Monday, November 30, 2020
- Advertisment -

مقبول ترین

کراچی کی چند خوبصورت مقامات کی ڈرون فوٹیج

کراچی پاکستان کا سب سے بڑا اور آباد شہر ہے۔ سابقہ دارالحکومت ہونے کی وجہ سے ، یہ ایک ممکنہ تجارتی...

جامعہ کراچی کی پوائنٹس سروس

وفاقی سطح پر قائم تعلیمی کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہملک بھر کے تعلیمی ادارے 15 ستمبر...

پلاسٹک آلودگی ( کرن اسلم)

اگر آپ اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو آپ کو کسی نہ کسی صورت میں پلاسٹک کی اشیا ضرور ملیں گی۔ مثال کے طور...

بہادرآباد، ڈکیتی کی بڑی واردات،شہری40 لاکھ روپے سے محروم

بہادرآباد میں ڈکیتی کی بڑی واردات، شہری 40 لاکھ روپے سے محروم، ذرائع کے مطابق بہادرآباد شاہ...

سانحہ صفورا میں گرفتار ملزم طاہر کے دوران تفتیش اہم انکشافات

saniha-e-safooraکراچی، سانحہ صفورا میں گرفتار ہونے والے ملزم طاہر نے افغانستان میں تربیت حاصل کی۔ دوران تفتیش ملزم نے کیا اہم انکشافات کئے۔ملزم طاہر کی پیدائش گجرات میں ہوئی۔ والد سرکاری ادارے کے ملازم تھے اسلئے 20 سال کا عرصہ حیدرآباد کے علاقے کوٹری میں گزارا۔
ملزم طاہر 1999 میں افغانستان گیا، جہاں دہشت گردی کے لئے اسلحہ چلانے اور بم بنانے میں مہارت حاصل کی ۔ ملزم طاہر نے بتایا کہ سال 2006 سے جرائم اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں شامل ہوا۔ آغاز میں بینک ڈکیتیوں اور اغوا برائے تاوان کے ذریعے رقم جمع کی۔ وہ 2007 میں گرفتار اور 2010میں بری ہوگیا۔۔ ملزم نے بری ہوکر اپنے کیس کے تفتیشی افسر رمیش کمار کو قائد آباد کے علاقے میں قتل کیا۔ملزم کے مطابق کراچی میں دہشت گردی کی بڑی کارروائی میں رینجرز کے بریگیڈیر باسط پر خودکش حملہ تھا۔ جس کے لئے وزیرستان سے آنے والے خود کش حملہ آوروں کو وقوعہ سے ایک دن قبل معائنہ کروایا۔سال 2012 میں ہائی کمانڈ کے کہنے پر ملزم بیوی بچوں سمیت کراچی منتقل ہوا۔ دہلی کالونی اور پی آئی بی کے بعد کافی عرصہ ملیر پہلوان گوٹھ گلشن معمار میں رہائش اختیار کی۔ جبکہ ڈاکٹر ڈیبرا لوبو کے لئے مکمل ریکی کی اور کارروائی ہائی کمانڈکے کہنے پر انجام دی۔

Open chat