گناہوں کی نحوست (حبیب اللہ)

blessing-islamانسانیت کی تخلیق جنت میں ہوئی،کیونکہ انسانوں کے باپ آدم علیہ السلام اور ماں حوا علیہاالسلام کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کرنے کے بعد جنت میں ٹھہرا دیا اور حکم دیا کہ جہاں سے چاہے کھاو¿ پیو مگرا س درخت کے قریب نہیں پھٹکنا۔ آخر وہ کون سی چیز تھی؟ جس نے انہیں نعمتوں، لذتوں، عیش و عشرت اور لطف  و سرور  والی جنت سے نکال کر آلام و مصائب، حزن وغموم کی اتھاہ گہرائیوں  والی دنیا میں بھیج دیا۔ آخر وہ کون سی چیز تھی ؟جس نے ابلیس کو فرشتوں کی نورانی محفل سے باہر نکال کر لعنت و پھٹکار کا مستحق قرار دیا۔ جسے قرب کے بدلے دوری،رحمت کے بدلے لعنت،باغات و آسائشوں والی نعمتوں کے بدلے بھڑکتی آگ کا مستحق قرار دیا۔
آخر وہ کون سی چیز تھا ؟جس کا ارتکاب کرتے ہی زمین کے باسیوں کو ایسے سیلابوں میں غرق کردیا گیا کہ ساری دنیا پر سوائے پانی کے کچھ نظر نہ آتا تھا۔آخر وہ کیا تھا؟ کہ جس کی وجہ سے قوم عاد پر ایسی تندوتیز آندھیاں چلیں کہ انہیں گھر سے باہر نکال کر اوپراٹھا کر ازمین پر ایسے پٹخ دیا جیسا کہ وہ کھجور کے کھوکھلے تنے ہوں۔آخروہ کس عمل کا نتیجہ تھا ؟کہ جس کی وجہ سے قوم ثمود پر ایسی زوردار کڑک و چیخ آوارد ہوئی کہ جس نے ان کے دلوں کو چیر کر رکھ دیا اور ان کے سینوں کو پھاڑ کر انہیں اپنے گھروندوں میں اوندھے میں گراکرا ن کی باقیات کو نشانِ عبرت بنا دیا۔آخر لوط علیہ السلام کی قوم نے ایسا کیا کردیا تھا ؟کہ جس کے نتیجے میں ان کی بستی کو آسمانوں تک اٹھا کر زور سے نیچے پھینک دیا گیا اور ان پر زوردار تیز پتھروں کی بارش برساکر بعد والوںکے لیے نصیحت کا سامان بنا دیا گیا۔قارون جس کے خزانے اتنے زیادہ تھے کہ جن محلات میں خزانے تھے ان کی چابیاں اونٹوں کی ایک جماعت اٹھایا کرتی تھی آخر قارون کو اس کے خزانوں بھرے محلات سمیت کس وجہ سے زمین میں دھنسا دیا گیا؟ جو کہ قیامت تک دھنستا چلا جائے گا۔آخر سابقہ امتوں سے ایسا کیا ہوا تھا کہ جس کی وجہ سے کسی کو زلزے نے دہلایا تو کسی کے دل چیخ اور کڑک نے پھاڑ دیے۔
کوئی طوفانوں کی نذر ہوئے تو کچھ کو سیلابوں میں غرق کیا گیا۔ کسی پر پتھروں کی بارش برسی تو کئی کی بستیوں کو الٹا دیا گیا۔ان سب سوالوں کا ایک ہی جواب ہے کہ ان سب کا سبب وہ گناہ تھے کہ جن کا ارتکاب ان سے ہوا تو رب کے غضب نے جوش مارا نتیجتاً سب اپنے ہی ہاتھوں تباہ و برباد کردیے گئے۔امام طبری اپنی تاریخ میں لکھتے ہیں کہ ”جب (مسلمانوں کے ہاتھوں)قبرص فتح ہواتواہل قبرص ایک دوسرے کے گلے لگ کر دھاڑیں مار مار کر رونے لگے، جبیر بن نفیر کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ ابودرداءاکیلے بیٹھ کر رو رہے ہیں میں نے ان سے پوچھا: اے ابودردائ! آج جب اللہ نے اہل اسلام کو فتح دی تو آپ کیوں رو رہے ہیں؟ تووہ فرمانے لگے کہ تو عجیب ہے، اے جبیر !یہ لوگ اللہ کے سامنے کتنے بے بس ہیں ،جبکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں غلبہ و بادشاہت دی تھی طاقت و جرات تھی، اختیارات و وسائل تھے مگر جب انہوں نے اللہ کی نافرمانی کا راستہ اختیار کرکے اللہ کے حکموں کو پامال کیا تو آج اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ حال کردیا۔ جو تو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔
