Thursday, October 22, 2020
Home خصوصی رپورٹس کراچی میں موت بانٹتا دھواں (عبداللطیف ابو شامل)

کراچی میں موت بانٹتا دھواں (عبداللطیف ابو شامل)

pollutionموت بانٹتے زہریلے دھویں کا شکار کراچی کے مایوس، بے یار و مددگار شہری
شہر میں یومیہ ہزاروں ٹن کچرا جمع ہوتا ہے، متعلقہ ادارے محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے میں ناکام،
کاشف خان ایک نجی یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں۔ ان کا شمار ذہین طالب علموں میں ہوتا ہے۔ پچھلے دنوں انہیں سانس لینے میں دشواری ہونے لگی تو انہوںنے ایک مطب کا رخ کی۔ ڈاکٹر نے انہیں ایکسرے کرانے کا کہا۔ ایکسرے رپورٹ میں انہیں پھیپھڑوں میں انفیکشن کا انکشاف ہوا۔ ڈاکٹر نے کاشف کو طویل عرصہ ادویات کے استعمال اور سگریٹ نوشی ترک کرنے کا مشورہ دیا۔ کاشف ڈاکٹر کا مشورہ سن کرحیران ہوئے اس لیے کہ وہ سگریٹ نوش نہیں ہیں۔ دراصل کاشف جس یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں اس کے گرد و نواح میں کوڑے کرکٹ کے ڈھیر کو نظر آتش کیا جانا معمول ہے۔ جس کی وجہ سے کاشف پھیپھڑوں کے انفیکشن میں مبتلا ہوئے۔ اگر آپ اپنے اردگرد دیکھیں تو پورے شہر میں ہر جگہ کچرے کو آگ لگائی جاتی ہے جس کی وجہ سے سارا شہر دھوں دھواں ہے۔
پاکستان میں صنعتوں کی چمنیوں سے خارج ہونے والے کثیف دھوئیں نے فضا اور نکاسی کی بڑی لائنوں کے ذریعے بہائے جانے والے کیمیائی مادوں نے صاف پانی کو آلودہ کر دیا ہے، اور اس کے ہمارے ماحول پر نہایت منفی بلکہ مہلک اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔ آلودگی اس وقت دنیا کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ ہے جس سے نجات پانا انتہائی ضروری ہے۔ پاکستان اور خاص طور پر کراچی میں ماحولیاتی آلودگی میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ ہر سال بائیس ہزار سے زائد اموات ہوتی ہیں۔ کراچی میں فضائی آلودگی کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے جس کا اہم سبب ہزاروں فیکٹریوں سے خارج ہونے والا زہریلا دھواں، رکشوں کی بھر مار، غیر معیاری پیٹرول اور ڈیزل کا استعمال ، کچرے کوڑے کو جلانا ہے۔ دھواں نہ صرف انسانی صحت بلکہ فصلوں، سبزیوں، پھلوں وغیرہ کے لیے بھی بے حد نقصان دہ ہے۔ فضائی آلودگی کے علاوہ ندی نالوں میں بہایا جانے والاصنعتی فضلہ آبی آلودگی بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے جس سے نہ صرف آبی حیات بلکہ عوام کی صحت کو بھی سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ دنیا بھر میں آلودگی کی شرح کم کرنے کے لیے شجر کاری کی جارہی ہے تاہم پاکستان میں اس معاملے کے بالکل برعکس ہے۔ پاکستان میں جنگلات کی کمی کے باوجود نئی بستیوں کی تعمیر کے لیے درختوں کو بے دردی سے کاٹا جا رہا ہے۔ کراچی میں قدیم گوٹھ جہاں کھیتی باڑی کی جاتی تھی اب وہاں کئی منزلہ رہائشی عمارتیں بنائی جا رہی ہیںاور یہ سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا اس کے لیے درختوں کو کاٹا جارہا ہے نتیجے میں فضائی آلودگی میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔
آلودگی کا سدباب کرنے کے لیے حکومتی سطح پر کچھ اقدامات کیے گئے ہیں اور کچھ غیر سرکاری تنظیمیں بھی اس سلسے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں ۔ لیکن یہ انتظامات انتہائی نا کافی ہیں۔ سرکاری سطح پر ماحولیاتی آلودگی کو کنٹرول کرنے کے لیے ادارے موجود ہیں۔ جن کے لیے کروڑوں کا بجٹ مختص کیا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے ان اداروں کی کارکردگی صفر ہے۔ لیکن اس پر توجہ دی جائے تو ماحولیاتی تحفظ کے لیے پاکستان میں نہایت موثر اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
