اصلاح معاشرہ اورہمارا رویہ (حبیب اللہ)

societyانسان کی تخلیق کمزوری پر ہوئی ہے۔ جس کی گواہی قرآن میں موجود ہے کہ :” بے شک انسان کو کمزور پیدا کیا گیا ہے۔“ (سورة النسائ:28) دنیا میں کتنا ہی نیک اور فرشتہ صفت انسان کیوں نہ ہو مگر اس سے غلطی کا ہونا کوئی بعید نہیں۔ کیونکہ حدیث بھی اس پر شاہد ہے کہ: ”ہرا بن آدم خطا کار ہے اور بہترین خطا کار وہ ہے جو (خطا کے فوراً بعد) اللہ کی طرف پلٹ آئے۔“ جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ ہر انسان سے غلطی ہوسکتی ہے۔
اب غلطی کی اصلاح کے حوالے سے معاشرہ دواقسام میں منقسم ہے۔ لوگوں میں اصلاح کے حوالے سے دو رویے پائے جاتے ہیں۔
پہلا اصلاحی رویہ اور دوسرا تنقیدی رویہ۔اصلاحی رویہ کے حوالے سے کتب احادیث بھری پڑی ہیں کہ ہمارے رسول ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تربیت کس طرح اصلاحی نہج پر کی۔مگر دور حاضر میں تنقیدی رویہ اصلاحی رویے کو مات دیتا نظر آتا ہے۔آئیے ذرااس موضوع کی مزید باریکیوں کوکھنگالیں،اس موضوع پر ہم چند واقعات کی روشنی میں جھانکتے ہیں۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں جہنم اور اس کے مناظر کو دیکھا تو میرا یہ خواب سیدہ حفصہ رضی اللہ عنھا کے ذریعے نبی ﷺ تک پہنچایا گیا تو فرمایا:”کہ عبداللہ بندہ تو بڑا نیک ہے مگر وہ قیام اللیل کا اہتمام کرلے (توکیاہی خوب ہو)“ (مسلم:2479)
نبی ﷺ کے الفاظ پر غور کیا جائے کہ بندہ تو بڑ اہی نیک ہے مگررات کی نماز کا اہتما م کرلے۔ یعنی آپ ﷺ نے اصلاحی طریقہ اپنایا اور اس کی شخصیت پر بھی کوئی حرف نہ آنے دیا اور اس کی رہنمائی بھی احسن انداز سے فرما دی۔اسی طرح ایک بار ایک نوجوان آپﷺ کے پاس آتا ہے اور آتے ساتھ ہی عجیب بات کا تقاضا کرتا ہے۔ وہ آپ ﷺ کی طرف متوجہ ہو کر کہتا ہے کہ مجھے زنا کرنے کی اجازت دیں۔تو جیسے ہی لوگوں نے اس کی بات سنی اسے ڈانٹنے لگے۔رسول اللہ ﷺ نے لوگوں سے کہا کہ چھوڑوچھوڑو۔پھراسے سامنے بٹھا کر پوچھا کیا تو پسند کرتا ہے کہ لوگ تیری ماں کے ساتھ ایسا کریں ؟ کہنے لگا آپ پر میرے ماں باپ قربان میں ایسا پسند نہیں کرتا فرمایاکہ لوگ بھی اپنی ماﺅں کے لیے ایسا پسند نہیں کرتے ۔ پھر پوچھا کیاتواپنی بیٹی کے بارے میں ایسا پسند کرتا ہے؟ کہنے لگا آپ پر میرے ماں باپ قربان میں ایسا پسند نہیں کرتا ۔فرمایاکہ لوگ بھی اپنی بیٹیوں کے لیے ایسا پسند نہیں کرتے ۔ پھر پوچھا کیاتواپنی بہن کے بارے میں ایسا پسند کرتا ہے؟ کہنے لگا آپ پر میرے ماں باپ قربان میں ایسا پسند نہیں کرتا ، فرمایاکہ لوگ بھی اپنی بہنوںکے لیے ایسا پسند نہیں کرتے ۔ پھر پوچھا کیاتواپنی خالہ کے بارے میں ایسا پسند کرتا ہے؟ کہنے لگا آپ پر میرے ماں باپ قربان میں ایسا پسند نہیں کرتا فرمایاکہ لوگ بھی اپنی خالاو¿ں کے لیے ایسا پسند نہیں کرتے ۔ پھر پوچھا کیاتواپنی پھوپھی کے بارے میں ایسا پسند کرتا ہے؟ کہنے لگا آپ پر میرے ماں باپ قربان میں ایسا پسند نہیں کرتا فرمایاکہ لوگ بھی اپنی پھوپھیوں کے لیے ایسا پسند نہیں کرتے ۔پھرآپ ﷺ نے اس پر اپنا ہاتھ مبارک رکھ کر اس کے لیے دعا کی کہ اے اللہ !اس کے گناہ معاف فرما،اس کادل صاف فرما اور اس کی شرمگاہ کی حفاظت فرما پھراس کے بعد یہ نوجوان کبھی بھی اس برائی کی طرف نہیں گیا۔(مسنداحمد: 22211)
