Tuesday, October 27, 2020
Home کالم /فیچر ہفتہ رفتہ اور سندھ کی سیاسی بساط (ابو اسامہ ناصر)

ہفتہ رفتہ اور سندھ کی سیاسی بساط (ابو اسامہ ناصر)

کراچی میں دہشت گردوںنے ایک مرتبہ پھر خون کی ہولی کھیل لی ۔کراچی کے علاقے صفورا چورنگیSaulat Mirza کے قریب واقع اسماعیلی برادری کی آبادی اسکیم نمبر 33گلشن الاظہر گارڈن سے فیڈریل بی ایریا میں مختلف اداروں اورکاروباری مراکز  میں جانے والے افراد کی بس کومیمن میڈیکل سینٹر کے قریب موٹر سائیکل سوار ملزمان نے روک کر اس میں داخل ہوئے سب سے پہلے بس کے ڈرائیور کو نشانہ بنایا اس کے بعد موجود لوگوں پر فائرنگ کردی اوریہ عمل کئی منٹ تک جاری رہا ،بیشتر افراد کو ”9ایم ایم پستول”سے مارا گیا ۔تادم تحریر اطلاعات کے مطابق 43افراد جاں بحق ہوئے ہیں جن میں 20کے قریب خواتین اوربچے ہیں۔بیشتر افراد کو دہشت گردوں نے سروں پر گولیاں ماری۔پولیس کے مطابق بس روز اس مقام سے تقریباً اسی وقت گزرتی تھی۔ملزمان واردات کے بعد موقع سے فرار ہوگئے۔
وزیراعلی سندھ سید قائم علی شاہ نے سانحہ صفورا چورنگی پر انتہائی غم و غصے کا اطہار کرتے
ہوئے ایس پی اور ایس ایچ او صفورا چورنگی کو فوری  طور پرمعطل کرکے قاتلوں کی جلد گرفتاری کا حکم دے دیا ہے اور جاں بحق افراد کے لئے فی کس 5لاکھ روپے کے معاوضے کا اعلان کیا ہے ۔وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے واقعہ کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے وفاقی وزارت داخلہ ہدایت کی ہے کہ فوری طور پر سندھ حکومت سے رابطہ کرکے ملزمان کی گرفتاری یقینی بنائیں۔وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثارعلی خان نے حکومت سندھ سے رابطہ کرکے فوری رپورٹ طلب کی ہے ۔ 
کراچی میں تقریباً پونے 2سال سے دہشت گردوں کے خلاف اپریشن جاری ہے جس کے مثبت اثرات ظاہر ہوئے ہیں مگر دہشت گرودں نے اس واردات کے ذریعے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ اب بھی کارروائی کرنے کی طاقت رکھتے ہیں ۔سانحہ صفورا چورنگی کراچی نے ایک مرتبہ پھر اہل کراچی کو ہلاکر رکھ دیا ۔ یہ واردات دہشت گردوں کی کراچی میں مذہبی فسادات کرانے کی سازش ہی ہوسکتی ہے اور کراچی میں حالیہ چند روز سے مذہبی ٹارگٹ کلنگ میں اضافہ ہوا ہے ۔ضروت اس امر کی ہے کہ حکومت سندھ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی تیز کرے اور بلا امتیاز مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچائے ۔
بعض حلقے ان واقعات کو حکومت کے خلاف سازش قرار دے رہے اور کہا جا رہاہے کہ بعض قوتیں سندھ میں گورنر راج کے لئے کوشاں ہیںاور یہ بات کسی حدتک درست بھی معلوم ہو رہی ہے کیونکہ بعض حلقوں کی جانب سے یہ مطالبہ سامنے بھی آیا ہے ۔ 
دوسری جانب گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان کے خلاف ان کی اپنی جماعت کھل کر سامنے آگئی ہے ۔ایم کیو ایم نے 11 مئی کو ایک مرتبہ پھر گورنر سندھ پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ایک ہی لمحہ میں ان کے خلاف چارج شیٹ جاری کی اور دوسرے ہی لمحہ میں انہیں مستعفی ہوکر پارٹی کارکن کے طور پر کردار ادا کرنے کے لیے کہا ۔تقریبا13سال سے صوبے میں گورنر کے عہدے پر فائز ڈاکٹر عشرت العباد خان ایم کیوایم کے نمائندے سمجھے جاتے ہیں لیکن اب جب ان کی اپنی پارٹی نے عدم اعتماد کا اظہار کیاہے تو دیکھنایہ ہے کہ وہ کس طرح کے رد عمل کا اظہار کرتے ہیں، اگر چہ گورنر کی تبدیلی کی بازگشت طویل عرصہ سے جاری ہے، لیکن اب تک یہ صرف باز گشت ہی رہی ۔