Wednesday, December 2, 2020
- Advertisment -

مقبول ترین

ایم کیو ایم کے سینیٹر عتیق شیخ بھی کورونا میں مبتلا

ایم کیو ایم پاکستان کے سینیٹر عتیق شیخ بھی کورونا وائرس میں مبتلا، سینیٹر عتیق شیخ نے چند روز قابل نجی اسپتال میں طبی...

رینجرز کارروائیوں میں 3 اسٹریٹ کرمنلز گرفتار

سندھ رینجرز کی گلشن اقبال اور شاہ فیصل کالونی میں کارروائیاں، 3 ملزمان گرفتار، ترجمان رینجرز کے مطابق گرفتار ملزمان محمد اختر ،سدھیر احمد...

سندھ میں فنڈجاتا ہے لگتا نظر نہیں آتا، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ کا سندھ حکومت پر برہمی کا اظہار،جھیلوں اور شاہراہوں کے اطراف درخت لگانے کا حکم، اس موقع پرچیف جسٹس نے سخت ریمارکس...

جعلی نوٹ چلاتے خاتون گرفتار،نقلی 2 ہزار روپے برآمد

کورنگی کراسنگ کے قریب مارکیٹ میں جعلی نوٹ چلاتے ہوئے خاتون گرفتار، ہزار ہزار کے دو نقلی نوٹ بھی برآمد، پولیس کے مطابق ابراہیم...

کراچی کو 650 میگا واٹ کی بجلی کی فراہمی روکی گئی تو عدالت جائیں گے، سائٹ انڈسٹری ایسوسی ایشن

 300565-ElectricPMTstairstruck-1415214691-450-640x480سائٹ انڈسٹری ایسوسی ایشن کراچی میں دو فیکٹری مالکان کے وکیل نے ہفتہ کو چیئرمین نیپرا، وفاقی سیکریٹری پانی و بجلی، این ٹی ڈی سی کے مینیجنگ ڈائریکٹر اور دیگر کو قانونی نوٹس بھیجا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر سندھ ہائی کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی میں قومی گرڈ سے کراچی کیلئے 650میگاواٹ بجلی کی فراہمی روکی یا اس میں کمی کی گئی تو ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کیلئے رجوع کیا جائے گا۔ اس سے قبل کے الیکٹرک کے ڈائریکٹر لیگل نے گزشتہ 23 جنوری کو چیئرمین نیپرا کے نام خط میں 650 میگاواٹ بجلی کی فراہمی روکنے پر اسی سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا تھا۔ قانونی نوٹس میں متاثرہ فیکٹری مالکان نے 2012 میں اپنی دائر درخواست پر سندھ ہائی کورٹ سے حکم امتناع برقرار رکھنے کی درخواست کی ہے۔ عدالت عالیہ سے یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ کراچی کیلئے بجلی کی فراہمی میں کمی کرکے اسے 350 میگاواٹ کی سطح پر لانے کے مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے پر عملدرآمد روکنے کا حکم جاری کیا جائے۔ قانونی نوٹس میں مزید بیان کیا گیا ہے کہ 21 جنوری 2015 کو نیپرا کی جانب سے لکھے گئے خط پر وہ ردعمل ظاہر کررہے ہیں جس میں بتایا گیا ہے کہ پاور پرچیزنگ ایگریمنٹ 25 جنوری کو ختم ہوجائے گا اور کراچی کو 650 میگاواٹ بجلی مزید دستیاب نہیں ہوگی۔ مذکورہ فیکٹری مالکان نے اسی مسئلہ پر کے الیکٹرک کا 23 جنوری 2015 کو لکھے گئے خط کا حوالہ دیا۔

Open chat