Monday, October 26, 2020
Home خاص خبریں عدالت سندھ ہائی کورٹ نے نیوکلیئر پاور پلانٹس پر کام کرنے سے روک...

سندھ ہائی کورٹ نے نیوکلیئر پاور پلانٹس پر کام کرنے سے روک دیا

 Powrer Plansts (Kenap+سندھ ہائی کورٹ نے ماحولیاتی قوانین پر عمل پیرا ہوئے بغیر پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کو کراچی میں دو نیوکلیئر پاور پلانٹ پر کام کرنے سے روک دیا ہے۔ شرمین عبید چنائے، ڈاکٹر پرویز امیر علی ہودبھائی، ڈاکٹر اے ایچ نیئر اور عارف بلگرامی کی جانب سے دائر کردہ اس درخواست میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن، پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی (پی این آر اے)، سندھ کے ماحولیاتی تحفظ کے ادارے سیپا، پاکستان کے ماحولیاتی تحفظ کے ادارے پیپا اور سندھ کے ما حول اور متبادل توانائی کے محکمے کو بطور مدعاعلیہ نامزد کیا گیا ہے۔
عدالت نے مدعاعلیہان کو گیارہ نومبر تک اس درخواست کے جواب میں اپنا ردّعمل جمع کروانے کے لیے کہا ہے۔ اس کے علاوہ ایڈوکیٹ جنرل اور ڈپٹی اٹارنی جنرل کو بھی نوٹسز جاری کردیے گئے ہیں۔ اس منصوبے کے محرکین سے عدالت نے کہا کہ وہ اس وقت تک اس پر کام شروع نہیں کریں، جب تک کہ وہ ماحولیاتی تحفظ کے ایکٹ کے سیکشن بارہ کے مطلوبہ تقاضوں کی تکمیل نہیں کرتے اور اس منصوبے کی قانون کے تحت مقررہ ماحولیاتی اثرات کی تشخیص نہیں کروالیتے۔

درخواست گزاورں کے وکیل ایڈوکیٹ عبدالستار پیرزادہ نے عدالت کو مطلع کیا کہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے حال ہی میں ان دونوں نیوکلیئر پلانٹس کے-2 اور کے-1 کے لیے کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ (کینپ) کے قریب جگہ کی تیاری کا کام شروع کیا تھا، اس کے علاوہ مزید دو پاور پلانٹس کے-4 اور کے-5 کے منصوبے بھی زیرِ غور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان میں سے ہر ایک پاور پلانٹ گیارہ سو میگاواٹ کی بجلی پیدا کرے گا، مزید یہ کہ کینپ جسے کے-1 بھی کہا جاتا ہے، کو بند کردیا گیا تھا، اور اس کا جوہری فضلہ اس کے احاطے میں ہی موجود رہے گا۔
وکیل نے کہا کہ اس ری ایکٹرز کو بیان کردہ ڈیزائن جسے اے سی پی-1000 کے نام سے جانا جاتا ہے، کے مطابق چائنا نیشنل نیوکلیئر کارپوریشن (سی این این سی) تعمیر کرے گا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ یہاں تک کہ چین میں بھی اے سی پی-1000 ری ایکٹر کو استعمال نہیں کیا گیاہے۔

ان کا مزید کہنا تھا ”اے سی پی-1000 ریکٹر اب تک صرف کاغذ پر یا کمپیوٹر پروگراموں میں وجود رکھتا ہے، اور اس کا حقیقی زندگی میں کوئی تجربہ، جانچ اور کوشش نہیں کی گئی، بلکہ سی این این سی اے سی پی-1000ڈیزائن پر کراچی میں کے-2 اور کے-3 ری ایکٹروں پر کا شروع کرے گا۔“
ایڈوکیٹ عبدالستار پیرزادہ نے کہا کہ چونکہ اے سی پی-1000 ٹیکنالوجی کو پہلی مرتبہ مجوزہ ری ایکٹروں میں استعمال کیا جائے گا،چنانچہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن اور پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے اپنائی جانے والی مطلوبہ حفاظتی تدابیر غیرواضح اور غیر یقینی ہیں، جس کی وجہ سے کراچی کے عوام کی صحت اور زندگیوں کو بہت بڑا خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کی جانب سے صوبائی ماحولیاتی تحفظ کے ادارے کو جمع کرائی جانےوالی ماحولیاتی اثرات کی تشخیصی رپورٹ میں قانون کی کھلی خلاف ورزی کی گئی تھی، اس لیے کہ اس کو پیپا نے عوام کی شرکت کی دعوت دیے بغیر اس کا جائزہ لیا تھا، اور متعلقہ معلومات کو بڑے پیمانے پر انتہائی خفیہ انداز میں عوام سے پوشیدہ رکھا گیا تھا۔

درخواست گزاروں نے عدالت سے گزارش کی کہ وہ ماحولیاتی تشخیصی رپورٹ اور اس کے جائزے کو غیرقانونی قرار دے، اور پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کو ہدایت کرے کہ وہ ایک نئی ماحولیاتی تشخیصی رپورٹ سیپا اور پیپا کو جمع کرائے تاکہ وہ اس کو 2014ئ کے ایکٹ کے سیکشن 17 کے تحت عوامی جائزے کے لیے شایع کرے۔

انہوں نے عدالت سے یہ درخواست بھی کی کہ مدعاعلیہان کو ان نیوکلیئر پاور پلانٹس پر کام کرنے سے اس وقت تک روک دیا جائے جب تک کہ نئی ماحولیاتی تشخیصی رپورٹ کا جائزہ اور انخلائ کے منصوبہ پیش نہ کردیا جائے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

گلشن اقبال ، خطرناک ڈکیت پولیس کے ہتھے چڑھ گیا

کراچی، گلشن اقبال پولیس کی بڑی کارروائی، درجنوں وارداتوں میں مطلوب ملزم گرفتار۔ پولیس کے مطابق ملزک صدیق پولیس کو اسٹریٹ، قتل...

ملازمت پیشہ خواتین کے مسائل، اور ان کا حل

تحریر: مریم صدیقی وہ تھکی ہاری شام کے 4 بجے آفس سے نکلی، 4:30 بجے گھر میں...

ولیکا آتشزدگی، واٹر بورڈ نے ایمرجنسی نافذ کردی

کراچی ،واٹر اینڈ سیوریج بورڈ نے سائٹ ٹاؤن ولیکا اسپتال کے قریب فیکٹری میں آتشزدگی کے بعد سخی ھسن ہائیڈرنٹس پر...

کراچی سمیت سندھ میں ٹڈی دل کے حملوں کا خطرہ

کراچی ،سندھ میں پھرفصلوں پرٹڈی دل کےحملےکاخدشہ محمکہ زراعت سندھ نےٹڈی دل کےحملےکانیاالرٹ جاری کردیا ۔ محکمہ زراعت کے حکام کا...