Monday, November 30, 2020
- Advertisment -

مقبول ترین

کراچی کی چند خوبصورت مقامات کی ڈرون فوٹیج

کراچی پاکستان کا سب سے بڑا اور آباد شہر ہے۔ سابقہ دارالحکومت ہونے کی وجہ سے ، یہ ایک ممکنہ تجارتی...

جامعہ کراچی کی پوائنٹس سروس

وفاقی سطح پر قائم تعلیمی کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہملک بھر کے تعلیمی ادارے 15 ستمبر...

پلاسٹک آلودگی ( کرن اسلم)

اگر آپ اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو آپ کو کسی نہ کسی صورت میں پلاسٹک کی اشیا ضرور ملیں گی۔ مثال کے طور...

بہادرآباد، ڈکیتی کی بڑی واردات،شہری40 لاکھ روپے سے محروم

بہادرآباد میں ڈکیتی کی بڑی واردات، شہری 40 لاکھ روپے سے محروم، ذرائع کے مطابق بہادرآباد شاہ...

سندھ اسمبلی اجلاس، نادرا دفاتر میں اضافے سمیت دیگر قراردادیں منظور

paksitan-sindh-assembly_9-25-2014_160769_lکراچی، سندھ اسمبلی میں بلند عمارتوں کےغیر قانونی قیام کے خلاف اور شناختی کارڈ کے لیے نادرا دفاترمیں اضافے کیلئے قراردادیں منظور کرلی گئیں، جبکہ محکمہ بلدیات کے اداروں کی کارکردگی سے متعلق فنکشنل لیگ کے شہر یار مہر کی قرار داد بھی مسترد کر دی گئی۔کراچی میں غیر قانونی بلند عمارتوں کی تعمیر سے متعلق قرارداد ایم کیوایم کی ارم عظیم نے پیش کی، ارم عظیم نے کہا کہ رہائشی علاقوں میں خلاف ضابطہ ہائی رائز عمارتیں بنائی جارہی ہیں،قوانین کو بالائے طاق رکھ کر بلند و بالا عمارتوں کی تعمیر کی اجازت دی جارہی ہے۔شناختی کارڈ کے لیے نادرا دفاترمیں اضافے سے متعلق قرارداد بھی ایم کیو ایم کی جانب سے پیش کی گئی، جسے متفقہ طورپرمنظور کیا گیا، پیپلز پارٹی کے رکن ڈاکٹرسکندرمیندھرو نے کہا کہ سندھ بھرمیں نادرا سے شناختی کارڈ کے حصول میں لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتاہے۔ ایم کیو ایم کے اراکین نے کہا کہ کراچی بھرمیں نادرا دفاترکی کمی ہے، تمام دستاویزات ہونے کے باوجود شہریوں کو نادرا کی جانب سے تنگ کیا جاتا ہے۔محکمہ بلدیات کے اداروں کی کارکردگی سے متعلق فنکشنل لیگ کے شہر یار مہر کی قرار داد مسترد کر دی گئی، مسلم لیگ فنکشنل کے اراکین نے ایوان میں بولنے کی اجازت نہ ملنے پر ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ وزیر اطلاعات سندھ شر جیل میمن نے کہا کہ بلدیاتی اداروں کا جوبھی حشرکیا گیا ہے اسکا جواب دوں گا، اپوزیشن کی بات سرکاری بینچوں نے تحمل سے سنی ،اپوزیشن بھی تحمل سے کام لے، بلدیاتی اداروں کی تباہی ناظمین کے لامحدود اختیارات سے شروع ہوئی،جب دلیل نہ ہوتو لوگ ایوان میں احتجاج کے لیے کھڑے ہوجاتے ہیں۔

Open chat