سوشل میڈیا اور نوخیز اذہان (عبد اللہ قمر)

social-media-arrow-handسوشل میڈیا  کا سب  بڑا  بیک وقت نقصان اور فائدہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا محض ایک کلک کی دوری پر ہے۔ فائدہ اس طرح ہے کہ  کوئی بھی اچھی بات آپ کو دنیا تک پہنچانے میں کوئی محنت نہیں کرنی پڑتی اور نقصان اس مد میں ہے کہ غلط چیز کو اپ تک پہنچنے میں وقت نہیں لگتا۔ ویسے بھی یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ  سوشل میڈیا کے نقصان اور فوائد دونوں موجود ہیں۔ مگر میری ذاتی رائے یہ ہے کہ اس کا نقصان اس وقت زیادہ ہو رہا ہے۔اس نقصان کی بڑی وجہ اس کا بے جا اور بے مقصد استعمال ہے۔سوشل میڈیا عموماً نوجوان طبقہ زیادہ استعمال کرتا مگر اس بات میں بھی کوئی شبہ نہیں ہے کہ اس نشے کی لت درمیانی  عمر کے لوگوں کو بھی لگ چکی ہے۔نوجوانوں میں خواہ وہ طلبہ ہوں یا کسی پیشہ وغیرہ سے وابستہ افراد  دونوں ہی اس کا خوب استعمال کر رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر اپنی اپ ڈیٹس دینے کو باقاعدہ اپنے  معمولاتِ زندگی میں سے ایک سمجھتے ہیں۔
ابھی چند دن پہلے کی بات ہے  جس نے مجھے ورطہ حیرت بلکہ ایک پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ میں ٹوئیٹر کی نسبت فیس بک  قدرے کم استعمال کرتا ہوں۔ رات بارہ  بجے کے قریب میں  نے فیس آن کی تو مجھے لگا شاید فیس بک نے تصاویر اپلوڈ کرنے کا آپشن ختم کرکے صرف ویڈیو کی اجازت دے رکھی ہے۔ میں نے جہاں تک اسکرول کیا   لائیو  ویڈیوز  کے علاوہ کچھ نہیں پایا۔غصے اور پریشانی کی ملی جلی کیفیت میں  پہلے تو  میں نے سوچا چھوڑو  یار سو جاؤ۔پھر میرے ذہن میں خیال آیا کہ کیوں نا سن لیا جائے کہ ہمارے نوجوان لوگ  لائیو ویڈیوز میں باتیں کیا کرتے ہیں۔ خیر ایک ویڈیو دیکھنا شروع کی  تو اس میں ایک موصوف  جو کہ کچھ  خاص پڑھے لکھے تو معلوم نہیں ہوتے تھے اور ملازمت کی غرض سے سعودیہ میں مقیم تھے ، ایک ہندو لڑکی  کو لے کر ایک گروپ میں لائیو بیٹھے تھے۔ساتھ ساتھ وہ نوجوانوں کی پسندیدہ حرکت  یعنی شیشہ بھی پی رہے تھے  اور اپنے گروپ کے احباب سے گپ شپ بھی کر رہے تھے۔چونکہ ایک لڑکی کو وہ کال پر لیے بیٹھے تھے تو نیچے  نہ جانے کس ذہنیت کے لوگ تھے جو یہ تبصرہ کر رہے تھے یہ  بندہ اپنی  ریٹنگ بڑھا رہا ہےاور وہ جواب دے رہے تھے کہ نہیں بھائی ہم کوئی ریٹنگ نہیں بڑھا رہے ہم تو بس آپ کے ساتھ گپ شپ کرنے آئے ہیں۔ یہ عزت تو اللہ نے دی ہے۔میں تا دمِ تحریر نہیں سمجھ پایا کہ اس  ویڈیو کی حیثیت اور اوقات کیا ہے جس کی ریٹنگ کی بات کی جا رہی ہے۔
اس کے بعد ایک اور گروپ میں ایک اور ویڈیو دیکھی اس میں لڑکی جو کہ اپنا چہرہ دکھائے بغیر لائیو ویڈیو کر رہی تھی۔ یوں لگ رہا تھا کہ کسی یونیورسٹی کے ہاسٹل میں بیٹھی ہے اور نیچے لوگ لگے ہوئے ہیں  کہ اپنا چہرہ دکھائیں اپنا چہرہ دکھائیں ۔