ایم کیوایم کے حالیہ رد عمل سے یہ محسوس ہوتاہے کہ وہ گورنر پر عدم اعتماد کا اظہار کرکے اس تاثر کو ختم کرنا چاہتی ہے کہ صوبے میں اپنا گورنر ہونے کے باوجود ایم کیوایم کس کے خلاف اور کیوں کر سراپا احتجاج ہے ۔بعض حلقوں کا دعویٰ ہے کہ گورنر سندھ کے اسٹبلشمنٹ کے قریب ہونے کی وجہ سے ایم کیو ایم ناراض ہے اور حالیہ رد عمل اسی کا نتیجہ ہے ،کیونکہ ایم کیوایم کیلئے ان کے کوٹے پر بننے والے گورنر کی ا سٹبلشمنٹ سے زیادہ قربت ناقابل برداشت ہے۔ ایم کیو ایم عدم اعتماد کے بعد گورنرسندھ تاحال کوئی ردعمل ظاہر نہیںکیا ہے مگر اس حوالے سے ذرائع ایک ہفتے کو اہم قرار دے رہے ہیں ۔Dr Zulfiqar Mirza
تقریبا16سال تک دہشت اور خوف کی علامت قرار پانے والا صولت مرزااپنے پیچھے سیاسی گہرے اثرات اور کئی سوالات چھوڑ کر بلاآخر حقیقی منزل پاگئے۔صولت مرزا بنیادی طور پرایم کیوایم کا کارکن رہااور ان کے خاندان کے مطابق پارٹی کی جانب سے چند ماہ قبل لاتعلقی کے اظہار تک صولت مرزا ایم کیو ایم کا کارکن تھااور پارٹی قیادت کی لاتعلقی کے بعد صولت مرزا نے نہ صرف خودکو ایم کیو ایم سے دور کیا بلکہ اپنے وڈیو پیغام کے ذریعے ایم کیوایم کیلئے مشکلات بھی کھڑی کردی ۔ ایم کیوایم کا دعویٰ ہے کہ صولت مرزا کو 15سال قبل ہی پارٹی سے نکال دیا گیاتھا۔ یہ دو طرفہ دعوے اپنی جگہ لیکن صولت مرزا کی پھانسی ان سیاسی ، سماجی اور مذہبی کارکنوں کیلئے ایک واضح پیغام ہے جو کسی بھی شعبے میں غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہوتے ہیں کہ مشکل وقت میں کوئی ساتھ نہیں دیتا چاہے وہ سیاسی قوتیں ہوں یا استعمال کرنے والے ادارے اس لیے اپنے آپ کو قانون کے دائرے میں  ہی رکھا جائے ۔صولت مرزابھی ایک عجیب کردار رہا، ایک طویل عرصہ تک جولوگ موت کے منہ سے بچانے کی کوشش کرتے رہے آخری دنوں میں وہ اس کی موت کے خواہشمند اور جو لوگ تقریبا پونے دو دہائیوں تک صولت مرزا کی سزا کیلئے کوشاں رہے ،آخری دنوں میں ان میں سے ایک بڑی تعداد اس کی سلامتی کی دعائیں کرتی رہی۔ صولت مرزا کا کردار جسمانی طور پر تو ختم ہوا ہے شاید اس کے اثرات کافی عرصہ تک سندھ بالخصوص کراچی میں محسوس کیے جائیں گے ۔ 
 سندھ کی سیاست میں آج کل ڈاکٹر ا ذوالفقار مرزا بھی سرگرم ہیں اور ان کے ساتھ بھی اپنی پارٹی کاGovernor of Sindh Dr Ishratul Ebad Khan تقریباً وہی رویہ ہے جو صولت مرزا کے ساتھ ان کی جماعت کا رہا۔کسی زمانے میں ڈاکٹر ذوالفقار مرزا سندھ کی حدتک پارٹی اورحکومت دونوں کے کرتا دھرتا تھے ،یہاں تک بھی کہا جاتاتھاکہ پیپلزپارٹی سندھ کے حقیقی صدر اور صوبے کی حقیقی وزیر اعلیٰ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا ہیں ، پھر اچانک انہوںنے اپنی اتحادی جماعت ایم کیوایم کے خلاف ایک بھر پور محاذ کھولا اور پہلے وزارت ، پھراسمبلی رکنیت بعدازاں پارٹی عہدے اور بلااخر پارٹی رکنیت سے بھی محروم ہونا پڑا۔ کئی ماہ تک ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی گن گرج سندھ سے لیکر لندن تک سنائی دی اور پھر ایک خاموشی چھا گئی لیکن حالیہ چند ہفتوں سے ایک مرتبہ پھر ڈاکٹرذوالفقار مرزا سرگرم ہیں ۔پہلے انہوں نے اپنا ہدف صرف ایم کیوایم اور پیپلزپارٹی کی چند شخصیات کو بنایا لیکن اب پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت باالخصوص پارٹی کے حقیقی سربراہ آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال ٹالپور ان کے نشانے پر ہیں۔ آصف علی زرداری کی ڈاکٹر ذوالفقار مرزا سے 40سالہ دوستی رہی جو اس وقت دشمنی کی شکل اختیار کرگئی ہے ۔ڈاکٹر مراز آئے روز میڈیا میں آصف علی زرداری اور پیپلزپارٹی کے حوالے سے انکشافات کررہے ہیں ۔دوسری جانب آصف علی زرداری خود تو خاموش ہے لیکن ان کے حامی خم ٹھوک کر میدان میں آچکے ہیں اور معاملہ تھانہ کورٹ کچہری تک پہنچ چکاہے۔ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا پر حالیہ دنوں میں نصف درج کے قریب مقدمات قائم ہوچکے ہیں ۔
 بعض مقامات پر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے ،یہی ردعمل ڈاکٹر مرزا کی جانب سے بھی ہے۔ذوالفقار مرزا کے حامیوں میں اب اضافہ ہونے لگا ہے سندھ کے قوم پرست ہمیشہ کی طرح اس بار بھی پیپلزپارٹی کی مخالفت میں ذوالفقار مرزا کو ساتھ دینے کی یقین دھانیاں کرارہے ہیں اور پیپلزپارٹی کے ناراض رہنماء اور کارکن بھی مرزا کے ساتھ کھڑا ہونے کی کوشش کررہے ہیں مگر اقتدار کے خوف سے کھل کر سامنے آنے کیلئے تیار نہیں ۔ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اور ان کی اہلیہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزانے بہت کچھ کہنے کے باوجود شاید کوئی ایسا پتہ اب بھی پوشیدہ رکھاہے جس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ پرامید دیکھائی دے رہے ہیںدوسری جانب بعض حلقوں کا یہ دعویٰ ہے کہ آصف علی زرداری نے صورتحال جلد کنٹرول نہ کی اور معاملے کو مفاہمت کی بجائے مزاحمت سے حل کرنے کی کوشش کی تو مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔ اس لڑائی کا اصل سبب کیاہے اور مقاصد کیا ہیں یہ تو ذوالفقار مرز اور آصف علی زرداری ہی بہتر بتاسکتے ہیں لیکن ذوالفقار مرزا کی سرگرمیاں اس وقت پیپلزپارٹی کیلئے سخت مشکلات کا سبب بن رہی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ مقدمات اور دباؤ سے ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کس حدتک دبتے ہیں یہاں پھر” وہ کچھ کہنے پر راضی ہوتے ہیں جو ان کے بقول اب تک پوشیدہ ہے”۔ حالات سے ایسا محسوس ہوتاہے کہ آنے والے دنوں میں سندھ کی شہری اور دیہی سیاست میں مرزوں کی بغاوت کے اثرات اہم ہونگے،چاہے وہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا ہو یا صولت مرز ا صوبے کی دونوں بڑی پارٹیوں کو یقینا اس وقت مشکلات کاسامناہے۔
ajnasir1@gmail.com

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

سرجانی ٹائون سے لاپتہ 8 سالہ عروہ بازیاب

کراچی، پیر کے روز سرجانی ٹائون سیکٹر ڈی فور میں گھر کے باہر سے لاپتہ ہونےوالی 8 سالہ عروہ فہیم بازیاب، پولیس...

بدھ اور جمعہ کو سی این جی اسٹیشنز بند رہیں گے

کراچی، سندھ بھر کے سی این جی اسٹیشنز بدھ اور جمعہ کو بند رہیں گے، ذرائع کے مطابق بدھ اور جمعہ کو...

لیاقت آباد، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ٹیم پر حملہ

کراچی، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ٹیم پر لیاقت آباد میں حملہ، ذرائع ایس بی سی اے کے مطابق لیاقت آباد...

گزری، نجی بینک میں آتشزدگی،فائر بریگیڈ کی گاڑیاں روانہ

کراچی، گذری میں نجی بینک میں آتشزدگی، کنٹونمنٹ بورڈ کی گاڑیاں آگ پر قابو پانے کےلئے روانہ، ذرائع کے مطابق بینک میں...