہے کہ انہوں نے ہمیشہ اردو بولنے والوں کی خاطر یا پھر پارٹی کی خاطر قربانیاں دی ہیں تو پھر ایک قربانی اور سہی ۔ مولانا مودودی نے اپنی زندگی میں جماعت اسلامی کی قیادت سے علیحدگی اختیار کی تھی ۔ اسی طرح خان عبدالولی خان نے بھی زندگی کے آخری سالوں میں عملی سیاست سے علیحدگی اختیار کرکے گھر میں گوشہ نشینی اختیار کرلی تھی ۔ خود الطاف بھائی فرماتے ہیں کہ انہوں نے باصلاحیت لوگوں پر مشتمل قیادت تیار کی ہے ۔ اب اگر ان کا دعویٰ درست ہے تو پھر اپنی تیار کردہ ٹیم پر اعتماد ہی کرلیں۔
(بشکریہ جنگ

Open chat