Saturday, October 31, 2020
Home کالم /فیچر سانحے کے بعد۔۔۔۔ (ام کلثوم)

سانحے کے بعد۔۔۔۔ (ام کلثوم)

bus attackایک اور سانحہ، ایک اور بریکنگ نیوز، ایک اور مذمتی بیان، ایک اور عینی شاہد اور کچھ نا معلوم افراد۔۔۔ سانحہ صفورا مذہب کے کسی ٹھیکیدار نے کفر کا فتوی لگاکر اپنی ٹھیکیداری کا حق ادا کر دیا، یا کسی نے اپنی بنیاد فطرت کو شانت کرنے کے لیے دیش کی سرکار کا آدیش بجا لایا، یا کسی نے اپنے وجود سے انکاری صاحب ایوان کو اپنے ہونے کا ثبوت دے دیا یا کسی نے خود کو اوجھل کرنے کے لیے پینتالیس معصوم جانوں کا نوشتہ موت لکھ دیا۔ ۔۔ وجوہات کچھ بھی ہوں، محرکات کا محور چاہے جو بھی لیکن حقیقت کا مکروہ چہرہ یہی ہے کہ نامعلوم افراد ایک بار پھر کاروائی کرکے فرار ہوچکے ہیں۔ پینتالیس عام آدمی جان سے گئے ہیںاور حکام بالا لکیر پیٹنے میں مشغول ہو چکے ہیں۔ تبصرے اور تجزیے کرنے والوں نے معاملے کو اور بھی پیچیدہ کر دیا ہے۔ ہر کوئی دور کی کوڑی لا رہا ہے۔ حکومتی سطح پر جواب طلبی اور معطلی کی وہی پرانی پریکٹس جو ہر واقعے کے بعد معمول کی کاروائی ہے۔ لیکن جو ہونا تھا وہ ہو چکا ہے۔ اندرونی یا بیرونی دشمن کی سازش کامیاب ہو گئی۔ انتظامیہ کے تمام دعوے ریت کی طرح بکھر گئے اور ٹارگٹ کلرز نے ایک گنجان آباد علاقے میں بھری بس میں گھس کر ایک ایک شخص کو تسلی سے اپنی گولیوں کا نشانہ بنایا اور اپنی راہ لے گے۔ نیشنل ایکشن پلان کے بیس نکات پر جھگڑنے والے اس پرعمل کرانے سے بے نیاز ہیں۔ اور جو لوگ ہر روز عوام کو نیشنل ایکشن پلان پر بریفنگ دیتے ہیں انھوں نے کالعدم تنظیموں کے خلاف ایکشن کی بجائے اسے اپنی حریف جماعتوں کے عسکری ونگز کے خاتمے تک ہی محدود کر دیا ہے۔

