Wednesday, October 21, 2020
Home اسلام خطبہ شعبان (حافظ عاکف سعید)

خطبہ شعبان (حافظ عاکف سعید)

shaban1حضرت سلمان فارسیؓ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ نے شعبان کے آخری دن ہم سے خطاب فرمایا۔ آپ نے فرمایا: ”اے لوگو! تم پر وہ مہینہ سایہ فگن ہوا جاتا ہے جو بہت عظمت اور برکت والا ہے۔“ برکت والی شے کیا ہوتی ہے ؟جس میں بڑھوتری ہو۔ اس ماہ کی برکات کی مثالیں آگے آئیں گی، کہ اس میں کس کس پہلو سے برکات ہیں۔ البتہ اس کی برکت کی ایک مثال تو یہیں سامنے آ گئی کہ آپ نے فرمایا ”اس ماہ میں ایک رات وہ ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے“ اس کا مفہوم کیا ہے؟ یہ کہ ہزار مہینوں کی عبادت، ہزار مہینوں میں مسلسل کی گئی نیکیوں کو ایک طرف رکھا جائے اور اس ایک رات میں کی گئی عبادت ایک طرف، تو اس ایک رات والا پلڑا بھاری ہو گا۔ لیلة القدر کا ہزار مہینوں پر بھاری ہونا رمضان کی برکت کی انتہا ہے۔اس سے زیادہ کا ہم تصور بھی کر نہیں سکتے۔ یہ بات قرآن مجید میں بھی آئی ہے: ”ہم نے اس (قرآن) کو شبِ قدر میں نازل (کرنا شروع) کیا۔ اور تمہیں کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے؟۔ شب قدر ہزار مہینے سے بہتر ہے۔ “ اور اس مہینے کو جو خاص فضیلت ہے وہ اسی نزول قرآن کی نسبت سے ہے۔روزہ اور قرآن کی آپس میں بڑی گہری نسبت اور تعلق ہے۔ اِسی لیے اللہ تعالیٰ نے روزے کی عبادت کے لیے بارہ مہینوں میں اس مہینے کو مخصوص کیا ہے۔ فرمایا: رمضان کا مہینہ (وہ ہے) جس میں قرآن نازل ہوا جو لوگوں کا رہنما ہے اور (جس میں) ہدایت کی کھلی نشانیاں ہیں اور (جو حق و باطل کو) الگ الگ کرنے والا ہے۔ “(البقرہ۔۵۸۱)    آگے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اس مہینے میں روزہ رکھنا فرض کر دیااور اس مہینے کی راتوں میں قیام کو نفل عبادت مقرر کیا ہے۔“ رمضان میں دن کا روزہ ہر عاقل و بالغ مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے جیسا کہ اُس پر دین کی دیگر ذمہ داریاں عائد ہوتی ہےں۔یہ بات سورة البقرہ کے 23 ویں رکوع میں آئی ہے۔ ”تو جو کوئی تم میں سے اس مہینے میں موجود ہو چاہیے کہ پورے مہینے کے روزے رکھے۔ “ اِس کے بعد آپ نے فرمایا: ”جو شخص بھی اس مہینے میں اللہ کا قرب چاہے گا کسی غیر فرض (کسی نفلی عبادت) کے ذریعے تو نفل عبادت کا ثواب اتنا ہے جتنا دوسرے مہینوں میں کوئی فرض ادا کرے، اور جس کسی نے اس مہینے میں کوئی فرض ادا کیا، اس کے لیے اتنا ثواب ہے جیسے کہ دوسرے مہینوں میں ستر فرائض انجام دے۔“ یعنی نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ستر گنا ثواب ہے۔
آگے فرمایا: ”یہ صبر کا مہینہ ہے، اور صبر کا بدلہ جنت ہے۔“ روزہ میں صبر کی ٹریننگ دی جاتی ہے۔ صبر یہی نہیں ہے کہ کوئی شخص تھپڑماردے تو انسان جو اب نہ دے، بلکہ ایک اعلیٰ مقصد کی خاطر ہر قسم کی مشقت اور تکلیف جھیلنا بھی صبر ہے۔ انسان میں حدود اللہ کو پھلانگنے کا رجحان ہے ، گناہ، معصیت اور نفسانیت کی طرف میلان ہے۔ اپنے آپ کو گناہ سے روکنا بھی صبر ہے۔ اِسی طرح اللہ کی اطاعت کرنا، بندگی بجالانا، پنج وقتہ نماز ادا کرنا یہ بھی آسان نہیں ہے۔ اس کے لیے بھی استقامت کی ضرورت ہے۔ یہ استقامت بھی صبر ہے۔ یوں صبر کے بے شمار مدارج ہیں، جن کا اس مہینے میں امتحان ہوتا ہے۔ چونکہ صبر بہت بڑی آزمائش ہے، لہٰذا اس کا اجر و ثواب جنت ہے۔
آگے فرمایا: ”یہ باہمی ہمدردی اور غمگساری کا مہینہ ہے۔“ اس مہینے خصوصاً ایک دوسرے کے لیے مودت اور رحمت کے جذبات پیدا ہونے چاہئیں کہ میرا یہ بھائی بھی روزے سے ہے۔ ہمارے ہاں خاص طور پر شہروں میں ایک طبقہ وہ بھی ہے جنہیں معلوم ہی نہیں کہ فاقہ کیا چیز ہوتی ہے اور وہ لوگ کہ جنہیں دو دو وقت کی روٹی میسر نہیں ان پر کیا بیتتی ہے۔ لیکن اس مہینے میں جب یہ لوگ روزہ رکھتے ہیں تو انہیں کچھ نہ کچھ اندازہ ضرور ہو جاتا ہے کہ بھوک کی حالت میں انسان کی کیفیت کیا ہوتی ہے۔ محروم طبقات جن کے گھر کئی کئی روز تک چولہا نہیں جلتا، وہ کس مصیبت میں مبتلا ہیں۔ اور پھر جب وہ خود مشقت سے گزرتے ہیں تواُن میں ناداروں، فقراءاور محتاجوں کے لیے ہمدردی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔
