Tuesday, December 1, 2020
- Advertisment -

مقبول ترین

نیو میمن مسجدمختصر ڈاکومینٹری

کراچی میں موجود بعض قدیم مساجد تاریخ کاحصہ بن چکی ہیں۔ ان ہی میں سے ایک ایم اے جناح روڈ پر واقع...

کراچی کی متعدد سڑکوں پر اسٹریٹ لائٹس درست کردی گئیں

بلدیہ عظمیٰ کراچی کا کہنا ہے کہ کمشنر و ایڈمنسٹریٹر کراچی افتخار شالوانی کی ہدایت پر کے ایم سی کے ورکس اینڈ سروسز ڈپارٹمنٹ...

گلبرک پولیس کی کاروائی، اسٹریٹ کرائم کی واردات ناکام

گلبرگ پولیس کی کاروائی، اسٹریٹ کرائم کی واردات کو ناکام بنادیا، کاروائی میں 4 اسٹریٹ کرمنلز گرفتار، ملزمان سے چھینی ہوئی نقد رقم، موٹر...

گھر میں اتفاقیہ گولی لگنے سے ایک شخص زخمی

لانڈھی دادو بالی کے قریب گھر میں اتفاقیہ گولی لگنے سے ایک شخص زخمی، زخمی شخص کو جناح ہسپتال منتقل کردیا گیا، جہاں اس...

منی لانڈرنگ کیس (سلیم الیاس)

scotland yard1کراچی (رپورٹ: سلیم الیاس) منی لانڈرنگ کیس میں الطاف حسین منگل کے روزچو تھی بار میٹرپولیٹن پولیس کے سامنے پیش ہو ئے جس میں ایک بار پھر ان کی ضمانت میں فروری 2016 تک کی توسیع کر دی گئی ہے۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین90 کی دھائی میں ہونے والے کراچی آپریشن کے بعد سے مستقل لندن میں رہائش پذیر ہیں۔ منی لانڈرنگ کیس کی ابتداءاس وقت ہوئی جب میٹروپولیٹن پولیس نے5 دسمبر 2013ء کو ان کے گھر میں چھاپا مارا، جس کے نتیجے میں اسکاٹ لینڈ یارڈ پولیس نے الطاف کے گھر سے 4 لاکھ پاﺅنڈ قبضے میں لئے تھے۔ جبکہ ایک اور کارروائی میں ایک لاکھ پاﺅنڈ برآمد ہو ئے۔ میٹروپولیٹن پولیس نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو منی لانڈرنگ کیس میں 3 جون کو حراست میں لیا تھا مگر ابتدائی تحقیقا ت کے بعد 7 جون کو ضمانت پر جولائی تک کے لئے رہا کر دیا تھا۔ جولائی 2014ء میں الطاف حسین کی ضمانت میں 14 اپریل 2015ء تک کی توسیع کر دی گئی تھی۔ 14 اپریل2015ءکو الطاف حسین خود پیش ہوئے اور ان کو ایک بار پھر جولائی 2015ء تک کی توسیع مل گئی۔ لیکن اس بار وہ خود پیش نہ ہوئے جس پر پولیس نے انھیں 5 اکتوبر کو پیش ہونے کا کہا۔ اس بار جب وہ پیش ہوئے تو معمول سے ہٹ کر ان سے تفتیش کی گئی۔ تفتیش کرنے والی ٹیم میں وہ افسران بھی شامل تھے جو گذشتہ دنوں ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کی تحقیقات کے لیے پاکستان آئے تھے اور انھوں نے خالد شمیم، معظم علی، محسن علی سید کے بیانات قلم بند کیے تھے۔ ان افسران نے جب الطاف حسین سے ڈاکٹر عمران فاروق قتل کے بارے میں سوالات کیے تو انھوں نے نو کمنٹ کہ کر جواب دینے سے نکار کر دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ الطاف حسین نے ان سوالات کے بارے میں اپنے وکیل سے مشاورت کی اور جواب کے لیے وقت مانگ لیا، جس پر ایم کیو ایم کے قائد کی ضمانت میں فروری 2016ء تک کے لئے ایک بار پھر تو سیع کر دی۔ منی لانڈرنگ کیس میں ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کے شامل ہونے اور بار بار توسیع کے باعث اس کیس نے مزید پیچیدہ صورتحال اختیارکر لی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا الطاف حسین اگلی پیشی پر اپنی بے گناہی ثابت کر سکیں گے یا ان پر فرد جرم عائد ہو جائے گی اور اگر ان پر فرد جرم عائد ہو گئی تو الطاف حسین کو دو سال سے لے کر 10 سال تک کی سزا بھی ہو سکتی ہے ۔ جو کہ آپریشن سے متاثرہ ایم کیو ایم کے لیے کسی صورت بھی نہ صرف یہ کہ خوش آئندہ ہوگا بلکہ آنے والے بلدیاتی انتخابات پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
Open chat