Friday, October 30, 2020
Home Trending ہماری پولیس اور رینجرز خراج تحسین کے لائق ہیں ، شرجیل...

ہماری پولیس اور رینجرز خراج تحسین کے لائق ہیں ، شرجیل انعام میمن

sharjeel-inam-memon00سندھ کے وزیر اطلاعات و بلدیات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی میں دہشت گردی کے خاتمے اور کراچی کو جرائم پیشہ عناصر سے پاک کرنے کے لئے ایک سال قبل شروع کیا گیا آپریشن سندھ حکومت کی وہیل کی مرہون منت ہے۔ اگر سندھ حکومت پولیس اور رینجرز کو فری ہینڈ نہ دیتی تو اتنے بڑے پیمانے پر کامیابیاں نہیں مل سکتی تھی۔ ہماری پولیس اور رینجرز خراج تحسین کے لائق ہیں کہ انہوں نے خون کے نذرانے دینے کے باوجود اپنے مورال کو بلند رکھا ہو ا ہے۔ کمیونٹی پولیسنگ (سی پی ایل سی) کے آغاز کا سہرا شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے سر ہے کہ ان کے دور حکومت میں 1989 میں یہ ادارہ وجود میں آیا اور بی بی شہید اور اس وقت کے گورنر فخر الدین جی ابراہیم نے اسے اوون کیا۔ تاجر اور صنعتکار برادری کسی بھی ملک کی شہ رگ ہوتے ہیں اور ہمیں فخر ہے کہ جب بھی پیپلز پارٹی کی حکومت آئی ہم نے تاجروں اور صنعتکاروں کے مسائل کو حل کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹریز (کاٹی)سی پی ایل سی کے کورنگی یونٹ کی افتتاحی تقریب سے بحثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔

تقریب سے کاٹی کے سرپرست اعلیٰ اور معروف صنعتکار ایس ایم منیر، کاٹی کے صدر فرخ مظہر، سی پی ایل سی کے چیف احمد چنائے، میاں زاہد حسین، سینیٹر عبدالحسیب، سی پی ایل سی ملیر اور کورنگی کے چیف محمد زبیر چھایا، ایڈیشنل آئی جی کراچی عبدالقادر تھیبو،ایڈمنسٹریٹر کراچی رﺅف اختر فاروقی، خواجہ محمد جعفر اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سی پی ایل سی کا وجود کا بنیادی مقصد عوام کو تھانہ کلچر کی بجائے دوستانہ ماحول فراہم کرنا تھا اور اسی وژن کی تکمیل کے لئے شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے اس کی داغ بیل ڈالی تھی۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں امن وامان کی خراب صورت حال اور بھتہ خوری کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ برسا برس کا مسئلہ ہے اور ایک سال قبل 4 ستمبر 2013 کو کراچی میں آپریشن کا جب آغاز کیا گیا تو اس میں سندھ حکومت کی مکمل وہیل شامل تھی اور یہی وجہ ہے کہ ایک سال کے دوران جہاں ہمارے بہادر اور نڈر پولیس اور رینجرز کے اہلکاروں نے 167 سے زائد جانوں کا نذرانہ پیش کیا وہاں انہوں نے دہشتگردوں ، بھتہ خوروں اور ٹارگٹ کلرز کے بڑے بڑے نیٹ ورک کا بھی خاتمہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی ہماری فورسز پر حملے اور انہیں شہید کرنے کے پس پشت وہی عوامل ہیں جو ہماری پولیس اور رینجرز کے بلند مورال کو دبانے کی سازش کررہے ہیں لیکن میں اپنی پولیس اور رینجرز کے ایک ایک افسر اور سپاہی کو سلام پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے ان قوتوں کا نہ صرف ڈٹ کا مقابلہ کیا ہے بلکہ آج بھی ان کا مورال بلند ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی آپریشن میں سندھ حکومت کی مکمل وہیل ہی کے باعث آج کراچی کی جیلوں میں اب بھی 12 ہزار سے زائد ملزم قید ہے لیکن افسوس کہ ہماری عدلیہ اس سلسلے میں وہ کام نہیں کررہی، جو انہیں کرنا چاہیے۔، انہوں نے کہا کہ کراچی آُریشن کے بعد ہم نے کیسز کے فوری حل کے لئے 5 انسداد دہشتگردی کی عدالتیں بنائی اور پی پی او قانون کے تحت 7 روز میں کیس کا فیصلہ ہونا ہوتا ہے لیکن افسوس کہ اس پر بھی کوئی عملدرآمد ہماری اعلیٰ عدالتوں کی جانب سے نہیں کیا جارہا۔ انہوں نے کہا کہ کیسز میں تاخیر کا مکمل فائدہ جرائم پیشہ عناصر کو ہوتا ہے اور وہ یا تو ضمانتوں پر رہا ہوجاتے ہیں یا پھر ان کا کیس اتنا کمزور ہوجاتا ہے کہ انہیں سزائیں نہیں مل پاتی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

تعلیمی ادارے کورونا کے پھیلاؤ کا باعث نہیں بن رہے: اسد عمر

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے سربراہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ تعلیمی ادارے کورونا...

کرونا کے بڑھتے کیسز، سندھ کے محکمہ داخلہ نے نئی گائیڈ لائنز جاری کردیں

کراچی: محکمہ داخلہ سندھ نے کرونا ایس او پیز سے متعلق نئی گائیڈ لائنز جاری کردیں۔ نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کی...

کراچی سمیت سندھ بھر میں موٹر سائیکل ڈبل سواری پر پابندی عائد کر دی گئی

کراچی: محکمہ داخلہ سندھ نے 12 ربیع الاول کے باعث کراچی سمیت سندھ بھر میں موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پاپندی...

سندھ میں 12 ربیع الاول سے متعلق ضابطہ اخلاق جاری

کراچی: محکمہ داخلہ سندھ نے 12 ربیع الاول کے حوالے سے ضابطہ اخلاق جاری کردئیے، جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا...