Wednesday, October 28, 2020
Home کالم /فیچر پیپلز پارٹی کا ٹریلر

پیپلز پارٹی کا ٹریلر

karsaz-news-finalسولہ اکتوبر2007کو پیپلز پارٹی کی لیڈر محترمہ بے نظیر بھٹو کے ایک جلسے میں کارساز کے مقام پر بم دھماکہ ہوا۔ جس میں150لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان لوگوں کی یاد تازہ کرنے کے لیے 16 اکتوبر 2016 کو پیپلز پارٹی کی جانب سے ایک ریلی نکالی گئی جو بلاول چورنگی سے شروع ہوئی جو کارساز چوک پر پہنچ کر ختم ہوئی۔
screenshot_2016-10-17-14-38-33سولہ اکتوبر2007کو بھی پیپلز پارٹی کے جیالے اسی جوش و جذبے کے ساتھ نکلے تھے ، مگر کچھ وقت بعد ہی یہ اجتماع آہوں ، سسکیوں اور اپنے پیاروں کے جسموں کے چیتھڑے تلاش کرنے والوں کی چیخوںمیں بدل گیا تھا۔

کل کی ریلی پیپلز پارٹی کے انہی شہداء کو سلام اور خراج عقیدت پیش کرنے کے لیےنکالی گئی تھی۔ مگر ناقص حکمت عملی سے سلام پیش کرنے کا جو انداز اختیار کیا گیا، اس نے پیپلز پارٹی کے منفی امیج کو

screenshot_2016-10-17-14-15-03
اجاگر کیا۔ 2007 میں وہ لوگ جن کے پیارے کارساز پر دہشت گردی کی نذر ہو گئے تھے ، کل کی ریلی میں ان کے دلوں پر تیر چل گئے ہوں گے۔ کیوں کہ ہرکوئی اس دن کو یاد کر کے افسردہ ہو گا۔ مگر پیپلزپارٹی کی اس ریلی میں شہداء کو سلام پیش کرنے کے لیے جس طرح ناچ گانے کا اہتمام کیا گیا۔ اس نے ہرایک کو اس ریلی کا ناقد بنا دیا۔

 

 

