Tuesday, October 27, 2020
Home کالم /فیچر محکمہ پولیس (خرم احمد)

محکمہ پولیس (خرم احمد)

Sindh-Police-سندھ پولیس میں غیر قانونی بھرتیاں صوبے کے لیے سیکورٹی رسک بن گئی ہیں۔ ایک جانب تو کراچی سمیت سندھ بھر میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ٹارگٹ آپریشن کی کامیابی کے دعوے کیے جا رہے ہیں جو کہ غلط بھی نہیں ہے، خصوصاً کراچی شہر میں بھتہ خوری، اغواءبرائے تاوان اور کسی حد تک ٹارگٹ کلنگ میں بھی کمی آئی ہے۔ سال رواں میں رینجرز کے اقدامات کے باعث قربانی کی کھالوں کی چھینا چھپٹی اور گھروں سے زبددستی وصولی بھی دیکھنے میں نہیں آئی۔ تاہم پولیس میں موجود کالی بھیڑوں اور چور دروازے سے بھرتی مافیا کی موجودگی، شہر بھر میں جاری ٹارگیٹڈ آپریشن کے لیے مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق دہشت گرد عناصر بھی رشوت کے عوض اپنے کارندے پولیس میں بھرتی کروا سکتے ہیں۔ پولیس جیسے حساس ادارے میں قانونی بھرتیاں، اہم تنصیبات اور شخصیات سمیت، عوام کے لیے بھی انتہائی خطرے کا باعث ہیں۔ سندھ پولیس کی بھرتی مافیا کی سرگرمیوں کی وجہ سے سندھ ریزرو پولیس اور ٹریفک سیکشن میں غیر قانونی طور پر 1600پولیس اہلکاروں کو کراچی سمیت دیگر ڈسٹرکٹ میں کھپانے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔ جبکہ اس محکمے میں مجموعی طور پر 4000سے زائد غیر قانونی بھرتیاں کی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق سندھ پولیس میں بھرتی مافیا نے اعلیٰ پولیس افسران کی ملی بھگت سے کروڑوں روپے رشوت کے عوض پولیس میں ملازمت کے خوہشمند 1600سے زائد افراد کو سندھ سندھ ریزر و پولیس میں غیر قانونی بھرتیاں کراچی، لاڑکانہ اور حیدر آباد سمیت دیگر اضلاع میں کی کی گئیں جبکہ مذکورہ بھرتیوں کے لیے قانونی طریقے پر عمل نہیں کیا گیا۔ اس وقت کے ڈی آئی جی سندھ ریزرو پولیس نے بڑے پیمانے پر غیر قانونی بھرتیوں کے خلاف تحقیقاتی رپورٹ آنے سے قبل ہی مذکورہ ڈی آئی جی کو ان کے عہدے سے ہٹوا دیا۔ ذرائع کے مطابق غیر قانونی بھرتی ہونے والے 600سے زائد اہلکاروں کو ٹریفک سیکشن میں جبکہ دیگر اہلکاروں کو کراچی، لاڑکانہ، حیدر آباد سمیت دیگر اضلاع میں بھیجا جا رہا ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ مذکورہ بھرتیوں کے خلاف تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے غیر قانونی طور پر پولیس کے محکمے میں 4000سے زائد غیر قانونی طور پر بھرتیاں کی گئی ہیں جس کے لیے اشتہارات، تحریری امتحان، فزیکل ٹیسٹ سمیت کوئی بھی قانونی طریقہ کار نہیں اپنایا گیا اور تا حال تحقیقاتی ٹیم نے رپورٹ پیش نہیں کی ہے۔
