Thursday, October 29, 2020
Home خاص خبریں سندھ حکومت سکھر بیراج کی مرمت پر 25ہزار ملین روپے،نئے کی تعمیر پر ایک...

سکھر بیراج کی مرمت پر 25ہزار ملین روپے،نئے کی تعمیر پر ایک لاکھ ملین روپے کی لاگت آئی گی، سیکریٹری آبپاشی سندھ

Health-Department-Sindh-Seniority-List-BPS-19-18-17-1024x682کراچی ،سکھر بیراج کی بحالی و مرمت پر 25ہزار ملین روپے، جبکہ نئے بیراج کی تعمیر پر ایک لاکھ ملین روپے کی لاگت آئی گی۔یہ بات سیکریٹری آبپاشی ظہیر حیدر شاہ نے وزیراعلیٰ ہاﺅس کراچی میں سکھر بیراج کی بحالی کے حوالے سے منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران بریفنگ دیتے ہوئے بتائی۔اجلاس میں چیف سیکریٹری سندھ محمد صدیق میمن، پرنسپل سیکریٹری علم الدین بلو، سیکریٹری خزانہ سہیل راجپوت اور دیگر انجنیئرز اور سینئر افسران نے شرکت کی۔اس موقعے پر سیکریٹری آبپاشی نے بتایا کہ سکھر بیراج 1923-32کے دوران تعمیر کیا گیا، جبکہ تعمیر کے دو سال کے اندر ہی سیڈی مینٹیشن کے مسائل سامنے آئے اور بیراج کے دس گیٹ مستقل طور پر بند ہو گئے، جس کی وجہ سے ایک جزیرہ کی تشکیل ہوئی اور بیراج میں سے پانی کے  بھاﺅ کی صلاحیت 1.5ملین سے کم ہوکر 9لاکھ کیوسک رہ گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ بیراج کے تمام دروازے1986-92کے دوران تبدیل کئے گئے اور 2004میں بھی کچھ ہنگامی مرمتی کام کیا گیا،جب بیراج کے دائیں جانب ایک بڑا شگاف پڑا۔وزیراعلیٰ سندھ کی طرف سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں سیکریٹری آبپاشی ظہیر حیدر شاہ نے کہا کہ بیراج کے تمام دروازے بہتر حالت میں ہیں لیکن 5دروازوں کی تبدیلی کی اشد ضرورت ہے انکے نیچے پانی جمع کرنے کی اور فری بورڈ کی صلاحیت میں اضافے کی ضرورت ہے، جس سے دروازوں کو ان کی زیادہ سے زیادہ صلاحیت تک کھولا جا سکے گا۔انہوں نے بتایا کہ بیراج میں بجلی کے نظام کو تبدیل کرکے جدید مانیٹرنگ اینڈ کنٹرول روم کا قیام بہت ہی ضروری ہے۔موجودہ بیراج کو لاحق خطرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2010کا سیلاب فری بورڈ مارجن کے صرف دو فٹ تھا دروازے مکمل طور پر کھول دیئے گئے تھے۔جبکہ ھائی فلڈس کے دوران 66دروازوں میں سے صرف27دروازے کھولے ہوئے تھے جس کی وجہ سے بیراج کے درمیانی بائیں حصے پر زیادہ دباﺅ رہتا ہے۔سیکریٹری آبپاشی نے بتایا کہ 1938-46کے درمیاں بیراج کے دس دروازے دائمی طور پربند کئے گئے، جس کی وجہ سے بند دروازوں کے آگے ایک جزیرہ سا بن گیا۔بندوں کی بیرونی گھماﺅ    کی وجہ سے مزید 17دروازے سیلاب کے دنوں میں دباﺅ کا شکار رہتے ہیں۔اس کے علاوہ دائیں بائیں حصوں میں سیلاب کے پانی کی محدود گذر کی وجہ سے 12مزید دروازے مشکلات سے دو چار ہوتے ہیں۔اجلاس کے دوران چیف سیکریٹری سندھ کی طرف سے پوچھے گئے ایک اور سوال کے جواب میں سیکریٹری آبپاشی ظہیر حیدر شاہ نے بتایا کہ بیراج کی بحالی کا کام کینال ہیڈ ریگیولیٹر کی مرمت ،رائیٹ پاکیٹ ریور ٹریننگ ورکس ،فش پاس اور 59اسپان میں اوور فلو،بجلی کا کام، مانیٹرنگ اینڈ کنٹرول سسٹم کو جدید خطوط پر استوار کرنااور انکے کیلئے نئی بلڈنگ کی تعمیر، لیبارٹری، ورکشاپس اور دیگر بلڈنگس کی تعمیر پر مشتمل ہے،جس پر25ہزار ملین روپے کی لاگت آئے گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

کرونا وائرس کی وجہ سے 30 نئے اسکولوں کا افتتاح نہ ہوسکا, سعید غنی

کراچی: صوبہ سندھ کے وزیر تعلیم سعید غنی کا کہنا ہے کہ کوویڈ 19 کی وجہ سے 30 نئے اسکولوں کا افتتاح...

بچوں تیار ہوجاو، خوشیاں پھر سے آنے والی ہیں، سعید غنی

کراچی: وزیر تعلیم سعید غنی کا کہنا ہے کہ بچوں تیارہو جاو خوشیاں پھر سے آنے والی ہیں، ان کا کہنا تھا...

کراچی ائیرپورٹ کا ایک رن وے بند کر دیا گیا

کراچی ائیر پورٹ رن وے کے ایک حصے کو ترقیاتی کام کے لیے بند کر دیا گیا،سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے...

کراچی میں 8 نومبر کو مصطفی کمال کا جلسہ تاریخی جلسہ ہوگا، انیس قائم خانی

کراچی: پاک سر زمین پارٹی کے صدر انیس قائم خانی نے کہا کہ کراچی میں 8 نومبر کو مصطفی کمال کا جلسہ...