screenshot_2016-10-17-13-57-59بلاشبہ اس ریلی میں پاور شو کی اچھی کوشش کی گئی مگر روڈ بند ہونے ، لوگوں کو سفر میں مشکلات اور ناچ گانے کے کلچر نے پیپلزپارٹی کی اس ریلی کو مذاق بنا دیا۔ اگر سوشل میڈیا پر اس ریلی کا فیڈ بیک دیکھا جائے تو لوگ بلاول بھٹو زرداری اور پیپلزپارٹی قیادت کو آڑے ہاتھوںلے رہے ہیں۔
کسی نے شہداء کو ناچ گا کر ایصال ثواب پہنچانے پر تنقید کی تو کوئی روڈ بند ہونے پر سیخ پا نظر آیا۔
کسی نے کہا کہ غریب آج بھی بھنگڑے نہیں بلکہ روٹی کپڑا اور مکان دیکھ رہا ہے۔
screenshot_2016-10-17-13-52-10اسی طرح سلام شہداء ریلی کور کرنے والے صحافی بھی پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے نظر آئے۔
ایک ٹویٹر ہنڈلر نے کچھ یوں تبصرہ کیا ہوا تھا کہ ثواب کے لیے کیا کیا آئٹم بھیج رہے ہیں عالم برزخ میں سانحہ کارساز والوں سے سوال !
بلاول زرداری کی جانب سے اس ریلی کو ٹریلر قرار دیا گیا ہے۔ مگران منفی تبصروں تنقید کو دیکھتے ہوئے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ ٹریلر تو فلاپ ہوا ہے۔ اگر ڈائریکٹرز نے کامیابی کے لیے ترکش میں کوئی نئے تیر نہ ڈالے تو فلم بھی ریلیز ہونے سے پہلے ہی فلاپ ہو جائے گی۔
screenshot_2016-10-17-15-05-15اسی طرح اے آر وائی سے وابستہ ایک صحافی حسن ملک نے ریلی میں بڑے بڑے دعوں اور کراچی شہر کے ہیرو و دلہا کو کچھ ان الفاظ میں یاد کیا ہے ۔
اجنبی بارات ۔ ۔ ۔!!
اس نے شہر میں گھومنے کا پروگرام بنایا ۔ ۔ ۔ مداری ، مزاری اور درباری جمع کر کے بڑے دھوم دھام سے شہر میں نکلا۔ ۔ ۔ اس کے ساتھ ہزاروں لوگ تھے۔ ۔ ۔ کوئی آگے آگے ناچتا۔ ۔ ۔ کوئی پیچھے پیچھے ڈھول بجاتا چلا آتا۔ ۔ ۔ ایسے میں ڈھنڈوچیوں نے بھی کوئی کسر نہ چھوڑی۔ ۔ ۔ صبح سے شام تک اپنے کیمروں کو گھوڑو ں کی طرح دوڑایا۔ ۔ ۔ لوگوں کو گھر گھر اطلاعات ملتی رہیں۔ ۔ ۔ دولہا کی سواری اب یہاں پہنچ گئی ۔ ۔ ۔اور اب وہاں پہنچ گئی۔ ۔ ۔ ۔ سب دیکھ رہے تھے لیکن جذبات سے عاری کوئی اپنے گھر سے دولہا کی بلائیں لینے نا آیا۔ ۔ ۔ وہ اپنے ننھیال کے علاقے میں بھی گیا۔ ۔ ۔ لوگوں نے دو ر سے دیکھ کر ہاتھ ہلایا بچے حیرت سے دیکھ رہے تھے یہ کیا ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ مرد لا تعلق تھے اور دکاند ار پریشان ۔ ۔ ۔ ۔ ہر طرف سے ہٹو بچو کی صدائیں گونجتی رہیں۔ ۔ ۔ ۔ بارات آگے بڑھتی رہی اور لوگ راستہ دیتے رہے ۔ ۔ ۔ ۔ دلہا کے لیے جہاں جہاں خدشہ تھا وہاں راستے بند کردئے گئے ۔ ۔ ۔ ۔ اب چاہے کسی کو اسپتال جانا ہو یا کسی کی موت پر ماتم کرنےتمام راستے بند تھے۔ ۔ ۔ صبح سے شام تک پورا شہر اپنے گھروں میں قید تھا۔ ۔ ۔ ۔ دولہا کی بارات شاہی رعب ودبدبے کے ساتھ آگے بڑھتی رہی ۔ ۔ ۔ دولہا کی گاڑی پر اور بھی بہت سے لوگ سوار تھے ۔ ۔ ۔ لیکن نہ تو کوئی اس شہر کا تھا ۔ ۔ ۔نہ
screenshot_2016-10-17-13-49-36
اس خاندان کا۔ ۔ ۔اور نہ ہی یہاں کی زبان بولنے والا ۔ ۔ ۔ لیکن سب کا کہنا ایک ہی تھا ، دولہا میاں اس شہر کو دلہن بنائے گا ۔ ۔ ۔ سب کو خوشیاں بانٹے گا۔ ۔ ۔ لوگ ایک کان سے سنتے رہے اور دوسرے سے نکالتے رہے ۔ ۔ ۔ اجنبی کی بارات اپنے دعووں اور وعدوں کے ساتھ اپنی منزل کو پہنچ گئی ۔ ۔ ۔ لیکن وہاں نہ کوئی دلہن تھی نہ کوئی بارات کا استقبال کرنے والا۔ ۔ ۔ باراتی ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہوئے رخصت ہو گئے
002اسی طرح لیاری میں غربت اور لوگوں کی بدحالی کو بھی لوگوں نے تنقید کا نشانہ بنایا۔ فیس بک پر تبصرہ کرنے والے نے کہا کہ جتنی خوشی برسی پر منائی جا رہی ہے اتنی تو اب کوئی شادی پر بھی نہیں مناتا۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

سرجانی ٹائون سے لاپتہ 8 سالہ عروہ بازیاب

کراچی، پیر کے روز سرجانی ٹائون سیکٹر ڈی فور میں گھر کے باہر سے لاپتہ ہونےوالی 8 سالہ عروہ فہیم بازیاب، پولیس...

بدھ اور جمعہ کو سی این جی اسٹیشنز بند رہیں گے

کراچی، سندھ بھر کے سی این جی اسٹیشنز بدھ اور جمعہ کو بند رہیں گے، ذرائع کے مطابق بدھ اور جمعہ کو...

لیاقت آباد، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ٹیم پر حملہ

کراچی، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ٹیم پر لیاقت آباد میں حملہ، ذرائع ایس بی سی اے کے مطابق لیاقت آباد...

گزری، نجی بینک میں آتشزدگی،فائر بریگیڈ کی گاڑیاں روانہ

کراچی، گذری میں نجی بینک میں آتشزدگی، کنٹونمنٹ بورڈ کی گاڑیاں آگ پر قابو پانے کےلئے روانہ، ذرائع کے مطابق بینک میں...