رمیش کمار نے مسلمان پارلیمنٹیرین کے لیے مشکل کھڑی کر دی (انصار عباسی)

1پابندی ختم، سندھ میں شراب خانے دوبارہ کھل گئے۔ سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ سندھ حکومت نے صوبے بھر میں شراب خانے کھولنے کے متعلق نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے شراب پر فروخت سے پابندی کے متعلق سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو گزشتہ ہفتے دوبارہ ہائی کورٹ کو بھیجتے وقت کہا تھا کہ وہ شراب کی فروخت پر پابندی ختم نہیں کر رہے بلکہ صرف یہ حکم دے رہے ہیں کہ عدالت شراب فروخت کرنے والوں کا بھی موقف سن لے۔ اس سلسلے میں سپریم کورٹ کے متعلقہ بنچ کے سربراہ محترم جسٹس ثاقب نثار کا بیان اخباروں کی زینت بھی بنا۔ لیکن بلاول بھٹو زرداری کی زیر قیادت سندھ میں پی پی پی کی حکومت لبرل ازم کے جنون میں سرحدوں کو پار کرنے کے در پر ہے جس کی ایک بڑی مثال سندھ اسمبلی کا وہ حالیہ قانون ہے جس کے مطابق کوئی نابالغ سیاست تو کر سکتا ہے اور کسی سیاسی پارٹی کا لیڈر بھی بن سکتا ہے لیکن وہاں اٹھارہ سال سے کم عمر کا غیر مسلم شہری بالغ ہوتے ہوئے بھی اسلام قبول نہیں کر سکتا۔
اسی صوبے میں حال ہی میں اسکولوں میں ڈانس سکھانے پر پابندی لگانے پر محکمہ تعلیم کے متعلقہ افراد کے خلاف ایکشن لیا گیا اور بلاول بھٹو اور وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کی طرف سے ڈانس کو سندھ کی ترقی کے ساتھ جوڑا گیا۔ اب جب ڈانس ہو گا، ناچ گانا ہو گا تو شراب پر پابندی کیسی؟ پاکستان کے دوسرے حصوں میں بھی شراب فروخت ہوتی ہے اور پی بھی جاتی ہے لیکن صوبہ سندھ میں شراب اتنی فروخت ہوتی ہے کہ کوئی اندازہ نہیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ یہ گھنائونا کاروبار اقلیتوں کے نام پر کیا جا رہا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ نے اس کیس کو سنتے وقت کہا تھا کہ اقلیتوں
2
کے نام پر صوبے بھر میں اتنی شراب بیچی جاتی ہے کہ اس سے وہ نہانا چاہیں تو نہا بھی سکتے ہیں۔ صوبہ سندھ میں صرف لائسنس یافتہ شراب کی 120 سے زیادہ دکانیں ہیں جبکہ اس کے علاوہ 23 ہول سیل ڈیلرز شراب کی فروخت میں شامل ہیں جن پر سندھ ہائی کورٹ نے فوری پابندی عائد کی تھی جو اب ختم ہو چکی اور اب صوبہ سندھ دوبارہ لبرل ازم اور ترقی پسندی کی منزل کی طرف گامزن ہے ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سندھ کے بااثر لوگ جن میں سیاستدان بھی شامل ہیں وہ بھی اس کاروبار سے منسلک ہیں۔ دیسی شراب صوبہ سندھ میں کتنی بیچی جاتی ہے اس کا کسی کو شاید اندازہ ہی نہیں۔ ہاں دیسی شراب سے سالانہ مرنے والوں کی تعداد کا پتا ضرور لگایا جا سکتا ہے۔
شرم تو رہی نہیں اور اس کا تعلق کسی ایک علاقے سے نہیں ۔ شرم کی بات اس لیے کر رہا ہوں کہ سندھ ہائی کورٹ کے سامنے اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے مذہبی رہنما پیش ہوئے اور ہر ایک نے کہا کہ ہندومت میں شراب پینے کی اجازت ہے اور نہ ہی عیسائیت یا کسی دوسرے مذہب میں اسے جائز سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود اقلیتوں کے نام استعمال کر کے پاکستان میں شراب بیچی جاتی ہے۔ اقلیتوں کے نام پر یہ دھندہ اسلام آباد سمیت پورے ملک میں جاری ہے جس پر متعلقہ حکومتیں اور اسمبلیاں
