سوشل میڈیا رحمت یا زحمت ( مریم صدیقی)

social mediaآج کا دور سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے، دنیا سمٹ کر ایک گلوبل ولیج کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ کتب خانوں، ڈاک خانہ، کیمرہ، ریڈیو، ٹی وی، وی سی آر کی جگہ سمارٹ فونز اور لیپ ٹاپ نے لے لی ہے۔ موبائل اور کمپیوٹر کے ذریعے سوشل میڈیا نے گھر گھر تک رسائی حاصل کرلی ہے۔ اب دنوں کا فاصلہ سمٹ کر گھنٹوں اور گھنٹوں کا سیکنڈوں میں تبدیل ہوچکا ہے۔ اب ہزاروں میل دور بیٹھے لوگوں سے رابطہ کرنا چند لمحوں کا کام ہے۔ میلوں دور بیٹھے رشتہ داروں، دوست احباب سے باآسانی نہ صرف رابطہ قائم کیا جاسکتا ہے بلکہ ویڈیو کال کے ذریعے بنفس نفیس ملاقات بھی کی جاسکتی ہے۔
یکم جنوری 1983 کو انٹرنیٹ کی ایجاد نے دنیا میں انقلاب برپا کردیا۔ 1990 میں ورلڈ وائیڈ ویب (www ) کی ایجاد نے آن لائن دنیا کو مزید ترقی کی منازل کی طرف گامزن کردیا۔ سوشل میڈیا کے ذریعے ہزاروں میل دور بیٹھے لوگوں کو قریب کردیا۔ فیس بک، ٹوئیٹر، اسنیپ چیٹ، انسٹاگرام نے مرد و خواتین کے ساتھ ساتھ بچوں اور بوڑھوں کو بھی اپنا گرویدہ بنا لیا۔ پردیس کی صعوبتیں برداشت کرنے والے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے اپنوں کے ساتھ غم اور خوشی کے موقع پر اپنے گھر والوں سے دور رہ کر بھی قریب ہیں۔
اس جدید دور میں سوشل میڈیا وہ پلیٹ فارم ہے جہاں بیک وقت کئی لوگوں سے رابطہ رکھ کر اپنی آواز لاکھوں کڑوڑوں لوگوں تک باآسانی پہنچائی جاسکتی ہے۔ آپ کا موقف یا اظہار رائے لمحوں میں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے، نہ صرف یہ بلکہ دیگر کئی موضوعات پر ایک کمیونٹی کی صورت میں تبادلہ خیال،ترسیل پیغامات اور معلومات کو شئیر بھی کیا جاسکتا ہے۔ جہاں کئی لوگ آپ کے تجربات سے مستفید ہوں گے وہیں کہیں نہ کہیں کسی اور کے تجربات و مشاہدات ہمارے علم میں بھی اضافے کا سبب بنیں گے۔ فیس بک ہو یا ٹوئٹر سوشل میڈیا کے وہ ذریعہ ابلاغ ہیں جن کے ذریعے دنیا کے کسی گوشے میں وقوع پذیر ہونے والا واقعہ سیکنڈوں میں جنگل میں آگ کی طرح پھیل جاتا ہے۔ عوام الناس کے مسائل کو اجاگر کرنے اور ان کے حق میں آواز بلند کرنے کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم ہے۔
جس طرح ہر چیز کے مثبت اور منفی پہلو ہوتے ہیں اسی طرح سوشل میڈیا کے بھی مثبت اور منفی پہلو اس کے استعمال پر منحصر ہیں۔ اگر مثبت پہلو کی بات کی جائے تو سوشل میڈیا کئی لحاظ سے عوام و خواص کے لیے مفید ہے۔ چیدہ چیدہ پہلو یہ ہیں۔
آن لائن سیکھنا سکھانا:
سوشل میڈیا گھر بیٹھے آن لائن تعلیم حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ۔اس سلسلے میں بہت سی ویب سائٹس فری اور پیڈ لیکچرز فراہم کر رہی ہیں۔ آن لائن ٹیوشن کے ذریعے گھر بیٹھے بچوں کو ٹیوشن پڑھایا جارہا ہے۔ جو خواتین ذاتی و گھریلو مصروفیات کی بنا پر تعلیم حاصل کرنے یا کوئی ہنر سیکھنے کے لیے وقت نہیں نکال پارہیں وہ آن لائن اپنے اوقات کارر کی سہولت سے مختلف کورس کرسکتی ہیں۔
معلومات کی فراہمی:
سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا بھر کے لوگوں سے نہ صرف باآسانی رابطہ قائم کیا جاسکتا ہے بلکہ دنیا کے کسی بھی خطے کے بارے میں وسیع معلومات کا حصول بھی کے ذریعے ممکن ہے۔ مختلف ثقافت سے تعلق رکھنے والے اور مختلف زبانیں بولنے والوں سے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ قائم کرکے معلومات کا وسیع خزانہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
آن لائن بزنس/ آن لائن مارکیٹنگ:
سوشل میڈیا کئی افراد کے لیے حصول معاش کا ذریعہ بھی ہے۔ کثیر پیمانے پر کیے جانے والے آن لائن بزنس سوشل میڈیا پر مقبولیت حاصل کرچکے ہیں۔ مغرب کی طرز پر یہاں بھی لوگوں میں آن لائن شاپنگ کا رواج بڑھتا جارہا ہے۔ جس کے ذریعے آن لائن خرید و فروخت کا سلسلہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جارہا ہے۔ بیرون ممالک تک پھیلے ہوئے آن لائن بزنس گھر بیٹھے لوگوں کو روزگار فراہم کر رہا ہے۔
آن لائن بزنس کے علاوہ سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے کاروبار کی مارکیٹنگ کا رواج بھی زور پکڑچکا ہے۔ بیک وقت ایک اشتہار کئی سوشل میڈیا صارفین کی نظروں سے گزرتا ہے اور یوں آن لائن مارکیٹنگ کا یہ سلسلہ کامیابی سے رواں دواں ہے۔
کتب کی فراہمی:
مطالعہ کے شوقین حضرات کے لیے دنیا بھر کی معلومات اب ای-کتب کی صورت میں سوشل میڈیا پر دستیاب ہے۔ ضخیم سے ضخیم اور نایاب کتب کا حصول بھی اب مشکل نہیں رہا۔ لائبریریوں کی خاک چھانتے طلبہ و طالبات کے لیے بھی یہ مواد کسی خزانے سے کم نہیں۔ ایک کلک کی دوری پر مطلوبہ موضوع پر کتب کی طویل فہرست نظروں کے سامنے آجانا ہفت اقلیم ہاتھ لگ جانے سے کم نہیں۔ سوشل میڈیا بلاشبہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس نے ہر عمر کے شخص کے اپنا گرویدہ بنالیا ہے۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو ایک پلیٹ فارم کے ذریعے جوڑنے کا سہرا بلاشبہ سوشل میڈیا کے سر جاتا ہے۔ جیسے کہ سوشل میڈیا کے کئی مثبت پہلو ہیں بالکل اسی طرح ہماری زندگی پر اس کے منفی اثرات بھی مرتب ہوسکتے ہیں اگر ہم اس کے استعمال میں لاپرواہی برتیں۔
سوشل میڈیا ایک نشہ:
کسی بھی چیز کی زیادتی نقصان دہ ہے۔ اسی لیے اسلام ہمیں میانہ روی اور اعتدال کا درس دیتا ہے پھر اس کا تعلق چاہے زندگی کے کسی بھی شعبے سے کیوں نہ ہو۔ انسانی فطرت ہے کہ اس کا جھکاو جس چیز کی طرف زیادہ ہوگا وہ اس کا عادی ہوتا چلا جائے گا۔ پھر چاہے وہ کوئی چیز ہو یا شخص چاہے سوشل میڈیا ہی کیوں نہ ہو۔ یہ بھی ایک قسم کا نشہ ہے جو انسان کو اردگرد یہاں تک کہ اپنی ذات تک سے بے نیاز کردیتا ہے۔ سوشل میڈیا کا نشہ بھی ایسا ہی ہے اور اس کا شکار بالخصوص نوجوان نسل ہے جو پڑھائی، کام کاج سے بے گانہ ہوکر کثرت سے سوشل میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں۔
بے حیائی اور فحاشی:
اسلام کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز کرکے انسان اپنے ہی ہاتھوں اپنی آخرت برباد کرنے پر تلا ہوا ہے۔ سوشل میڈیا پر نوجوان لڑکے لڑکیوں کی دوستیاں عام ہیں۔ سلام دعا سے شروع ہونے والی گفتگو چند ہی دن میں محبت کے عہد و پیمان میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ والدین کی تربیت کو بھلا کر لڑکے لڑکیاں اپنے گھروں کی عزتوں کو سرعام نیلام کرنے میں مصروف ہیں۔ کہیں لڑکیاں والدین سے چھپ کر شادی کر رہی ہیں تو کہیں بلیک میل کیے جانے پر خودکشی کرنے پر مجبور ہیں۔ اس تباہی میں بڑا ہاتھ
سوشل میڈیا کا ہے جس کے ذریعے لڑکے لڑکیاں والدین سے چھپ کر چور راستوں کے ذریعے بے حیائی کے راستے پر گامزن ہیں۔
اس کا سد باب کرنا ہے تو والدین کو چاہیے کہ اپنی اولاد کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔ ان سے اس قدر غافل نہ ہوں کہ وقت گزرنے پر سوائے ملال کہ کچھ ہاتھ نہ آئے۔سوشل میڈیا کے جہاں بےشمار فوائد ہیں وہیں کثیر نقصانات بھی ہیں۔ مثبت نتائج کا حصول اس کے مثبت استعمال پر منحصر ہے۔ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم اس کے منفی استعمال کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات کریں اور نسل نو کو اس اندھے کنویں میں گرنے سے بچائیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top