قارئین کرام! ان یہ دو مثالیں ہمارے سامنے ہیں، ایک وہ شخص جو ملازمت کرتا  ہے اور دوسرا وہ جو ایک یونیورسٹی میں پڑھتا ہے۔ایمانداری کے ساتھ فیصلہ کیجیئے کہ کیا یہ کام اس نوجوان کے کرنے کے ہیں۔۔۔؟؟؟وہ نوجوان جس سے پوری امتِ مسلمہ اس وقت امید لگائے بیٹھی ہے کیا اسے زیب دیتا ہے کہ وہ اس طرح اپنا قیمتی وقت اور توانائیاں  یوں بے مقصد کاموں میں برباد کرے۔۔؟؟

اب آئیے ذرا اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ جب سوشل میڈیا  اس طرح استعمال ہوتا ہے تو اس کا نقصان کس قدر ہوتا ہے۔ آپ   کا دشمن سوشل میڈیا کو  آپ کے خلاف بطور  جنگی ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق  پاکستان کی کل 22 کروڑ عوام میں سے 4  کروڑ 20 لاکھ لوگ ایسے ہیں جو سوشل میڈیا پر موجود ہیں مگر صرف ایک لاکھ  لوگ ایسے جو سوشل میڈیا کو صحیح معنوں جنگی ہتھیار  سمجھ کر استعمال کر رہے ہیں۔باقی تمام لوگ سوشل میڈیا پر یونہی بس لطف اندوز ہونے کے لیے موجود ہیں جبکہ ہماری روایتی حریف بھارت میں  بیس کروڑ ساتھ لاکھ لوگ  صرف اور صرف سوشل میڈیا پر ہمارے مقابلے میں موجود ہیں۔4 کروڑ 19 لاکھ لوگ جو سوشل میڈیا کو محض انٹرٹینمنٹ کے لیے استعمال کرتے ہیں بلاواسطہ دشمن کے پروپیگنڈے کا شکار ہو رہے ہیں۔
سوشل میڈیا کے ذریعے دشمن بنیادی طور پر دو  پہلوؤں سے حملہ آور ہے۔ ایک تو  وہ  فکری محاذ پر  اس قوم نوجوانوں،  جنہوں نے آگے چل کر ملک و قوم کی باگ ڈور سنبھالنی ہے، کے اذہان و قلوب میں  نظریہ پاکستان کے متعلق مختلف شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس محاذ پر تو     ہم دشمن کو شکست دے سکتے ہیں مگر دوسرا پہلو کہیں زیادہ خوفناک اور بھیانک ہے۔وہ یہ ہے کہ دشمن یہ سعی کر رہا ہے کہ  اس قوم کے نوجوانوں  کو ذہنی طور پر مفلوج کر دیا جائے ، ان سے تدبر کی صلاحیت چھین لی جائے جس کی نصیحت اقبال نے کی ہے  اور انہیں فحاشی اور عریانی کی جانب راغب کر دیا جائے تاکہ آئندہ جو نسل آئے وہ ذہنی طور مفلو ج  ہو کہ وہ عالم کفر کا دم تو بھریں مگر شجرِ اسلام  کی آبیاری کرنے سے قاصر ہو۔
شجرِ اسلام کی جس ٹھنڈی اور میٹھی چھاؤں میں بیٹھنے کو امت ترس رہی ہے۔اس ساری صورحال کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی قوم کی خصوصاً نوجوان نسل کی تربیت نہیں کی۔آج میڈیا کے محاذ پر دشمن کی ضربیں مسلسل جاری ہیں وہ چار کروڑ 19 لاکھ لوگ جو  سوشل میڈیا پر  لطف اندوز ہونے کے لیے موجود دشمن کا انتہائی آسان ہدف ہیں ۔ مگر اس بات میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ ایک لاکھ محبِ وطن پاکستانی وطن عزیز کی نظریاتی سرحدوں کے جس طرح محافظ بن کے کھڑے ہیں ، کی ضربیں کس قدر کاری ہیں۔ مگر آج مجھے اور آپ یہ عہد کرنا چاہیئے کہ وہ لوگ جو دشمن کے پروپیگنڈہ کا شکار ہو رہے ہیں  انہیں بچا کر ان کی توانائیوں کو درست سمت میں صرف کروانا ہے کیونکہ یہ معاملہ صرف نظریاتی جنگ تک محدود نہیں بلکہ اس شخص کی آخرت کا معاملہ ہے۔اللہ اس ملک کی حفاظت فرمائے اور ہمیں اس سرزمین  پاک کے دفاع و  استحکام میں کردار ادا کرنے کی توفیق دے۔(آمین)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top