Wednesday, October 28, 2020
Home Trending نظریات کے نام پر برین واش کیا جاتا ہے، صولت مرزا کے...

نظریات کے نام پر برین واش کیا جاتا ہے، صولت مرزا کے بیانات کی تفصیلی رپورٹ

saulatmirzanewPicl320x180کراچی: سزائے موت کے قیدی صولت مرزا نے کال کوٹھری سے ہی ملک بھر اور سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ ایک ویڈیو پیغام جاری کیا اور الزامات کی ایسی پٹاری کھولی کہ سب چونک کر رہ گئے۔ صولت مرزا نے خود اپنے اور دوسروں کے بارے میں جو کہااس کی تفصیلی رپورٹ یہ ہے۔ صولت مرزا کا کہنا ہے کہ بہت سارے لوگ جو ایم کیو ایم کا حصہ ہیں یا بننا چاہتے ہیں۔ بہت سے ایسے نئے آنے والے کارکن یا جو ایسے لوگ وہ مجھے دیکھیں عبرت پکڑیں کہ ہم لوگوں کو کس طرح استعمال کرکے پھینک دیا گیا اور یہی میری یہاں بیٹھنے اور یہ سب کچھ کرنے کی وجہ ہے ۔حقوق کے نام پہ نظریات کے نام پہ قومیت کے نام پہ ہم لوگوں کو برین واش کرکے کام کرواتے رہے اور کام کرتے رہے ایم کیو ایم کے اندر اور جب ہم لوگوں کی ضرورت پوری ہوگئی تو ہم لوگوں کو ٹشو کی طرح ضائع کردیا گیا۔ ذرائع ابلاغ کے نجی ادارے کی ویب سائٹ پر رپورٹ کے مطابق یہ الفاظ ہیں مچھ جیل میں سزائے موت کے منتظر قیدی صولت مرزا کے ۔ انہوں نے اس وڈیو بیان کا مقصد بتانے کے ساتھ ساتھ یہ انکشاف بھی کیا کہ ایم ڈی کے ای ایس سی شاہد حامد کو قتل کرنے کی ہدایات ، کیسے ملیں ۔جس کیس میں مجھے سزا لگی ہوئی ہے منیجنگ ڈائریکٹر کے ای ایس سی شاہد حامد صاحب مرحوم ،بابر غوری جو ایم کیو ایم کے سینیٹر ہیں شاید اس وقت تو بابر غوری صاحب کے گھر پہ انہوں نے ہم لوگوں کو بلایا ، ہم چار بندے تھے میں تھا راشد اختر تھے جو اب نہیں ہیں ان کے ساتھ دو لڑکے اور تھے لائنز ایریا کے اطہر اور اسد تو وہاں پہ بابر غوری نے الطاف حسین سے بات کروائی تھی الطاف حسین نے بابر غوری کے ذریعے ہم کو یہ ہدایات دی تھیں کہ کے ای ایس سی کے ایم ڈی مارنا ہے ۔ الطاف حسین نے ہدایت دی تھی اور یہ بھی ساتھ میں ہدایت دی تھی کہ کہ اگر میں براہ راست ہدایت نہ دے سکوں تو میری ہدایت وقتا فوقتا تم لوگوں کے پاس بابر غوری کے ذریعے پہنچتی رہے گی ۔ صولت مرزا نے نہ صرف ایم کیو ایم کے کئی رہنماؤں کے نام لیے بلکہ گورنر سندھ پر بھی الزام لگایا کہ وہ ایم کیو ایم کے پکڑے گئے کارکنوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں ۔ الطاف حسین اپنی اکثر ہدایت بابر غوری یا ایم کیو ایم کے دوسرے رہنما ان کے لوگوں کے ہاتھوں یا کبھی ڈائریکٹر کبھی براہ راست دیتے رہے ہیں ہم لوگوں کو یا ہم جیسے تمام ساتھیوں کو ۔ مطلب جو ایم کیو ایم کے اندر سیف سائیڈ پر بیٹھے ہوئے لوگ ہیں جیسے کوئی ایم این اے ، ایم پی ایز، رابطہ کمیٹی میں جن کے اوپر پتا ہے کہ پولیس مار کے تشدد نہیں کرسکتی بابر غوری ہیں لندن میں ایک محمد انور ہوتے ہیں ندیم نصرت ہیں کینیڈا کے اندر صفدر علی باقری ہیں یہاں پر ریسینٹلی میں عامر خان ہیں ، خالد مقبول صدیقی ہیں ، حیدر رضوی ہیں یہ لوگ اور جولڑکے جن کا ایم کیو ایم چاہتی ہے کہ ابھی مزید ان سے کام لے اور وہ پکڑے جاتے ہیں اور ان کو گورنر سندھ کے ذریعے پروٹیکشن دلواتی ہے تھانے میں ۔صولت مرزا نے جیل میں ایم کیوایم کے سیٹ اپ اور پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں فراہم کی جانے والی سہولتوں کا بھی ذکر کیا ۔ جیل کے اندر یہ ہوتا ہے کہ وہاں پر ایم کیو ایم کے لڑکے جو پکڑے جاتے ہیں جیل میں آتے ہیں تو مجھے اور ایک دو لوگ اور جو تھے پارٹی کے ذمے دار تھے وہاں پہ ۔ ذمے دار مطلب ان کو پارٹی کے جولوگ اندر آتے ہیں ان کو ایکموڈیٹ کرنا ہوتا ہے کہ مشقت سے بچ سکیں یا ان کی کورٹ ان کی چیزیں تو اس حوالے سے ہم لوگوں کو یا مجھے پیپلزپارٹی کے حکومت کے اندر ایم کیو ایم نے فیسی لی ٹیٹ کروایا تھا کہ ہم لوگوں کی ملاقاتیں جس طرح ہمارے پاس اندر آجاتی تھیں کمروں میں آتی تھیں اور وہاں پہ فون وغیرہ کی ہم لوگوں کو سہولت تھی ۔ صولت مرزا نے الزام لگایا کہ الطاف حسین پارٹی یا عوام میں کسی کو مشہور ہوتا نہیں دیکھ سکتے اور کسی نہ کسی طرح اسے تحریک سے ہٹادیتے ہیں ۔ایم کیو ایم کے قائد کی نفسیات میں نے یہ دیکھی ہے یا ان کی میں نے یہ سوچ دیکھی ہے کہ جو ابھی پارٹی کے مشہور ہورہا ہوتا ہے اس کو عوام میں پزیرائی مل رہی ہوتی ہے تو یہ ان کو کسی نہ کسی طریقے سے تحریک سے یا پارٹی سے ہٹادیتے ہیں ۔ ہٹانے سے مراد ہے کہ جس طرح چیئرمین تھے عظیم احمد طارق ان کا مرڈر کروایا گیا الطاف حسین کی ہدایت پہ یا جس طرح ایک بہت اچھا جنہوں نے کراچی کے کام کررہے تھے جو ہر دل عزیز ہوتے جارہے تھے ناظم کراچی آپ سب جانتے ہوں گے مصطفی کمال آج وہ کہاں ہیں کسی کو نہیں پتا ان کو ذلیل کرکے نکال دیا گیا ایم کیو ایم سے تو الطاف حسین لوگوں کو اپنے برابر میں یا وہ برداشت نہیں کرپاتے کہ لوگ مشہور ہوں یا لوگوں میں ان کی پذیرائی ہو ۔صولت مرزا نے وڈیو بیان میں اپنی فیملی کو لاحق خطرات کا بھی ذکر کیا ۔ مجھے میری فیملی کی تھریٹ ، مجھے خوف کہ میں یہ سب چیزیں پہلے کرجاوں تو فیملی کو نقصان نہ پہنچے اور میں کررہا ہوں اور مجھے یہ ابھی بھی ڈر ہے۔صولت مرزا نے مقتدر حلقوں سے اپیل کی کہ ان کی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد موخر کیا جائے ۔ میں پھانسی کی سزا اپنی ختم کرنے کی بات نہیں کررہا لیکن میں پاکستان کے تمام مقتدر حلقوں سے یہ اپیل کروں گا جن کے ہاتھ میں اختیار ہے کہ میری سزائے موت کو کچھ آگے بڑھایا جاسکے کہ ایسے بہت سے ساتھی جو کہ کونٹیکٹس میں آئے ہیں مختلف طریقے سے جو ملک سے باہر ہیں جو اپروول بن سکتے ہیں یا وہ کم از کم وہاں بیٹھ کر ملک کے اندر اور باہر بیٹھ کے جو کہ کنفیس کرسکتے ہیں کہ ایم کیو ایم نے ان کے ساتھ کیا کیا اور ان سے کیا کروایا ۔ وہ لوگ جو صاحب اختیار ہیں صاحب اقتدار ہیں میں ان سے یہ اپیل کرتا ہوں کہ آئیں مجھ سے بات کریں میرے جو چیزیں ہیں میں ادھر دینا چاہتا ہوں جہاں پہ اس کا مزید اثر ہو جس میں عمل کرکے آپ کچھ حاصل کرسکیں اور کراچی میں امن لاسکیں ۔ سب سے بڑی بات کراچی میں امن لاسکیں ۔ ورنہ اسی طرح لوگ پیدا ہوتے رہیں گے برین واش ہوتے رہیں گے اور یہ سب چیزیں چلتی رہیں گی ۔ صولت مرزا کے وڈیو بیان کے بعد ان کی سزائے موت 72 گھنٹے کے لیے موخر کردی گئی ہے ۔ اس دوران یقیناً ان سے معلومات حاصل کی جائیں گی جس کے نتیجے میں مزید سنسنی خیز انکشافات کی توقع ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

سرجانی ٹائون سے لاپتہ 8 سالہ عروہ بازیاب

کراچی، پیر کے روز سرجانی ٹائون سیکٹر ڈی فور میں گھر کے باہر سے لاپتہ ہونےوالی 8 سالہ عروہ فہیم بازیاب، پولیس...

بدھ اور جمعہ کو سی این جی اسٹیشنز بند رہیں گے

کراچی، سندھ بھر کے سی این جی اسٹیشنز بدھ اور جمعہ کو بند رہیں گے، ذرائع کے مطابق بدھ اور جمعہ کو...

لیاقت آباد، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ٹیم پر حملہ

کراچی، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ٹیم پر لیاقت آباد میں حملہ، ذرائع ایس بی سی اے کے مطابق لیاقت آباد...

گزری، نجی بینک میں آتشزدگی،فائر بریگیڈ کی گاڑیاں روانہ

کراچی، گذری میں نجی بینک میں آتشزدگی، کنٹونمنٹ بورڈ کی گاڑیاں آگ پر قابو پانے کےلئے روانہ، ذرائع کے مطابق بینک میں...