Wednesday, October 21, 2020
Home Trending آرمی پبلک اسکول کے باہر ہونے والا احتجاج مکافات عمل ہے،سینیٹر شاہی...

آرمی پبلک اسکول کے باہر ہونے والا احتجاج مکافات عمل ہے،سینیٹر شاہی سید

shahi-syedعوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف غیر واضح موقف رکھنے والوں کو عوام کے غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑے گا پروٹوکول کے خلاف واویلا کرنے والے خود اس کا شکا ر ہوگئے ہیں،ہم کسی کے ’’گو ‘‘کے حق میں نہیں ہیں انتخابی مہم میں عوام کو سنہرے خواب دکھانے والے آج اقتدار میں آنے کے بعد اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنائیں ملک بچانے کے لئے غیر معمولی فیصلے کرنا وقت کی ضرورت ہے اوراس کے لئے ہمیں تلخ گھونٹ پینے ہوں گے گزشتہ روز آرمی پبلک اسکول کے باہر ہونے والا احتجاج مکاافات عمل ہے جس میں اے این پی کو ملوث کرنا بدنیتی ہے، چار ماہ تک احتجاجی دھرنے دینے والے خود ایک گھنٹے کا احتجاج برداشت نہ کرسکے، آرمی پبلک سکول پر حملے کی ذمہ داری فوج پر ڈالنے کی مذمت کرتے ہیں دہشت گرد اسکول میں پیراشوٹ کے ذریعے داخل ہوئے تھے یا زمینی راستہ استعمال کرکے داخل ہوئے تھے ؟ معصوم شہیدوں کے خون پر سیاست کرنے والے پر خدا کی لعنت ہو اکسیویں ترمیم پر تمام پارٹیوں کوترمیمی مسودہ فراہم کیاگیا اجلاس میں تمام پارٹیاں اکسیویں ترمیم پر متفق تھیں لیکن اب مذہبی جماعتیں باہر آکر واویلا کرنے لگی ہیں ہم بھی آخری وقت تک ترمیم کے خلاف تھے لیکن فوج آئینی تحفظ مانگ رہی تھی اورہم نے ٹوٹے دل سے ترمیم کا ساتھ دیا دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ پاکستان کی بقاء کی جنگ ہے اس لئے تمام پارٹیوں اورحکومت کو باہمی اتحاد واتفاق کا مظاہر ہ کرناہوگا، اس وقت غیر معمولی صورتحال کا سامناہے اگر ہمارے بزرگوں کی بات مان لی جاتی تو اس قدر بھاری قیمت ادا نہ کرناپڑتی، دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے پاکستان اورافغانستان کے د رمیان اعتمادکی فضا قائم ہوئی ہے اور دونوں ملکوں کو ریاستی سطح پر اس کے خلاف مربوط کوششیں جاری رکھناہونگی۔ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے سیاست سے بالا تر ہوکر سوچنا ہوگا، کپتان صاحب ہماری حکومت میں وزیرستان جانے کے لیے بے تاب تھے آج وزیرستان جانے کی ہمت کیوں نہیں کررہے ہیں؟ان خیالات کا اظہار انہوں نے مردان ہاؤس میں خیبر پختون خوا اور قبائلی علاقہ جات سے تعلق رکھنے والے کراچی کی مختلف جامعات اور کالجز میں زیر تعلیم طلبا ء کے وفد کے ساتھ ایک طویل نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،انہوں نے مذید کہا کہ رہبر تحریک خان عبدالولی خان نے 1985 میں لنڈی کوتل میں ایک جلسے میں کہا تھا کہ بیرونی امداد سے چلنے والے مدارس کا آڈٹ کیا جائے مگر اس وقت ہمارا مذاق اڑایا گیا، ہم کہتے تھے کہ دہشت گردی کے مراکز ملک بھر میں موجود ہیں ان کے خلاف کاروائی کی جائے ،ہم کہتے تھے کہ نام بدل کر کام کرنے والی کالعدم تنظیموں پر پابندی لگائی جائے مگر ہماری بات نہ مانی گئی ،ہمارا موقف تھا کہ خارجی پالیسی پر نظر ثانی کی جائے تو ہمیں غدار کہا گیا ،ہم کہتے تھے کہ گڈ اور بیڈ کے چکر میں نا پڑا جائے یہ پالیسی ہمارے گلے پڑے گی ہم پر ہنسا گیااقتدار کے حصول کے بجائے قیام امن کے لیے میدان عمل میں ہیں،

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

کورونا وائرس، حکومت کا کئی شعبوں کی بندش پر غور

کراچی، نیشنل کمانڈ آپریشن سینٹر کا اجلاس وفاقی وزیر اسد عمر کے زیر صدارت ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ جس...

مسکن چورنگی دھماکے سے متاثرہ عمارت کو گرانے کا فیصلہ

کراچی، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے مسکن چورنگی پر دھماکے سے متاثرہ عمارت کو مخدوش قرار دے دیا، ایس بی سی اے...

کراچی، گورنر سندھ عمران اسماعیل پی آئی اے کی پرواز308 کے ذریعے اسلام آباد پہنچ گئے، ان کے ہمراہ رکن قومی اسمبلی...

کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں دھماکے سے 5 افراد جاں بحق

گلشن اقبال میں واقع ایک رہائشی عمارت میں دھماکے کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق جب کہ 27 زخمی ہوگئے۔