اس کے بعد اس ماہ مبارک میںرزق کی برکت کا ذکر فرمایا: ”یہ مہینہ وہ ہے جس میں بندہ¿ مومن کے رزق میں اضافہ ہوتا ہے۔“ اللہ کے رسولﷺ تسلی دے رہے ہیں کہ گھبراﺅ نہیں، اس ماہ مبارک میں مومنوں کے رزق میں اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ چنانچہ یہ بات ہر آدمی محسوس کرتا ہے کہ اس مہینہ اللہ تعالیٰ جو مسبب الاسباب ہے،اُس کے رزق اور وسائل رزق میں برکت ڈال دیتا ہے۔ افطاری کے موقع پر غریب اور امیر دونوں کے دسترخواں پر عام دنوں کے مقابلے میں کھانے کی چیزوں میں جو تنوع پایا جاتا ہے، وہ مومن کے رزق میں اضافے کا مظہر ہے۔
اس کے بعدآپ نے روزہ افطار کرانے والے کے اجر کا ذکر فرمایا: ”جو شخص رمضان میں اپنے کسی بھائی کو روزہ افطار کروائے، تو اس کا یہ عمل اس کے لیے مغفرت اور آگ سے چھٹکارے کا ذریعہ بن جائے گا۔“ اندازہ کیجئے، روزہ دار کو افطار کرانا اللہ کو کس قدر پسند ہے کہ اِسے آگ سے رہائی کا ذریعہ بنایا گیا ہے۔
”اور روزہ افطار کروانے کے لیے بھی اتنا ہی اجر ہے جتنا روزہ رکھنے والے کا۔ بغیر اس کے کہ اس روزے دار کے اجر میں کچھ کمی کی گئی ہو۔“ یہ اللہ کی رحمت کا مظہر ہے کہ روزے دار کو جتنا اجر ملتا ہے اتنا ہی اجر افطار کرانے والے کو ملتا ہے۔ لیکن روزے دار کے اجر میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں کی جاتی۔ اس کا اجر اپنی جگہ پور ا ہے۔ ایک حدیث قدسی ہے۔ حضرت ابوہرہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”ہر انسان کے(نیک) عمل کو دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھایا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مگر روزے کا معاملہ دیگر نیکیوں سے مختلف ہے۔ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا، میری وجہ سے ہی وہ اپنا کھانا پینا چھوڑتا ہے۔ روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں۔ ایک خوشی اس کے افطار کے وقت اور ایک خوشی اپنے رب کی ملاقات کے وقت اور یقینا اس کے منہ کی بُو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے۔“ روزہ کی شان ہی اور ہے۔ بندہ¿ مومن شدید بھوک پیاس میں بھی اللہ کی رضا کے لئے کھانا پینے سے رُکا رہتا ہے۔ یہ عمل اللہ کو اپنا پسند ہے کہ اس کا اجر بے حدوحسا ب ہے۔
جب نبیﷺ نے روزہ افطار کرانے کے اجر کی بات ارشاد فرمائی تو حضرت سلمان فارسی ؓنے کہا : ”اللہ کے رسولﷺ ہم میں سے ہر شخص کے لیے تو یہ ممکن نہیں ہے(پھر تو ہم اس ثواب سے محروم رہ گئے)۔“ ہر شخص کے حالات ایسے نہیں ہوتے کہ وہ کسی دوسرے کو افطار کروائے۔ آپؓ خود بھی فقرائے صحابہ میں سے تھے۔ دن فاقے سے ہوتے تھے۔ تو جب کسی کے پاس کچھ نہیں ہے تو افطار کیسے کروائے گا اور یوں افطار کرانے کے اجر سے محروم رہ جائے گا۔ اِس پر آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ یہ اجر و ثواب اس مسلمان کو بھی عطا کر دیں گے جو دودھ کی تھوڑی سی لسی یا پانی کے ایک گھونٹ کے ساتھ اپنے کسی مسلمان بھائی کا روزہ افطار کرواتا ہے۔“ اس سے مراد کیا ہے؟ اگر کسی شخص کو صرف لسی یا پانی ہی میسر تھا اور اُس نے ثواب کی نیت سے اُسی کے ساتھ اپنے مسلمان بھائی کو روزہ افطار کرا دیا، تو اِسے افطار کا ثواب مل جائے گا۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ خوداپنے دسترخوان پر تو انواع و اقسام کے کھانے ہوں، اور دوسروں کو پانی سے افطار کرادیا جائے ۔
