Wednesday, December 2, 2020
- Advertisment -

مقبول ترین

ایم کیو ایم کے سینیٹر عتیق شیخ بھی کورونا میں مبتلا

ایم کیو ایم پاکستان کے سینیٹر عتیق شیخ بھی کورونا وائرس میں مبتلا، سینیٹر عتیق شیخ نے چند روز قابل نجی اسپتال میں طبی...

رینجرز کارروائیوں میں 3 اسٹریٹ کرمنلز گرفتار

سندھ رینجرز کی گلشن اقبال اور شاہ فیصل کالونی میں کارروائیاں، 3 ملزمان گرفتار، ترجمان رینجرز کے مطابق گرفتار ملزمان محمد اختر ،سدھیر احمد...

سندھ میں فنڈجاتا ہے لگتا نظر نہیں آتا، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ کا سندھ حکومت پر برہمی کا اظہار،جھیلوں اور شاہراہوں کے اطراف درخت لگانے کا حکم، اس موقع پرچیف جسٹس نے سخت ریمارکس...

جعلی نوٹ چلاتے خاتون گرفتار،نقلی 2 ہزار روپے برآمد

کورنگی کراسنگ کے قریب مارکیٹ میں جعلی نوٹ چلاتے ہوئے خاتون گرفتار، ہزار ہزار کے دو نقلی نوٹ بھی برآمد، پولیس کے مطابق ابراہیم...

