اسپورٹس ورکشاپ کے انعقاد سے اسپورٹس جرنلزم کا نکھار

Finalسندھ اسپورٹس جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام 3روزہ اسپورٹس ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا سجاس کا ممبر ہونے کی حیثیت سے میں بھی اس ورکشاپ میں شریک ہوااور مجھ جیسے طفل مکتب کو تین دن بہت کچھ دیکھنے اورسیکھنے کاموقع ملا۔اتنے بڑے اور شاندار ایونٹ کے انعقاد پر میں سجاس کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے نوجوان صحافیوں کیلئے ایسی ورکشاپ کا انعقاد کیا جس سے مجھ سمیت بیرون ملک اور ملک کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے نوجوان صحافیوں کومستقبل میں بہت مدد ملے گی میںیہ بتاتا چلوں کہ یہ پاکستان کی 71سالہ تاریخ میں پہلی ورکشاپ تھی جس میں ایشیائی ممالک کے نوجوان صحافی بھی شریک ہوئے جن میں ایران، نیپال اور افغانستان شامل تھے جبکہ سعودی عرب اور ملائیشیا کے صحافی ویزہ مسائل کے باعث شرکت نہ کرسکے جس کا انہیں اور ہمیں افسوس رہے گا ۔
ایسی ورکشاپ کا انعقاد آسان نہیں تھا لیکن سجاس نے ہمت نہیں ہاری اوراس کے انعقاد کو ممکن بنایا جس میں سب سے بڑا کردار ڈاکٹر جنید علی شاہ اور اے آئی پی ایس ایشیا کے سیکریٹری امجد عزیز ملک نے ادا کیا اور ہمیں اسپورٹس سے منسلک اُن سنےئرصحافیوں جنہیں ہم بچپن سے ٹی وی پر دیکھ کر یا مختلف اخبارات میں اسپورٹس کے حوالے سے ان کی خبریں اور مضامین پڑھ کر بڑے ہوئے ہیں ان کے ساتھ بیٹھنے اور ان کے تجربات سے مستفید ہونے کا بھرپورموقع ملا جو کسی خواب سے کم نہیں لگا جن میں عبدا لماجد بھٹی، وحید خان ،سلیم خالق ، احسان قریشی ، انیس الدین ،پروفیسر اقبال جمیل و دیگر شامل تھے۔
آج کے دور میں نوجوان اسپورٹس صحافیوں کو درپیش مشکلات اور چیلنجز سے نمٹنا اتنا آسان نہیں ہے لیکن ورکشاپ میں صحافیوں کو چیلنجز سے نمٹنے کے گُر بتائے گئے۔ورکشاپ 3روز پر مشتمل تھی تقریب کااحوال قارئین کی نذر کرنا چاہتا ہوں۔ورکشاپ کاآغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کے بعد نعت رسول ؐمقبول پیش کی گئی۔ تقریب کے پہلے دن مہمان خصوصی سید ناصر حسین شاہ تھے جنہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس سے پوری دنیا میں پاکستان کا اچھا تاثر جائے گا اور ہم کھیلوں کے فروغ کے حوالے سے اپنا کام جاری رکھیں گے، ناصر حسین شاہ نے بیرون ملک اور وطن عزیز کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے صحافیوں کو دورۂ سندھ کی دعوت بھی دی۔ سجاس کے پیٹرن اور سابق وزیر کھیل ڈاکٹر جنید علی شاہ نے کہا کہ میں اپنے والد ڈاکٹر محمد علی شاہ ( مرحوم ) کے عزم کو لے کرآگے بڑھ رہا ہوں اورکراچی ،صوبہ سندھ اور ملک میں کھیلوں کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرتا رہوں گا ۔سنےئر صحافی محمود شام نے موجودہ پاکستانی سیاست اور کھیلوں میں سیاست پر ایک خوبصورت خطاب کیا ۔انہوں نے اپنے خطاب کے دوران خوبصورت الفاظ کا چناؤ کر کے شرکاء سے خوب داد سمیٹی۔انہوں نے کہا کہ کھیلوں میں سیاسی مداخلت نے کھیلوں کو تباہ کیا ہے جس میں سر فہرست ہاکی، اسکواش ود یگرکھیل شامل ہیں،انہوں نے نوجوان صحافیوں پر زور دیا کہ مطالعہ زیادہ سے زیادہ کریں جس سے آپ کے علم میں اضافہ ہوگا ،انہوں نے نوجوان صحافیوں سے کہا کہ وہ احمد ندیم قاسمی ، قدرت اللہ شہاب،پروفیسر اقبال جمیل و دیگررائٹرز کی تحریروں کا مطالعہ کریں۔ اس کے بعد پروفیسر اقبال جمیل نے اپنے خوبصورت انداز سے ورکشاپ میں چار چاند لگائے اور انہوں نے نوجوان صحافیوں کو اپنی زندگی کے مختلف تجربات بتائے جو مجھ جیسے طفل مکتب کے لئے ایک قیمتی اثاثہ ہیں اور امید ہے کہ آگے چل کر ہم سب نوجوان صحافیوں کومدددینگے۔ انیس الدین خان نے الیکٹرونک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے فرق پر روشنی ڈالی ان کا کہنا تھا کہ الیکٹرونک میڈیا میں وقت کم ہوتا ہے جب کہ پرنٹ میڈیا کے پاس بہت موقع ہوتا ہے اپنی خبر کی تصدیق کا اور مزید معلومات جمع کرنے کا۔