پیپلز پارٹی رہنماﺅں کی نااہلی کیلئے درخواست، سماعت 25 اکتوبر تک ملتوی

sindh-high-cکراچی،         سندھ ہائی کورٹ میں پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما فریال تالپور، منظور وسان، ناصر حسین، سہیل انور سیال اور دیگر کے خلاف اقامہ رکھنے کے کیس کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران الیکشن کمیشن نے سہیل انور سیال کے حوالے سے جواب جمع کروایا جسے عدالت نے مسترد کرتے ہوئے الیکشن کمیشن پر برہمی کا اظہار کیا۔ جسٹس محمدعلی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کا جواب نامکمل ہے، الیکشن کمیشن والے کوئی کام نہیں کرتے، جو جواب آپ نے دیا ہے وہ نہ بھی دیتے تو کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ خواجہ شمس السلام ایڈوکیٹ نے کہا کہ فریال تالپور نے اپنے جواب میں تسلیم کیا کہ اقامہ ظاہر نہیں کیا، فریال تالپور نے جواب میں دبئی کے اثاثے بھی ظاہر نہیں کیے۔ فیصلے تک فریال تالپور سے عوامی عہدہ واپس لیا جائے۔ عدالت نے الیکشن کمیشن اور دیگر کو جواب کیلئے 25 اکتوبر تک مہلت دے دی۔

ًواضح رہے کہ درخواست گزار نے عدالت میں مﺅقف اختیار کیا تھا کہ فریال تالپور نے 2002 میں صاحبزادی عائشہ کے نام پر دبئی میں کمپنی قائم کی اور رقم دبئی منتقل کرنے کی تفصیلات بھی الیکشن کمیشن سے چھپائی۔ درخواست گزار نے مﺅقف اختیار کیا کہ جیالی رہنما نے اپنا اقامہ بھی ظاہر نہیں کیا، جھوٹا بیان حلفی جمع کرانے پر فریال تالپور صادق اور امین نہیں رہیں، فریال تالپور کو اسمبلی کی رکنیت کیلئے نااہل قرار دے کر مقدمہ درج کیا جائے۔ ناصر حسین شاہ، منظور وسان، سہیل انور سیال، سردار خان چانڈیو کو بھی ناہل قرار دیا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top