جا خوبصورت تجھے چھوڑ دیا (سعید احمد)

karachi-crimeکراچی شاید دنیا کا واحد شہر ہے جہاں امن کو مستقل مکین بنانے کے لیے ہر نسخہ آزما لیا گیا۔ 4 آپریشن بھی کرلیے، گورنر راج بھی لگ گیا، مقامی حکومتوں کو اختیارات بھی دے دیے گئے، مگر ایسا کیا کیا جائے کہ امن مستقل بنیادوں پر قائم ہوسکے۔
میں یقین سے تو نہیں مگر اپنے بیان کو بہت حد تک ٹھیک سمجھتا ہوں کہ شہر قائد میں کم از کم  95 فیصد ایسے افراد ہونگے جو سڑک پر گھومتے پھرتے ضرورت مندوں کی کبھی نہ کبھی مدد کرچکے ہونگے۔ لیکن میں گذشتہ روز تک اُن 5 فیصد خوش نصیبوں میں تھا جس کے قریب آکر کبھی بھی کسی ضرورت مند نے یہ نہیں کہا تھا کہ،
’’چل بھائی جو بھی ہے نکال، ورنہ گولی مار دوں گا‘‘
لیکن اب کیا بتائیں کہ آج ہمارا بھی شمار 95 فیصد لوگوں کی طویل فہرست میں آچکا ہے۔ ویسے تو ’’جس کو اللہ رکھے اُس کو کون چکھے‘‘ کے مصداق اللہ کے لئے انسان کو موت کے منہ سے نکال کر نئی زندگی کی سیڑھی پر لا کھڑا کرنا ایک انتہائی معمولی سی بات ہے اور اس قسم کے واقعات ہم اکثر و بیشتر ٹیلی ویژن اسکرین پر دیکھتے اور سنتے بھی رہتے ہیں لیکن جب کراچی میں رہتے ہوئے پہلی مرتبہ آپ کا پالا کسی ڈکیت سے پڑے اور وہ آپ کو قیمتی اشیاء سے محروم کرنے کے بجائے آپ سے ہنس گپیوں میں مگن ہوجائے تو یقیناً میری طرح ہر شخص کے لئے دلچسپی کے ساتھ ساتھ حیرانی کا بھی باعث ہوگی۔

ہوا کچھ یوں کہ گزشتہ روز دفتر میں کام میں مصروف تھا کہ اچانک ایک ضروری کام سے جانا پڑ گیا۔ آفس کے ایک دوست سے موٹر سائیکل کی چابی لی اور دوپہر ایک بجے کے قریب اپنے ذاتی کام سے دفتر سے کچھ دیر کی چھٹی لے کر نکلا۔ ابھی بلوچ کالونی پل سے نیپا کی طرف جانے کے لئے شارع فیصل پر چڑھا ہی تھا کہ اچانک ایک بائیک میرے بائیں جانب آگئی۔ موٹر سائیکل چلانے والے شخص نے سر پر ہیلمٹ لگا رکھا تھا جس کی وجہ سے چہرہ غیر واضح تھا لیکن اتنا ضرور معلوم ہو رہا تھا کہ موصوف نے فرنچ کٹ رکھی ہوئی ہے۔

1702282اچانک وہ گویا ہوئے کہ بھائی شارع فیصل جانا ہے، کیا یہی روڈ سیدھا جاتا ہے؟

یہ شارع فیصل ہی ہے آپ نے کہاں جہاں جانا ہے؟ میں نے جواب دیا۔

میں نے ایف ٹی سی بلڈنگ جانا ہے، گورا قبرستان، ہیلمٹ پہنے شخص نے کہا تو میں نے جواب دیا کہ بائیک سائیڈ پر لگائیں میں آپ کو راستہ بتاتا ہوں۔

میرے کہنے پر چمچماتی 70 پر بیٹھے صحت مند و توانا شخص نے بائیک عوامی مرکز کے سامنے والے اسٹاپ سے چند قدم آگے روک دی۔ میں نے بھی بائیک کو بریک لگائی اور اس شخص سے ہاتھ ملایا، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر موٹر سائیکل پر بیٹھے شخص کو راستہ سمجھایا اور جانے لگا تو اس شخص نے بتایا کہ میرا سامان سے بھرا ٹرک پیچھے لال رنگ کی بلڈنگ (لال کوٹھی) کے پاس کھڑا ہے کیا میں رانگ سائیڈ سے پیچھے چلا جاؤں؟ میں نے اسے سروس روڈ سے جانے کا کہا اور گاڑی کو کِک مار کر اسٹارٹ کرنے لگا۔