اسی طرح حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ ”جب میری امت میں گناہ عام ہوجائیں گے تو ان پر اللہ تعالیٰ کے عذابوں کا نزول ہوگا۔“اسی طرح حدیث میں آتا ہے کہ” اے مہاجرین کی جماعت ! جب تم پانچ چیزوں میں مبتلا ہوجاﺅ گے اور میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ تم انہیں پاو¿، جب بھی کسی قوم میں فحاشی عام ہوتی ہے اور اس کا ارتکاب اعلانیہ کیا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر طاعون کی بیماری عام کر دیتا ہے اورایسی بھوک کہ جو ان سے پہلے والوں میں کبھی نہ گزری ہو، اور جو قوم ناپ تول میں کمی شروع کردے تو اللہ تعالیٰ ان پر قحط سالی و فقروآلام اورظالم بادشاہ مسلط کردیتا ہے،اور جو قوم اپنے اموال سے زکوة ادا نہیں کرتی تواللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برسانا بند کردیتا ہے حتیٰ کہ وہ ایک ایک بوند کو ترس جاتے ہیں اگر اللہ کی بے زبان مخلوق(جانور) زمین پر نہ ہوں تو ان پر کبھی بارش نہ برسے اور جو قوم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے کیا ہوا عہد توڑتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر باہر سے دشمن مسلط کردیتا ہے جو ان کے ہاتھوں میں جو ہوتا ہے سب چھین لیتا ہے اور جس قوم کے حکمران اللہ تعالیٰ کی کتاب اور نبی ﷺ کے فرامین کے مطابق فیصلے نہیں کرتے تو انہیںآپس میں لڑوا دیتا ہے۔“ موجودہ دور کو اس حدیث کی نظر سے دیکھا جائے تو عقلمندوں کو بہت کچھ سمجھ آجائے گا۔
گناہوں کی نحوست بہت ہی زیادہ اور انجام بہت ہی خطرناک ہے۔ گناہ ،گناہ ہوتا ہے اگرچہ چھوٹا ہی کیوں نہ ہو کیونکہ حدیث میں آتا ہے کہ”گناہوں کو حقیر مت سمجھو کیونکہ یہ حقیر،چھوٹے گناہ جمع ہوکر اپنے کرنے والے کو تباہی کے دھانے پر پہنچا دیتے ہیں پھر آپ علیہ السلام نے مثال بیان فرمائی کہ جیسے کوئی قافلہ کسی چٹیل میدان میں ٹھہر جائے پھر سب لوگ پھیل جائیں اور ایک ایک لکڑی لے کر آئیں تو وہاں لکڑیوں کا ڈھیر لگ جائے گاپھروہ انہیں جلا کر کھانا بنائیں اور کھالیں۔“ تو بعض اوقات انسان گناہ کو چھوٹا سمجھ کر کرتا چلا جاتا ہے اور بھلاتا چلا جاتا ہے مگر وہ یہ نہیں جانتا کہ ریت کا ایک ایک ذرہ ایک جگہ گر کر پہاڑ نما ٹیلا بنا دیتا ہے تو یہ گناہ بھی جمع ہوکر کرنے والے کوتباہ کردیتے ہیں۔آج کے معاشرے میں بعض گناہ لوگ سرعام کررہے ہوتے ہیں اور وہ انہیں کچھ سمجھتے ہی نہیں حالانکہ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ”تم لوگ کچھ ایسے کام کرتے ہو جن کی وقعت تمہاری نظر میں بال سے بھی کم ہے مگر ہم نبی علیہ السلام کے دور میں انہیں ہلاک کردینے والے اعمال میں شمار کیا کرتے تھے۔

 