کراچی می©ں یومیہ ہزاروں ٹن کچرا جمع ہوتا ہے۔ لیکن متعلقہ ادارے اسے محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ گلیوں میں جمع ہو جانے والے کچرے کو آگ لگادی جاتی ہے جس سے پورا شہر دھویں کی لپیٹ میں ہے۔ صنعتی فضلے کو جلانے یا پانی میں بہانے کے بجائے ری سائیکلنگ کو فروغ دیا جا سکتا ہے لیکن یہ کام حکومتیں کرتی ہیں، لیکن وہ حکومتیں جو فرض شناس ہوں اور جنہیں اپنے شہریوں کی صحت عزیز ہو۔ بد قسمتی ہے کہ ہماری حکومتیںاور ہم خود بھی اپنے فرائض سے غافل ہیںاور اس کا نتیجہ ہے کہ ہم بیمار قوم میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم اور ہمارے ادارے اپنی روش کو بدلیں اور ہنگامی بنیادوں پر آلودگی جیسے گمبھیر مسئلے پر توجہ دیں اور اسکے لیے راست اقدامات کریں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ما©حول دوست پالیسیوں کے نفاذ اور عوام میں شعور کو اجاگر کیا جائے، تاکہ آلودگی پیدا کرنے والے عوامل پر قابو پاکر ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل ہوسکے۔ حکومت علمی اداروں کے ساتھ مل کرآلودگی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ٹھوس اقدامات کر سکتی ہے اور ماحول سے متعلق ملکی اداروں کا یہ فرض ہے کہ وہ ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کے لیے اپنے فرائض تندہی کے ساتھ انجام دے۔
اگر آلودگی خصوصاََ فضائی آلودگی کی وجہ سے پیدا ہونے والے ذرات کینسر ، سانس کی بیماریوں کے سبب اور مدافعتی نظام کو متاثر کر رہے ہیں۔ سیسے، پارے کے نہ دکھائی دینے والے ہوا کے ذریعے جسم میں شامل ہو کر آہستہ آہستہ متاثرہ فرد کو درج بالا بیماریوں میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ اس بات کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ آلودگی کی وجہ سے مہلک بیماریوں میں مبتلا ہونے والے افراد کی شرح غریب اور متوسط طبقے میں بہت زیادہ ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں عوام کے لیے ایک معمولی بیماری کا علاج کروانا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے، وہاں چند سو روپے دیہاڑی پر کام کرنے والے آدمی کے لیے کینسر یا دیگر موذی مرض کے علاج سے زیادہ سہل موت ہوتی ہے۔
یہ حکومت وقت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو آلودگی کے خاموش قاتل سے تحفظ فراہم کرے اور موت بانٹنے والے دھوئیں سے اپنے شہریوں کی زندگی کو محفوظ بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔ حکومت کو ماحول دوست اقدامات کرتے ہوئے شجرکاری پر توجہ دینے کے ساتھ جنگلات کو بچانے کے فوری اقدامات کرنے ہوں گے۔
بشکریہ روزنامہ ایکسپریس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

کیپٹن صفدرکی گرفتاری تحقیقات کیلئے کمیٹی قائم

سندھ حکومت نے کیپٹن صفدرکی گرفتاری اور پولیس افسران کی چھٹیوں کی درخواست پرتحقیقاتی کمیٹی قائم کردی ، کمیٹی تحقیقات مکمل کرکے...

مسکن چورنگی ھماکہ،مقدمہ گلشن اقبال تھانے میں درج

مسکن چورنگی کے قریب دھماکے سے عمارت کے تباہ ہونے کی ایف آئی آرگلشن اقبال تھانے میں درج کرلی گئی ہے، پولیس...

سندھ حکومت اور پولیس ڈرامہ کررہی ہے، شبلی فراز

کراچی، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے ایک بار پھر سندھ پولیس کی چھٹیوں کی درخواست کو ڈارمہ قرار دے...

کراچی، مسکن چورنگی پر دھماکے کے زخمیوں کے علاج کے معاملے محکمہ صحت سندھ نے نجی اسپتال کو خط لکھ کر آگا...