آگے فرمایا:” جو کوئی کسی روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھانا کھلا دے۔ (اُس کا اجر یہ ہے کہ) اللہ اُسے میرے حوض (یعنی کوثر) سے ایسا سیراب کرے گا کہ جس کے بعد اُسے کبھی پیاس نہیں لگے یہاں تک کہ جنت میں پہنچ جائے گا۔“ روزہ دار کو حوض کوثر سے سیراب کیا جائے گا جس کی تاثیر سے آدمی میدان حشر کے تمام سخت مراحل سے گزر کر جنت تک پہنچ جائے گا، مگر اسے پیاس نہیں ستائے گی۔ اگرچہ اپنے دوستوں اور عزیزوں کو بھی افطاری پر بلانا باعث برکت اور باعث اجر و ثواب ہے، لیکن اصل مقصود کیا ہے کہ افطار کے لیے محلے کے ناداروں کو بلایئے، جنہیں سال کے دوسرے مہینوں میں پیٹ بھر کر کھانے کا موقع کبھی کبھار ہی ملتا ہے۔ جن کے بچوں کے دلوں میں یہ حسرتیں ہوتی ہیں کہ کبھی ہم بھی وہ کھانا کھائیں جو ہمارے امراءکھاتے ہیں، ایسے لوگوں کو بلا کر کھانا کھلائیں ۔ اس کا بہت اجر و ثواب ہے۔
یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کو سمیٹنے کا موقع ہے۔ اس سے فائدہ اٹھا لیں یعنی دن کو روزہ رکھیں اور روزہ رکھنے میں وہ شرائط و آداب اور قواعد و ضوابط ملحوظ رہنے چاہئیں جو احادیث میں بیان ہوئے ہیں۔ چاہیے کہ ہم جھوٹ بولنے اور حرام کھانے اور دوسرے گناہوں سے اپنے آپ کو بچائیں۔ اگر ہم جھوٹ بول رہے ہوں، غلط کام کر رہے ہوں، نماز چھوڑ رہے ہوں تو محض بھوکا پیاسا رہنے کا نام روزہ نہیں ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جو شخص (روزے کی حالت میں) جھوٹ بولنا اور اُس پر عمل کرنا ترک نہیں کرتا تو اللہ کو اِس کی کوئی حاجت نہیں کہ وہ کھانا پینا چھوڑ دے۔ روزے میں جب ہم بعض حلال چیزوں سے بھی بچتے ہیں تو جو غلط کام اور غیر شرعی اعمال ہیں، ان سے باز رہنا تو مقدم ہے۔ پھر یہ کہ دن کے روزے کے علاوہ ہم رات کا کچھ حصہ قرآن کے پڑھنے، سننے، سمجھنے میں گزاریں۔ اِس سے امید ہے کہ ہم اللہ کی رحمت کے مستحق ٹھہریں گے۔ پھر یہ کہ جو شخص رمضان کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اس ماہ اللہ سے مغفرت طلب کرے گا، اللہ اُس کو معاف فرمائے گا۔ ہماری ساری محنت اِسی لیے ہے کہ آخرت میں نار جہنم اور عذاب الیم سے بچ سکیں۔ قرآن کہتا ہے کہ جو(جنم کی)آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا بس وہ تو کامیاب ہو گیا۔ اللہ ہمیں آخرت کی کامیابی عطا فرمائے( آمین)
رسول کریم ﷺ کے خطبہ کے آخری الفاظ ہیں: ”جو شخص اس مہینے میں اپنے کسی ملازم (خدمت گار) کے کام میں تخفیف کرے….“ (یعنی اوقات کارکم کر دے گا، مشقت کم ڈالے گا اس خیال سے کہ میرا بھائی بھی روزے سے ہے) اللہ تعالیٰ اس کو معاف فرما دیں گے، اُسے جہنم کی آگ سے بچا لیں گے۔“
ہمیں نیکیوں کے اس موسم بہار سے بھرپور فائدہ اُٹھانا چاہیے۔اگر ہم پورے شعور سے اس ماہ بابرکات کے دنوں میں روزہ رکھیں گے اور رات کو قرآن کے ساتھ اللہ کے حضور کھڑے رہیں گے تو اس پر مغفرت اور شفاعت کی بشارت دی گئی ہے۔ حضرت ابوہریرہؓسے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:”جس نے رمضان کے روزے رکھے ایمان اور اجر وثواب کی اُمید کے ساتھ اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے گئے، اور جس نے رمضان (کی راتوں) میں قیام کیا(قرآن سننے اور سنانے کے لیے) ایمان اور اجر وثواب کی اُمید کے ساتھ اس کے بھی تمام سابقہ گناہ معاف کر دیے گئے، اور جولیلة القدر میں کھڑا رہا (قرآن سننے اور سنانے کے لیے) ایمان اور اجر وثواب کی اُمید کے ساتھ اس کی بھی سابقہ تمام خطائیں بخش دی گئیں ۔“ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”روزہ اور قرآن(قیامت کے روز) بندے کے حق میں شفاعت کریں گے۔ روزہ عرض کرے گا:اے رب! میں نے اس شخص کو دن میں کھانے پینے اور خواہشات نفس سے روکے رکھا، تو اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما اور قرآن یہ کہے گا: اے پروردگار! میں نے اسے رات کے وقت سونے (اور آرام کرنے) سے روکے رکھا، لہٰذا اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما! چنانچہ (روزہ اور قرآن) دونوں کی شفاعت بندے کے حق میں قبول کی جائے گی(اور اس کے لیے جنت اور مغفرت کا فیصلہ فرما دیا جائے گا)۔“