 آج کچھ ایسی ہی حالت ہماری بنی ہوئی ہے غیبت، چغلی، بدکلامی، بدزبانی، آنکھوں کا غلط استعمال، چوری، سود، رشوت، ماپ تول میں کمی، میوزک سے دل بہلانا،کسی کو ناحق تکلیف پہنچانا، جس مال پر میراحق نہیں ہڑپ کرجانا، عورت کا نمود نمائش کا سامان بن کر بے پردہ پھرنا،تنگ وچست اور باریک لباس پہن کربدکاری کی کھلی دعوت دینا،مردو خواتین کا نمازوں کو ضائع کرنا، دھوکہ بازی کا بازار گرم کرنا، نوجوانوں کااپنی جوانی کے قیمتی اوقات کو فضولیات میں ضائع کرنا،والدین کی نیکی کی باتوں میں نافرمانی اور اس جیسے بے شمار گناہ ہمیں اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتے نظر آتے ہیں مگر ہم انہیں کوئی اہمیت نہیں دیتے اور کرتے چلے جاتے ہیں۔
حضرت بلال بن سعد رحمہ اللہ نے فرمایا”کہ تم یہ نہ دیکھو کہ گناہ چھوٹا ہے بلکہ یہ دیکھو کہ کتنے بڑے رب کی نافرمانی کاارتکاب کررہے ہو۔“اس وقت امت مسلمہ کا اجتماعی طور پر رحمت الٰہی سے محروم ہونا اس امت کے افراد کے گناہوں کا نتیجہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ غیرت مند ہے اور اس کی غیرت اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ انسان گناہ کرے اس لیے تو آپ ﷺ نے فرمایاکہ”اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی غیرت مند نہیں اس لیے تو اللہ تعالیٰ نے ہرطرح کی بے حیائی کو حرام کردیا ہے چاہے وہ ظاہر ہو یا چھپی ہو۔“اس لیے ہر قسم کے گناہوں سے اجتناب ضروری ہے ۔ جب انسان ایک گناہ کرتا ہے تو وہ اسے دوسرے گناہ کی طرف لے جاتا ہے اور جب کوئی چھوٹا گناہ مسلسل کرتا رہتا ہے تو وہ اسے بڑے گناہ کی طرف لے کر چلا جاتا ہے یوں انسان گناہوں کی دلدل میں اترتا چلا جاتا ہے اور اپنے رحیم رب کی مہربانیوں سے کوسوں دور ہوتا چلا جاتا ہے۔پھراس کی کیفیت یہ ہوجاتی ہے کہ گناہ کرنا اس کی مجبوری بن جاتے ہیں کیونکہ جب تک وہ گناہ نہ کرے اس کا نفس امارہ اسے چین سے جینے نہیں دیتا ۔یوں اس کے دل پر مہر لگ جاتی ہے اور وہ غافلوں میں سے ہو جاتا ہے۔
اس وقت ہمارے معاشرے میں گناہ بہت ہی جدید شکلوں میں رائج ہوچکے ہیں اور یہ گناہوں کا ہی نتیجہ ہے کہ ہردل بے چین ہے ،ہرنفس بے قرار ہے، ہرسو بدامنی کا عالم ہے،ہر بندہ ہی پریشان ہے، امن کی جگہ خوف نے لے لی، راحت کی جگہ بے چینی نے لے لی ، سکون کی جگہ بے اطمینانی نے لے لی۔ غرض کہ جدھر نظر اٹھتی ہے تباہی ہی تباہی ہے۔ اس لیے اے امت مسلمہ کے باسیو پلٹ آﺅ اور اپنے کریم رب کو منالو، گڑگڑا کر رو رو کر آنسو بہاکر اپنے رب سے توبہ کرلو،وہ نہ صرف سچی توبہ کے نتیجے میں گناہوں کو معاف کرے گا بلکہ انہیں نیکیوں میں بدل دے گا اس لیے مایوس نہ ہونا اور جلدی کرو اس سے پہلے کہ دیر ہوجائے۔اللہ تعالیٰ ہمیں گناہوں سے بچائے اور اپنا فرمانبردار بنائے اور اسے حال میں موت آجائے۔ آمین
8939478@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top