’’سینئر ‘‘(عمار ابن ضیاء )

Cyberbullying051015’’جناب، آپ کو ایسی بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔‘‘
’’او بھائی، خیال سے، ’وہ‘ سینئر ہیں۔‘‘
’’سر، آپ نے فلاں فلاں الزام لگایا، آپ کے پاس کوئی ثبوت ہے؟‘‘
’’ارے، ’وہ‘ سینئر ہیں۔‘‘
’’ویسے کیا کمی تھی کہ آپ بھی ایسی حرکتوں پر اتر آئے؟‘‘
’’سب باتیں ایک طرف، لیکن ’وہ‘ سینئر ہیں۔ کم از کم اسی بات کا خیال کرلو۔‘‘
ایسے سینئروں اور اُن سینئروں کی بتیوں سے ہمیں روزمرہ زندگی میں واسطہ پڑتا ہی رہتا ہے۔ سینئر تو خیر سینئر ہوتے ہیں، لیکن سینئروں کی بتیاں وہ ہوتی ہیں جو خود سینئر نہیں ہوتیں لیکن اُن میں سینئر بننے کی حسرت ہوتی ہے، لہٰذا وہ سینئروں کی سنیارٹی کی بتی بناکر اُس سے استفادہ کرتی ہیں۔
ہر شعبے کی طرح بلاگنگ میں بھی سینئر ہونے کے بے شمار فوائد ہیں۔ لیکن فوائد گنوانے سے کوئی حاصل نہیں کہ سبھی ان سے واقف ہیں۔ اصل راز یہ ہے کہ سینئر بلاگر کیسے بنا جائے۔ ہم تو الحمد للہ دس سال کی بلاگنگ کے بعد بھی سینئر نہیں بن سکے، لیکن ہاں ان دس سالوں میں بہت سوں کو سینئر بنتے دیکھا۔ تو تجربے اور مشاہدے کی بنیاد پر کچھ عرض کرتے ہیں۔ مشورہ اگرچہ مفت ہے لیکن اس کے نتائج کی ذمہ داری ہم پر ہرگز نہ ہوگی۔
1۔ تاریخ سے رشتہ جوڑیں۔
سب کو بتائیں کہ آپ بہت قدیم بلاگر ہیں۔ ڈرنے کی کوئی بات نہیں، اُردو بلاگنگ کے ابتدائی پلیٹ فارمز اب نابود ہوچکے ہیں، ان کی کوئی تاریخ موجود نہیں۔ کسی بھی ایسے بلاگنگ پلیٹ فارم پر بلاگ بنانے کا دعویٰ کرلیں کہ 1857ء میں فلاں فلاں نام سے بلاگ بنایا تھا۔
2۔ ہر بات میں ٹانگ اڑائیں۔
جہاں اُردو بلاگنگ سے متعلق کوئی بات ہو، پہنچ جائیں اور تبصرہ کرنا اپنا فرضِ عین سمجھیں۔ جن لوگوں کا اُردو بلاگنگ سے کوئی تعلق نہ ہو اور وہ کبھی اُردو بلاگنگ کی بات کر بیٹھیں تو وہاں سب سے پہلے پہنچنے کی کوشش کریں اور خود کو ایسے ظاہر کریں کہ اُردو بلاگنگ کے کرتا دھرتا آپ ہی ہیں، اور آپ ہی کے وجودِ ’’زن‘‘ ہے تصویرِ بلاگنگ میں رنگ۔
3۔ خود کو قائد سمجھیں۔
قائدِ اعظم سمجھنا مشکل ہو تو قائدِ تحریک کی مثال بھی موجود ہے۔ ہر معاملے کی قیادت کرنے کی سرتوڑ کوشش کریں۔ جس تقریب یا معاملے میں قیادت نہ مل سکے، اسے ملک دشمن، دین بیزار، سامراجی ایجنڈا، صیہونی سازش اور بکواس قرار دیں۔ فاروق درویش بن جائیں۔ جس تقریب میں آپ کی خاطر خواہ پذیرائی نہ ہو اسے فلاپ قرار دیں۔ بہتر ہے کہ ایسی تقاریب ختم ہونے سے پانچ منٹ پہلے باہر نکل جائیں تاکہ بعد میں کہہ سکیں کہ میں تو احتجاجاً تقریب ہی ادھوری چھوڑ آیا تھا۔