ورکشاپ سے کمال صدیقی ، عتیق الرحمان، محمود ریاض نے بھی خطاب کیا پہلے دن ورکشاپ کے آخر میں سنےئر صحافی زبیر نذیر خان نے نوجوان صحافیوں کو اپنے تجربات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ صحافت ایک مہذب پیشہ ہے ، کھیلوں کی خبروں میں غلطی ناقابل معافی ہے، صحافی کو مہذب اوربااخلاق ہونا چاہیے۔دوسرے دن ویمن فٹبال آرگنائز سادیہ شیخ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی کھیل کے فروغ میں کھیلوں سے منسلک صحافیوں کا ہمیشہ سے اہم رول رہا ہے۔ اعجاز احمد فاروقی نے اپنے خطاب میں کہاکراچی کرکٹ کی ترقی میں میڈیاکا کردار انتہائی اہم ہے ۔ورکشاپ سے پاکستان کے سابق اسکواش کے کھلاڑی لیجنڈجہانگیر خان نے بھی خطاب کیا انہوں نے کہا کہ اسپورٹس کے صحافیوں کا کسی بھی کھلاڑی کو بنانے میں بڑا اہم کردار ہوتا ہے اور مجھے بھی طالب علمی کے زمانے سے اسپورٹس کے صحافیوں نے اسکول میں مشہور کردیا تھا ۔ سابق ٹیسٹ کرکٹر جلال الدین نے بھی اسپورٹس جرنلزم کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا انہوں نے کہا کہ میڈیا کے بغیر کسی بھی کھیل کی کامیابی ناممکن ہے اور آج کل کے جدید دور میں صحافت آسان ہوگئی ہے۔ورکشاپ سے سنےئر اسپورٹس جرنلسٹ احسان قریشی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان صحافیوں کو اپنے کام پر فوکس رکھنا چاہئیں اور جب کسی بھی ایونٹ میں جائیں مکمل تیاری کے ساتھ جائیں اور اس کی پوری معلومات آپ کے پاس ہونی چاہیے۔ اس کے بعدسنےئر اسپورٹس جرنلسٹ عبدالماجد بھٹی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹرز کو سب سے پہلے اپنی ترجیحات کا تعین کرناچا ہیے اس کے بعد اسپورٹس رپورٹنگ میں آگے بڑھنا چاہیے اس موقع پر سنےئر جرنلسٹ وحید خان نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر رپورٹنگ کو آپ جذبے اور محنت سے کرینگے تو ایک دن آپ کو ضرور کامیابی ملے گی آپ دوستیوں کی بنیاد پر خبر کو دبائیں نہیں ورنہ آپ کبھی آگے نہیں بڑھ پائیں گے۔ ورکشاپ میں سنےئر اسپورٹس رپورٹر سلیم خالق نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اچھا لکھنے کے لیے آپ کے پاس زیادہ معلومات ہونی چاہیے تب ہی آپ اچھے لکھاری بن سکتے ہیں تیسرے دن اختتامی تقریب میں مشیر وزیر اعلیٰ سندھ مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ اسپورٹس رپورٹر وہی ہوتا جو درست خبر عوام تک پہنچائے، کھلاڑی ملک کے سفیر ہوتے ہیں اور کھیلو ں کے صحافی اپنے قلم کی طاقت سے ملک کا مثبت چہرہ دنیا بھر میں روشناس کراتے ہیں جبکہ میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ کھیلوں کو فروغ دینے میں صحافیوں کے کردار کو نظر اندا ز نہیں کیا جاسکتا ۔ ان کے ذریعے ملک کا سافٹ امیج دنیا بھر میں جاتا ہے۔ سینئر جرنلسٹوں میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ ،شرکاء میں سرٹیفکیٹ ، یادگاری شلیڈزاور سونیئرز پیش کئے گئے، پہلی مرتبہ سابق وزیر کھیل سندھ معروف آرتھو پیڈک اور سجاس کے سرپرست سرجن ڈاکٹر سید محمد علی شاہ کے نام سے منسوب گولڈ میڈ ل ایوارڈ کا اجراء کیا گیااس ایوارڈ سے سینئر جرنلسٹ عبدالماجد بھٹی کو نوازا گیا ۔ورکشاپ کے آخر میں افغانستان، نیپال، ایران، کراچی ، اسلام آباد ،بلوچستان،فاٹا، پشاورور ملک کے دیگر حصوں سے شرکت کرنے والے نوجوان صحافیوں میں اسناد تقسیم کی گئیں اس طرح ورکشاپ اپنے اختتام کو پہنچی۔
ورکشاپ کا مقصد نوجوان صحافیوں کی حوصلہ افزائی کرنا تھا اور جس میں سندھ جرنلسٹ اسپورٹس ایسوسی ایشن کامیاب ہوئی اور ان نوجوان صحافیوں کی بھی حوصلہ افزائی ہوئی ہے جو اس شعبہ صحافت میں کچھ کر دکھانے کا عزم رکھتے ہیں میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اس کے مثبت نتائج جلدسامنے آنا شروع ہوجائینگے اور ملک سے باہر بھی پاکستان کا مثبت امیج گیا ہوگا ۔ میں امید کرتا ہوں کہ اس طرح کی ورکشاپ کے انعقاد کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا ۔

تحریر: یاور عباس

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top