سوچ سے عاری معاشرہ(شیخ خالد زاہد)

society 2
بھیڑ چال ایک محاورہ ہے اوراس کی وضاحت یہ ہے کہ جیسا معاشرہ چل رہا ہو ویسے ہی چلا جائے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ہر خاص و عام اس اصطلاح کی گردان کرتا سنائی دیتا ہے یعنی ہم لوگ یہ جانے بغیر کہ جانے والی سڑک پر گاڑیاں واپس کیوں آرہی ہیں بس جلد سے جلد مڑ جانے کی کوشش شروع کر دی جاتی ہے۔ یہ ہمارا قومی المیہ بن چکا ہے۔ بہت کم لوگ کسی مخصوص راستے سے ہٹ کر منزل کی جانب پیش قدمی کرتے ہیں جنہیں ہمارے معاشرے میں بیوقوف اور بہت کچھ بھی کہا جاتا ہے۔ اکثریت ایسے افراد کی ہے کہ جو گھنٹوں طویل قطار کامیں کھڑے رہنا پسند کرلیتے ہیں لیکن دائیں بائیں سے کسی انجان راستے کا چناو نہیں کرتے۔

ایک طرف حالات کی ناسازگاری اس راستے کی بڑی رکاوٹ ہے تو دوسری طرف محدود ایندھن بھی وجہ ہوسکتی ہے(جوکہ بھیڑ میں پھنسے کھڑے رہنے سے بھی خرچ ہوتا رہتا ہے)۔ ہمارے تصورات و خیالات کتنے ہی آزاد ہوجائیں کتنے ہی ترقی پسند ہوجائیں لیکن ہم لوگ مختلف طریقوں سے دائمی طور پر پابند سلاسل ہیں۔ ہم خاندانی نظاموں کے خلاف علمِ بغاوت بھی بلند کرتے ہیں لیکن ہم لوگ عملی طور پر جکڑے ہوئے ہیں۔ اب ہم لوگوں کی کیفیت ایسی ہو چکی ہے کہ کسی فرسودہ روایت کو ترک کرنے کی بات ہوتو لگتا ہے کسی گناہ کبیرہ کے مرتکب ہونے جا رہے ہیں (نعوذ باللہ)۔

ہم نے بطور قوم سوچنا اور سمجھنا چھوڑ دیا ہے اور سب کے سب مختلف رنگوں کی بتیوں کے پیچھے چلے جا رہے ہیں۔ ترقی یا پذیرائی ہمارے آرام دہ حصار سے باہر ہوتی ہے۔ جس کے لیے ہماری کوشش نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے اور اگر تھوڑی بہت جو ہوتی بھی ہے وہ اپنے حصار میں رہتے ہوئے کی جاتی ہے۔ بچوں کی تعلیم پر بہت توجہ دی جا رہی ہے کہ لیکن کسی کو اس سے سروکار نہیں کہ بچے کیا تعلیم حاصل کر رہے ہیں ہم نے اپنی اپنی ذمہ داریاں مختلف ٹھیکے داروں کے حوالے کر چھوڑی ہیں جن میں اسکول و مدرسہ علم کے ذمہ دار ہیں گلی محلہ تربیت کا ذمہ دار ہے اور مسجدیں ادب و احترام کی ذمہ دار ہیں۔ زیادہ نہیں کچھ ساعتوں کے لیے غور کر لیجیے کہ آپ اپنے بچوں کے بارے میں کتنا جانتے ہیں کیا آپ کے علم میں ہے کہ اسکول میں پڑھائی جانے والی کتابیں کن اشاعتی اداروں کی ہیں؟

ہم معمولات زندگی چلانے کے لیے سردھڑ کی بازی لگائے ہوئے ہیں کسی طرح طرز زندگی کا میعار بہتر سے بہتر بنالیں۔ جو کچھ ہم نے جھیلا ہے ہماری آنے والی نسلیں ان تلخیوں میں نہ الجھیں لیکن یہ ساری مثبت سوچیں انفرادی نوعیت کی ہوتی ہیں ان سب میں میں سب پر غالب ہوتا ہے۔ محدود سوچ کے باعث نتائج بھی کوئی خاطر خواہ کامیاب ہوتے نہیں دکھائی دیتے۔ گھریلو ذمہ داریوں میں مگن بچوں کی مائیں باورچی خانہ اور بچوں کی دیکھ بھال ہی اپنی ساری ذمہ داری سمجھتی ہیں۔