سامنے موجود شخص نے شکریہ ادا کیا لیکن اس کے اگلے جملے نے میرے پاؤں کے نیچے سے جیسے زمین ہی نکال دی۔ کہنے لگا
’’میں ڈکیت ہوں اور میرا نام انور بلوچ ہے۔ یہ سارا میرا علاقہ ہے اور آگے پیچھے میرے آدمی پھیلے ہوئے ہیں۔ اگر میں چاہوں تو تم سے یہ بائیک بھی چھین لوں اور  وہ پیسے بھی جو ابھی بینک سے نکلوا کر آئے ہو۔‘‘
میں نے کہا کہ میں تو بینک گیا ہی نہیں جس پر ڈکیت بھائی نے کہا کہ جھوٹ بول رہے ہو تم تمھاری جیب میں 5، 5 ہزار کے 16 نوٹ ہیں، نکالو اپنا بٹوا۔ انور بلوچ نے زور دار قہقہہ لگایا اور اپنا بھاری بھرکم ہاتھ میرے ہاتھ پر مارا اور کلمہ پڑھ کر کہا کہ
’’اللہ کی قسم تم نے سچ بولا اور اچھے اخلاق سے بات کیا جس کی وجہ سے ہم تم کو چھوڑ رہا ہے۔موبائل نکالو اور ہمارا نمبر لکھو، اگر کوئی کام ہووے، کسی کو اٹھانا یا ٹپکانا ہو تو ایک فون کردینا، تم اپنا بھائی ہے تم سے کوئی پیسہ بھی نہیں لے گا۔‘‘
1-a-1-8-arrested-in-targeted-raidsبس یہ بات کہہ کر وہ روانہ ہوگیا۔ میں نے بھی وقت ضائع کیے بغیر بائیک پر کک لگائی اور منزل مقصود کی جانب روانگی میں ہی عافیت جانی۔ لیکن آگنے نکل جانے کے باوجود دل میں خوف تھا کہ وہ کہیں پیچھے تو نہیں آرہا لیکن ساتھ ہی اللہ کا شکر ادا کیا کہ زندگی میں پہلی مرتبہ کسی ڈکیت سے بالمشافہ ملاقات ہوئی مگر بغیر کسی نقصان کے جان چھوٹ گئی۔ ساتھ ساتھ انتہائی دلچسپ انداز میں ہونے والی ملاقات پر حیران و پریشان بھی تھا کہ کیا وہ واقعی ڈکیٹ تھا؟ اگر تھا تو کمال ہے اُس کی ہمت و جرات کو کہ کراچی میں جاری آپریشن کے باوجود اُس کو پکڑے جانے کا قطعی طور پر کوئی خوف نہیں تھا۔ پھر سوچا کہ اگر وہ ڈکیٹ نہیں تھا اور صرف مذاق کررہا تھا تب بھی اُس کی دیدہ دلیری پر ششدر تھا کہ ایسا بھی کوئی مذاق کرتا ہے بھلا؟

یہ بات ٹھیک ہے کہ ماضی کے برعکس کراچی کے حالات بہت حد تک بہتر ہوچکے ہیں، لیکن اب بھی لوگوں کے دلوں سے خوف نکلنا باقی ہے۔ ابھی گزشتہ دنوں ایک دوست کا موبائل چھینا۔ چونکہ یہ کراچی والوں کے لیے اب ایک عام سی بات بن گئی ہے تو لوگ رسمی سی تعزیت کے بعد اپنے کاموں میں مصروف ہوجاتے ہیں کہ ہر کوئی اِس کیفیت سے گزرچکا ہے۔ تو جس دوست کا موبائل چھینا اُس سے اگلے روز ملاقات ہوئی۔ ایک دوست نے پوچھا کہ کیا تمہیں گن دکھائی تھی؟ جس پر دوست نے انتہائی دلچسپ جواب دیا۔
’’کہنے لگا اس وقت دماغ کہاں کام کرتا ہے، میرا تو یہ معاملہ ہے کہ جس نے ہمت دکھائی ہمارا موبائل تو اسی کا ہو جائے گا‘‘
عنی خوف کا یہ عالم ہے کہ اب اِس شہر میں رہنے والوں نے مزاحمت کا خیال بھی دل و دماغ سے نکال دیا ہے۔

واپس دفتر پہنچا اور دوستوں کو قصہ سنایا تو سب نے اپنے اپنے مشورے دینا شروع کر دیئے کہ تمہیں یوں نہیں یوں کرنا چاہیئے تھا۔ بائیک نہیں روکنی چاہیئے تھی وغیر وغیرہ، جس پر میں نے سب کی ہاں میں ہاں ملائی اور کہا کہ،
’جان بچی سو لاکھوں پائے‘‘
بشکریہ ایکسپریس

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top