نیشنل ایکشن پلان کے دو بنیادی نکات منافرت اور دہشت گردی کے اہداف کے حصول میں ناکامی سانحہ راولپنڈی، سانحہ یوحنا آباد اور اب سانحہ صفورا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ماہرین کے مطابق حملہ کالعدم تنظیموں کے طریقہ واردات سے زیادہ ایجنسیوں کے طریقہ کار سے زیادہ مما ثلت رکھتا ہے اور اس کی ایک وجہ حالیہ دنوں میں بھا رتی انٹیلی جنس ایجنسی کا پاکستان کی خلاف زیادہ فعال ہونا ہے۔ پا ک چائنہ منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے را کا ایک نیا مانیٹرنگ ڈیسک قائم کرنا شاید اسی واقعے کی ایک کڑی ہے ۔ سانحہ کراچی کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اسماعیلی کمیونٹی پاک چائنہ راہداری سے براہ راست منسلک ہیں۔ اور راہداری کے روٹ کے اردگرد یہی لوگ آبا د ہیں۔ اس واقعے سے حکومت کو ایک پیغام دینا بھی مقصود ہو سکتا ہے۔ مودی سرکار کی چین روانگی سے دو دن قبل اور اقتصادی راہداری آل پا رٹیز کانفرنس کے عین موقع پر سانحہ صفورا کا پیش ہونا بہت سی ایسی کڑیاں ہیں جن کو ملایا جا رہا ہے لیکن درپردہ ایک اور حقیقت بھی سامنے آئی ہے جو کہ معاملے کو مزید الجھا رہی ہے۔ بعض پاکستانی علما نے اسماعیلی کمیونٹی کو کافر قرار دیتے ہوئے فتوی جا ری کر دیا ہے۔ اب عین ممکن ہے کہ احمقوں کی جنت میں رہنے والے کچھ علما کرام کے چیلوں نے جنت کا شارٹ کٹ لینے کے لیے عورتوں اور بچوں سمیت پینتالیس سے زائد لوگوں کو اپنی بربریت کا نشانہ بنا دیا ہے۔ لیکن معاملات کا رخ بدلنے کے لیے داعش کی طرف سے ایک پمفلٹ کا موقع واردات سے ملنا بھی تشویش کا با عث ہے۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار نے حال ہی میں پریس کانفرنس میں را کی پاکستان مخالف سرگرمیوں میں موجودگی کے شواہد پیش کرنے کا عوام سے وعدہ کیا ہے لیکن جب وزیر داخلہ سے داعش کی کراچی میں موجودگی پر با ت کی جائے تو درشت لہجے میں یہ فرما دیتے ہیں کہ داعش عراق اور شام تک ہی محدود ہے اسے پاکستان میں زبردستی لانے کی کوشش نہ کی جائے۔ داعش کے وجود سے انکاری حکومت کو کیا داعش کی طرف سے پاکستان میں اپنے ہونے کا اشارہ تو نہیں۔ سانحہ صفورا کے ایک دن بعد سندھ ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں را کی سرگرمیوں کو روکنے اور نیشنل ایکشن پلان کے اب تک کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ ایم کیو ایم نے اسماعیلی کمیونٹی پر حملے کے بعد وزیر اعلی سندھ سے جہاں استعفی کا مطالبہ کیا ہے وہیں کراچی آپریشن کی سب سے مخالف جماعت نے کراچی میںدہشت گردوں کے خلاف آپریشن کا مطالبہ بھی کر دیا ہے۔ عمران خان نے کراچی میں رینجرز کو ناکام قرار دیتے ہوئے غیر سیاسی پولیس کا مطالبہ کر دیا ہے۔ لیکن اس سارے تناظر میں وزیر داخلہ چوہدری نثار منظر سے غائب دکھا ئی دے رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق گذشتہ پا نچ ماہ سے سندھ میں ایپکس کمیٹی عملی طور پر غیر فعال ہوگئی ہے۔ جبکہ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے ایپکس کمیٹی کے قیام پر ہی سندھ کا انتظام ایپکس کمیٹی کے حوالے کرنے کی شدید مخالفت کی تھی اور اس کے نتائج کے خطرناک عندیہ بھی دے دیا تھا۔ لیکن اب وفاقی اور صوبائی حکومت کو ایپکس کمیٹی کو مزید فعال بنانا ہوگا، اس کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعتوں کو نان ایشوز کو چھوڑ کر ایشوز پر بات کرنی چاہیے۔ ہر سانحے کے بعد نشستن، گفتن، خوردن اور برخاستن کی روایت کو چھوڑکر ملکی سا لمیت اور عوامی مسائل کے لیے حقیقت میں ٹھوس اقدامات اور سخت فیصلے کرنے ہونگے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

سندھ میں کورونا سے5 افراد جاں بحق، 237 متاثر

راچی: صوبہ سندھ میں عالمی وبا کورونا وائرس سے 5 افراد جاں بحق جب کہ مزید 237 افراد متاثر ہوئے ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ...

ٹریفک پولیس اہلکاروں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول

کراچی: ٹریفک پولیس پر حملے کی دھمکیاں ملنے کے بعد تمام افسران و اہلکاروں کو بلٹ پروف جیکٹس پہننے کی ہدایات جاری...

گاڑیوں کی ٹکر سے نیوی افسر سمیت3 اہلکار جاں بحق،پولیس اہلکار زخمی

کراچی: گلشن اقبال ابوالحسن اصفہانی روڈ پر تیز رفتار گاڑی کی ٹکر سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا، ریسکیو حکام کے مطابق...

کراچی سینٹرل جیل میں عید میلاد النبیﷺ کا بڑا پروگرام

عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر کراچی سینٹرل جیل میں عید میلاد النبی ﷺ کا بڑا پروگرام منعقد...