اس حدیث سے نبی ﷺ کا اصلاحی رویہ سمجھ آتا ہے کہ جب آپ نے اس کی بات سنی تو فوراً ایسا ردعمل نہیں دکھایا کہ وہ آپ سے دوربھاگے بلکہ مودّت و محبت سے اس کی اصلاح فرمائی مگر ہمارے معاشرے میں یہاں آکر خرابی پیدا ہوجاتی ہے اور مصلحین امت اصلاح کی بجائے نفرت کو ہوا دینے لگتے ہیں۔آج حالت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ کسی میں برائی دیکھنے پر جب تک اس کو اچھال کر لوگوں کے سامنے نہ لے کر آجائیںتب تک نہاں خانہ دل کو سکون میسر نہیں آتا۔ نرمی سے رشتے جڑتے اور سختی سے ٹوٹتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن میں بھی فرماتا ہے کہ :”کہ برائی کواچھائی سے دور کرو نتیجتاً جس کے اور آپ کے درمیان دشمنی ہے وہ آپ کا جگری دوست بن جائے گا۔“(المومنون:96)اس کا مفہوم مخالف ہوا کہ نفرت کو ہوادینے یا برائی کو درشتی و سختی سے دورکرنے کی وجہ سے تعلقات میں دراڑیں آجاتی ہیں اور آپس میں نفرت کے رشتے قائم ہونا شروع ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دوریاں بڑھتی چلی جاتی ہیں اور نفرت کی ہوائیں چل کر معاشرے کو تباہی کے زینے پر جاپھینکتی ہیں۔اگر کسی سے کوئی غلطی ہوجائے اگرچہ غلطی کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو اس کی اصلاح اچھے طریقہ سے ممکن ہے۔ دور نبوی ﷺ کا ایک اور واقعہ آپ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”کہ ایک بار ایک دیہاتی مسجد نبوی میں آیا تواس نے کھڑے ہوکر مسجد کے ایک کونے میں پیشاب کرنا شروع کردیا ۔لوگ اسے ڈانٹے لگے اور منع کرنے کے لیے اس کی طرف بھاگے مگر نبی ﷺ نے لوگوں کو ایسا کرنے ے روک دیا۔ اب جبکہ وہ فارغ ہوگیا تو آپ نے صحابہ کو حکم دیا کہ اس جگہ پانی بہادو تاکہ وہ جگہ پاک ہوجائے اس کے بعد لوگوں کی طرف توجہ کرکے فرمایا :”کہ تمہیں آسانیاں پھیلانے کے لیے بھیجا گیا ہے ناکہ مشکلات بڑھانے کے لیے۔“ (صحیح البخاری:220) اور ایک روایت کے مطابق آپ نے اسے بلا کر سمجھایا کہ یہ مساجد اللہ کی عبادت کے لیے بنائی گئی ہیں ناکہ اس کام کے لیے۔ تو اسے بات سمجھ آگئی اوروہ آپ کو دعائیں دیتا ہوا چلاگیا۔ تو اس واقعہ سے بھی یہ رہنمائی ملتی ہے کہ کسی بھی غلطی کی اصلاح کے لیے بہترین چیز نرمی اور محبت سے سمجھانا ہے ناکہ اس کے رد عمل میں سختی سے سمجھایا جائے اور تنقیدی رویہ اپنا کر برائی کو سرعام پیش کردیا جائے۔ اس سے بجائے اصلاح کے معاملات بگڑ جاتے ہیں۔
 اس جیسے بے شمار واقعات سیرت نبوی ﷺ میں ہمیں ملیں گے کہ آپ نے برائی کو ہمیشہ اچھائی اور نیکی کے ساتھ مٹایا ناکہ برائی کو برے طریقے کے ساتھ، جس کا نتیجہ یہ ہواکہ آپ نے 23سال کے مختصر سے عرصہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی ایسی جماعت تیار کردی کہ جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ساری دنیا تک اسلام کو پھیلا دیا۔ اس لیے کل جس نہج پر چل کر مسلمانوں نے معاشرے کی اصلاح کی آج بھی اسی راہ کے راہی بن کر ہی اصلاح معاشرہ ممکن ہے۔
 ویسے بھی نرمی کی فضیلت بیان کرتے ہوئے نبی ﷺ نے فرمایا:”یقینا اللہ تعالیٰ نرم خو ہے اور نرمی کو پسند فرماتا ہے اور نرمی پر وہ، وہ نتائج عطا فرماتا ہے جو نہ سختی پر دیتا ہے اور نہ ہی اس کے سوا کسی اور چیز پر(صحیح مسلم:2593) اورفرمایا:”کہ یقینا جس معاملے میں نرمی آجائے وہ اسے مزین کردیتی ہے اور جس معاملے سے نرمی نکل جائے وہ اسے بگاڑ دیتی ہے۔“(صحیح مسلم:2594) یقینا جب ہم نرمی والے طریقے سے اصلاح معاشرہ کی ذمہ داری اٹھائیں گے تو نرمی والے طریقے سے اصلاح کے نتائج بہت ہی شاندار اور دوررس ہوں گے۔ جس کا فائدہ آنے والی نسلوں کو بھی ہوگی جبکہ اس کے برعکس اگر ہم نفرتوں کو ہوا دیتے رہے تو اس کا خمیازہ آنے والی نسلوں کوبھی ایسے ہی بھگتنا پڑے جیسا آج ہم بھگت رہے ہیں لہٰذا اپنی نسلوں کی خیروبھلائی کے لیے آج ہی درست راستہ اپنانے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نرم و گداز لہجہ عطا فرمائے اور ہمارے رویوں کو نرمی سے مزین کرے۔ آمین
8939478@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top