sindh policeدوسری جانب ذرائع کے مطابق سندھ ریزرو پولیس کے 2000سے زائد گھوسٹ اہلکار مبینہ رشوت کے عوض ڈیوٹی کرنے کی بجائے گھر بیٹھ کر تنخواہ وصول کر رہے ہیں جبکہ سندھ حکومت اور پولیس حکام، جرائم کی روک تھام میں ناکامی پر نفری کی کمی اور سہولتوں کی عدم دستیابی کا بہانہ کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ٹارگیٹڈ آپریشن کے مطلوبہ نتائج برآمد نہ ہونے پر سندھ پولیس کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس پر پولیس کے اعلیٰ افسران نے مذکورہ معروضات پیش کی تھیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ریزرو پولیس سندھ کے چاروں بیس اور ایم ٹی اسٹور پر تعینات 6ہزار سے زائد اہلکار ”نذرانے“ دے کر بغیر ڈیوٹی دیے، تنخواہیں وصول کر رہے ہیں۔ کراچی میں سندھ ریزرو پولیس بیس ون میں، دو ہزار اہلکار تعینات ہیں جن میں سے 265اہلکار رشوت کے عوض ڈیوٹی استثنیٰ لے کر گھروں میں بیٹھے ہیں یا دیگر کاروبار اور ملازمت کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، رشوت کے عوض گھوسٹ اہلکاروں سے پوسٹ ڈیٹڈ چیک وصول کر لیے جاتے ہیں۔ سندھ ریزرو پولیس بیس ٹو میں 1800سے زائد اہلکار تعینات ہیں ان میں سے 250 سے زائد گھروں پر بیٹھے ہیں، ایم ٹی اسٹور میں 700اہلکار تعینات ہیں، جن میں سے 200اہلکار رشوت کے عوض ڈیوٹی سے غائب ہیں، حیدرآباد بیس میں تعینات 1500اہلکاروں میں سے بیشتر ڈیوٹی پر حاضر نہیں ہوتے، لاڑکانہ بیس پر بھی دو ہزار اہلکاروں سے صرف ایک ہزار ہی ڈیوٹی کرتے ہیں۔ تمام بیسز پر گزشتہ کئی سالوں سے لائن افسر اور منشی تعینات ہیں جو رقم اکٹھا کرنے کے بعد اپنا حصہ الگ کر کے باقی رقم اعلیٰ افران تک پہنچاتے ہیں۔ مذکورہ منشی، لائن افسران اور ایم ٹی کے آر آئی گھر بیٹھے، تنخواہ وصول کرنے والے ریزرو پولیس کے 1500سے زائد گھوسٹ اہلکاروں سے کروڑوں روپے ماہانہ سے زائد رقم وصول کرتے ہیں۔ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ریزرو پولیس کے دو اعلیٰ افسران کے درمیان رقم کے لین دین پر طویل عرصے سے تنازعہ بھی چل رہا ہے۔ دوسری جانب صوبائی حکام اور پولیس کے اعلیٰ افسران ریزرو پولیس اہل کاروں کو صرف اعلیٰ حکومتی شخصیات کی سیکورٹی پر ہی مامور کرتے ہیں جبکہ شہر میں جاری آپریشن کے باوجود دہشتگردی کی وارداتوں کی روک تھام نہ ہونے پر پولیس نفری کی کمی کا بہانہ کیا جاتا ہے۔
بشکریہ جنگ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

لیاقت آباد، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ٹیم پر حملہ

کراچی، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ٹیم پر لیاقت آباد میں حملہ، ذرائع ایس بی سی اے کے مطابق لیاقت آباد...

گزری، نجی بینک میں آتشزدگی،فائر بریگیڈ کی گاڑیاں روانہ

کراچی، گذری میں نجی بینک میں آتشزدگی، کنٹونمنٹ بورڈ کی گاڑیاں آگ پر قابو پانے کےلئے روانہ، ذرائع کے مطابق بینک میں...

کورونا وائرس، کاروباری اوقات میں کمی پر غور

کراچی، کورونا تیزی سے پھیلنے لگا، حکومت کا کاروبار اور تقریبات کے اوقات کار میں تبدیلی اور ایس او پیز پر سختی...

گستاخانہ خاکے،سندھ اسمبلی میں مذمتی قرار داد جمع

کراچی، فرانس میں توہین رسالت پر مبنی گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کےخلاف جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی سید عبدالرشید نے صوبائی...