4
سب خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ ایسے میں آفرین ہے سندھ سے اقلیتی رکن قومی اسمبلی جناب ڈاکٹر رمیش کمار جنہوں نے نہ صرف اس مسئلے پر سندھ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں یہ موقف پیش کیا کہ شراب کی ہندو مذہب میں کوئی اجازت نہیں اس لیے اقلیتوں کے نام پر اس کی فروخت پر پورے ملک میں پابندی لگائی جائے بلکہ انہوں نے قومی اسمبلی میں آئین میں ترمیم کرنے کا ایک بل پیش کر دیا جس کا مقصد یہ ہے کہ اقلیتوں کے نام پر شراب کی فروخت کو پاکستان میں روکا جائے۔ ڈاکٹر رمیش کو برا جانا جاتا ہے اور اسی لیے اسے پینے کی ممانعت ہے۔ رمیش کمار نے آئین کے آرٹیکل 37 کے متعلقہ سیکشن میں جہاں شراب کی فروخت کو اقلیتوں کے لیے ان کے مذہبی اغراض کے لیے قانونی طور پر جائز تسلیم کیا گیا ہے، کو ترمیم کرنے کی تجویز دی ہے تاکہ اقلیتوں کے نام پر شراب کو فروخت نہ کیا جا سکے۔
3
ڈاکٹر رمیش کمار نے بہت اچھا کام کیا لیکن اپنے اس اقدام سے انہوں نے قومی اسمبلی اور پارلیمنٹ میں بیٹھے مسلمان ممبران کے لیے مشکل پیدا کر دی۔ اسلام شراب کو حرام قرام دیتا ہے لیکن ہمارے ہاں شراب پینے والے لاتعداد ہیں۔ آئینی اور قانونی طور پر کسی مسلمان کے لیے پاکستان میں شراب پینا اور اسے فروخت کرنا قابل گرفت جرم ہے۔ لیکن سب کو معلوم ہے کہ یہاں شراب پینے والوں کی کمی نہیں۔ سندھ کی بات کریں تو ذرا معلوم تو کریں کہ شراب بیچنے والوں میں کس کس کے نام آتے ہیں۔ شراب پینے اور پلانے والوں کا ہمارے ہاں ایک ایسا مافیا ہے جس میں تمام طبقوں کے افراد شامل ہیں اور جو اتنا طاقتور ہے کہ اسے حکومت کچھ کہتی ہے اور نہ ہی پارلیمنٹ، میڈیا یا کوئی دوسرا ادارہ۔
بڑے بڑے ہوٹلوں میں، مخصوص ریسٹورانوں میں، ریسٹ ہائوسوں میں شراب کا فروخت ہونا ایک معمول ہے۔ اگر کچھ سیاستدانوں کے گھر شراب پینے پلانے کے لیے مشہور ہیں تو کئی پریس کلبوں میں بھی یہ حرام مشروب باآسانی ملتا ہے۔ پینے والوں کو گھر میں یا دفتر یا کسی دوسری جگہ بھی شراب ملنا یہاں کوئی مسئلہ نہیں۔ شراب کی پارٹیاں بھی یہاں عام ہوتی ہیں جس کے لیے کچھ سیاستدان بھی کافی مشہور ہیں۔ پارلیمنٹ لاجز میں بھی شراب کا باآسانی میسر ہونا وہ الزام ہے جو پارلیمنٹیرین ڈاکٹر رمیش کمار کے آئینی بل کے ساتھ کیا معاملہ کرتی ہے۔ آنے والے دن فیصلہ کریں گے کہ آیان لیگ، تحریک انصاف، پی پی پی، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام، ایم کیو ایم، عوامی نیشنل پارٹی وغیرہ شراب کی فروخت پر مکمل پابندی کے لیے آئین ڈاکٹر رمیش کمار کی مجوزہ ترمیم کی حمایت کرتے ہیں یا شراب مافیا جسے کُپی مافیا بھی کہا جا سکتا ہے کہ اثر و رسوخ سے دب جائیں گے۔
(بشکریہ روزنامہ جنگ)