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

گلشن اقبال، مسکن چورنگی کے قریب دھماکے کی ابتدائی رپورٹ تیار ہوگئ

کراچی: گلشن اقبال، مسکن چورنگی کے قریب دھماکے کی ابتدائی رپورٹ تیار ہوگئی، پولیس کے مطابق دھماکہ گیس لیکیج کا معلوم ہوتا...

دھماکہ کیسے ہوا؟ ایس ایچ او مبینہ ٹاؤن نے دعویٰ کر دیا، آئی جی سندھ نے کی رپورٹ طلب

آئی جی سندھ مشتاق مہر نے دھماکے پر ایس ایس پی ایسٹ سے تفصیل طلب کرلی آئی جی سندھ نے کہا ہےکہ...

گلشن اقبال، مسکن چورنگی کے قریب دھماکہ

گلشن اقبال، مسکن چورنگی کے قریب دھماکہ،ریسکیو کے مطابق دھماکہ 2 منزلہ عمارت میں ہوا,دھماکے سے عمارت کا ایک حصہ گر گیا،متعدد...

آئی جی سندھ کا چھٹیاں موخر کرنے کا فیصلہ

کراچی: انسپکٹر جنرل سندھ مشتاق مہر نے انکوائری کا فیصلہ آنے تک چھٹیاں موخر کرنے کا فیصلہ کرلیا,آئی جی سندھ پولیس مشتاق...