پانی کے شورپرپوائنٹ اسکورننگ نہیں کرنا چاہتے،شرجیل میمن

Pakistan-sharjeel-memon_12-25-2014_169770_lکراچی ، وزیر اطلاعات و بلدیات سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی کے شہریوں کو ان کی دہلیز تک پانی کی فراہمی کے لئے سندھ حکومت دستیاب تمام وسائل کو بروئے کار لارہی ہے۔ شہر میں پیر کے روز سے 1000 مفت ٹینکرز کے ذریعے مضافاتی علاقوں میں پانی کی فراہمی کو شروع کردیا گیا ہے جبکہ این ای کے کے پمپنگ اسٹیشن سے پیر کی شب سے 22ایم جی ڈی پانی کی ضلع ایسٹ کو فراہمی شروع کردی جائے گی۔کے فور منصوبے کے لئے صوبائی حکومت کی جانب سے 80 ملین روپے مل گئے ہیں لیکن بدقسمتی سے وفاق کی جانب سے اس منصوبے کے لئے ابھی تک ایک بھی روپیہ نہیں ملا ہے۔ کراچی میں پانی پر ہم کسی قسم کی سیاسی پوائنٹ اسکارننگ نہیں کرنا چاہتے اور اسمبلی یا اس سے باہر شور کرنے والوں نے اگر ماضی میں کراچی کے پانی کے لئے منصوبوں پر کام کا آغاز کردیا ہوتا تو آج ہم کے فور کی بجائے کے فائیو منصوبے کی جانب گامزن ہوتے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کی شام کیماڑی کے علاقے شیرین جناح کالونی اور سکندرآباد میں 50 مفت پانی کے ٹینکرز کی عوام میں تقسیم کے موقع پر موجود میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی اختر جدون، ایم ڈی واٹربورڈ سید ہاشم رضا زیدی، بادشاہ خان جدون، کراچی واٹر بورڈ ہائیڈرینٹ کے انچارج راشد صدیقی، چیف انجبئیر اور واٹر بورڈ کے اعلیٰ افسران اور علاقے کی سیاسی و سماجی شخصیات کی بڑی تعداد موجود تھی۔ شرجیل انعام میمن نے اس موقع پر ٹینکرز کے ذریعے عوام کی جانب سے لائے گئے ڈرم، بالٹیوں اور دیگر برتنوں میں اپنی نگرانی میں پانی کی فراہمی کروائی۔ اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ آج سے واٹر بورڈ کی جانب سے کراچی کے ان مضافاتی علاقوںمیں روزانہ کی بنیاد پر 1000 مفت ٹینکرز کی فراہمی کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے اور اس حوالے سے وہ خود تمام علاقوں کا نہ صرف دورہ کریں گے بلکہ پانی کی فراہمی کو اپنی نگرانی میں صاف و شفاف بنانے اور اس کے ثمرات براہ راست عوام تک پہنچانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مفت ٹینکرز کراچی کے ان مضافاتی علاقوں اور کچی آبادیوں کو دئیے جارہے ہیں جہاں پانی کی تقسیم کا کوئی نظام نہیں ہے یا پھر پانی کی کمی کے باعث ان علاقوں تک پانی عوام کو نہیں مل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹینکرز واٹر بورڈ نے کرایہ پر لئے ہیں اور اس کے تمام اخراجات بھی ہم ادا کریں گے اور عوام سے ایک روپیہ بھی اس کا نہیں لیا جارہا ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ پیر کی شب سے کراچی ویسٹ کے علاقوں کو این ای کے کے پمپنگ اسٹیشن سے زائد 22 ملین گیلن روزانہ پانی کی زائد فراہمی کا سلسلہ بھی شروع کردیا جائے گا، جس سے ڈسٹرکٹ ویسٹ میں پانی کی کمی کے مسئلے پر کافی حد تک قابو پالیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کاکراچی کے عوام سے یہ وعدہ ہے کہ وہ کراچی میں پانی کے بحران سے نبردآزما ہونے کے لئے اپنے تمام وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ان کے ساتھ کھڑی ہے اور اس بحران سے ان کو نکال کر ہی دم لے گی۔ ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر نے کہا کہ ہمارے اس پانی کی طلب اور رسد میں کم و بیش 50 فیصد کمی کا سامنا ہے اور اس کو پورا کرنے کے لئے ہم متبادل ذرائع سے پانی کے حصول کے لئے کوشاں ہیں جبکہ کے فور منصوبے کے لئے بھی سندھ حکومت کی جانب سے ہمیں 80 ملین روپے مل گئے ہیں اور اس منصوبے کا آغاز اسی ماہ میں کردیا جائے گا لیکن بدقسمتی سے اس منصوبے کے لئے وفاق کی جانب سے 50 فیصد حصہ میں سے ابھی تک ایک روپیہ بھی ہمیں نہیں ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق اس سلسلے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے اور فوری طور پر کے فور منصوبے کے لئے فنڈز ریلیز کرے۔ ایک اور سوال کے جواب میں شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت، وزیر اعلیٰ سندھ اور پوری سندھ حکومت کراچی میں پانی ے بحران پر سنجیدہ ہے۔ پارٹی کی اعلیٰ قیادت اس حوالے سے روزانہ دوبار مجھ سے پوچھ گچھ کررہی ہے جبکہ وزیر اعلیٰ سندھ کی جانب سے بھی مفت ٹینکرز کی فراہمی اور دیگر متبادل ذرائع سے پانی کے حصول کے لئے ہمیں مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں شرجیل انعام میمن نے کہا کہ اسمبلی یا اسمبلی سے باہر مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے پانی کے حوالے سے شور پر میں کوئی سیاسی پوائنٹ اسکورننگ نہیں کرنا چاہتا البتہ ماضی میں یہ جماعتیں اگر کراچی میں پانی کے لئے کوئی سنجیدہ اقدامات کرتی اور منصوبوں پر کام کرتی تو آج ہم کے فور کی بجائے کے فائیو منصوبے کا آغاز کررہے ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں آبادی کے تناسب سے تمام معاملات کو دیکھنا چاہئے تھا لیکن بدقسمتی سے ماضی کی حکومتوں نے ایسا نہیں کیا جس کا خمیادہ آج ہم بھگت رہے ہیں۔

1 COMMENT

  1. khud pani phnchaye gay, Khuda ka khoof nahi hai yarin logo ko kasam se, logo ka pani bhi band kar diya hai or ab sympathy lene k liye tankers mein pani la k de rahe hain awam ko jb k pani ka bohran paida karne wale bhi ye khud hain, kisi na kisi trhan to awam ko dikhana hai na k dekho hum tumhare liye kya kya kr rahe hain kaise tumhein pani la la k de rahe hain, jb k such kya hai ye sb jantay hain or afsos ki baat to ye hai k sb jaan k bhi kuch nahi jantay….

Comments are closed.

Open chat