ہم بطور قوم خانوں میں قید ہیں اور خانوں کی تعداد بھی زیادہ ہے۔ ایک خانے سے نکلتے ہیں تو دوسرے خانے میں پھنس جاتے ہیں۔ اب سیاسی مزاج کو دیکھیے حالات کتنے ہی خراب کیوں نا ہوں ہم اپنے مخصوص سیاستدانوں کی رہنمائی پرکوئی سمجھوتا نہیں کرتے، پھر مذہب کی طرف آجائیں مخصوص مکتبہ فکر کا ایک الگ خانہ ہے جس سے نہ ہم باہر نکلتے ہیں اور نہ ہی کسی اور کو اس خانے میں آنے کی اجازت دیتے ہیں۔ ہمیں اپنے اپنے ذہن میں بنے ہوئے خانے نظر آنے لگے ہوں گے۔ یہ خانے وسعت مانگ رہے ہیں یہ خانے اپنی حدود کو بڑھانے کا مطالبہ کر رہے ہیں ورنہ ان خانوں کی حدود میں گھٹ گھٹ کر سوچیں فوت ہوجائیں گی اور ہم لوگ مفلوج ہوکر رہے جائیں گے۔

کوئی تو ان سیاست دانوں سے پوچھے کہ جب آپ بدعنوان نہیں ہو، آپ نے ملک و قوم کا پیسہ نہیں چرایا تو منہ کیوں چھپاتے پھر رہے ہو پھر کیوں دھمکی آمیز بیانات جاری کروارہے ہو۔ آپ آئیں عدالتوں میں واضح کردیں کہ ان پر لگائے جانے والے تما م الزامات بے بنیاد اور فلاں فلاں پرستی کا نتیجہ ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف آپ کی حیثیت میں چار چاند بھی لگینگے اور آپ پر الزامات لگانے والوں کو منہ کی کھانی پڑے گی۔ یہ وقت کا تقاضہ ہے کہ اب عدالت میں چل کر آنا پڑے گا اورہر ممکن و ناممکن سوالوں کے جواب بھی دیناپڑیں گے۔

ہم پاکستانی بہت کچھ سوچتے ہیں اور بہت اچھا سوچتے ہیں لیکن عملی اقدامات سے خوفزدہ رہتے ہیں اس کی سب سے بڑی اور اہم وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے اس آرام والی کیفیت سے باہر نہیں آنا چاہتے۔ ہم سب بہت محنتی ہیں لیکن تھوڑی سی اضافی جدوجہد کرنے سے گھبراتے ہیں۔ یہ تھوڑی سی اضافی جدوجہد ہماری زندگیاں بدل کر رکھ دے گی، یہ جن چیزوں سے ہم خوفزدہ ہیں یہ دراصل ہمارے اندر ہیں ہمیں صرف ایک قدم اس خوف کے خانے سے باہر نکالنا ہوگا پھر دیکھیے یہ سارے خوفزدہ کرنے والے الٹے پیروں نہ صرف بھاگتے دکھائی دیں گے بلکہ آئندہ کبھی آپ کے آس پاس بھی نہیں پھٹکیں گے۔

ہماری سہل پسندی ہماری سوچوں کو زنگ لگا رہی ہے ہمارے ٹھیکے دار ہمیں بری طرح سے نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔ آنے والا وقت ہم سے سوچ بچار اور حقیقت پسندی کا مطالبہ کر رہا ہے اگر ہم نے اب بھی وقت کے قدموں کے ساتھ قدم نہیں ملائے تو تاریخ ہمیں روند کر رکھ دے گی۔ کیونکہ خدا بھی اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جو اپنی حالت خود بدلنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ ابھی وقت آپ کا ساتھ دینے کے لیے منتظر ہے ۔کچھ بھی نہیں کرنا بس مخصوص خانوں سے باہر نکلنا ہے یا پھر ان کی حدیں بڑھانی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top