4۔ ساتھ دیں اور چھوڑ دیں۔
جب کوئی نیا کام کرنے لگے تو آپ اس کے ساتھ کی ہامی بھریں۔ جب وہ آگے بڑھتا محسوس ہو تو ساتھ چھوڑ دیں اور اپنے چیلوں کے ذریعے اُس کی خوب ٹانگ کھینچیں۔ بات بے بات اعتراضات کریں۔ کسی کو کامیابی کی مبارک باد دینے کی مجبوری آن پڑے تو منفی پہلو کی وضاحت سے نہ چوکیں۔ اور کچھ نہ ملے تو یہی کہہ دیں کہ غیروں سے تعاون لینے کی بجائے آپ ہی سے رابطہ کرلیا گیا ہوتا۔ سامنے والے کا دامن صاف ہو تو اس کے ساتھ تعاون کرنے والوں میں نقص تلاش کریں۔ (’’ریما کے گھر کے پاس ایک شخص کو کتے نے کاٹ لیا‘‘ اور ’’عمران خان کے دوست کی اہلیہ کا نام پاناما لیکس میں آگیا‘‘ جیسی مثالیں پیشِ نظر رکھیں۔)
5۔ الزامات لگائیں۔
تمام بڑے لوگ الزامات لگاتے ہیں۔ یہ شہرت حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ آپ بھی الزامات لگائیں۔ مخالفین کو سرِ بازار ننگا کردیں۔ جب کچھ دنوں تک ماحول پُر امن محسوس ہو، کوئی شرلی چھوڑ دیں۔ کبھی ایسی کسی بات کا دعویٰ کردیں جو ہوئی ہی نہ ہو اور کبھی کسی وقوع پذیر بات سے مکر جائیں اور سامنے والے کو جھوٹا، مکار، فریبی اور خفیہ ایجنڈے پر کارفرما قرار دیں۔ دلائل نہ بھی ہوں تو ایسے نڈر بنے رہیں جیسے’ئل‘ کے بغیر لفظ ’دلائل‘۔ بس، الزامات لگائیں۔
6۔ الزامات واپس لے لیں۔
الزامات لگالیے؟ اب الزامات واپس لے لیں۔ جن الزامات میں آپ کے پاس دلائل ہوں، وہ الزامات تمام تر دلائل پیش کرنے کے بعد واپس لیں تاکہ مخالف اچھی طرح رسوا ہوجائے۔ جہاں آپ کے پاس دلائل اور ثبوت کی کمی ہو، وہاں اچھی طرح گند پھیلانے کے بعد اجتماعی مفادات کے پیشِ نظر الزامات واپس لے لیں تاکہ لوگوں کے دلوں میں شکوک و شبہات تو گھر کرجائیں۔ الزامات واپس لینے سے واضح ہوگا کہ آپ کتنے بڑے ’وہ‘ ہیں۔ ارے سینئر!
وقتاً فوقتاً لوگوں پر واضح کرتے رہیں کہ آپ اُردو بلاگنگ کے چاچے مامے نہیں ہیں، یہ کہنے سے لوگوں کے ذہن میں یہ خیال زور پکڑے گا کہ دراصل آپ ہی اُردو بلاگنگ کے چاچے مامے ہیں۔
فی الحال ان چھ مشوروں کو غنیمت جانیے۔ ہاں، بس یہ یاد رکھیے کہ وہ زمانے لد گئے جب سینئروں کی ہر بھلی بری بات اُن کی سنیارٹی کی بنیاد پر برداشت کرلی جاتی تھی۔ اب کی نسل منافق نہیں ہے، بڑی کھری ہے۔ اچھی بات پر ساتھ پائیں گے تو بری بات پر ایسا جواب پائیں گے کہ بتیاں سلگ جائیں گی۔

عمار ابن ضیاء بلاگر ہیں۔ ان کی مزید تحریریں پڑھنے کے خواہش مند یہاں کلک کریں 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top