Friday, November 27, 2020
- Advertisment -

مقبول ترین

سندھ بار کونسل انتخابات، وکلا کا احتجاج رنگ لے آیا

وکلا کا احتجاج رنگ لے آیا، سندھ بارکونسل کےانتخابات ملتوی کرنے کا نوٹی فکیشن واپس. ایڈووکیٹ جنرل...

لاک ڈاؤن ، سندھ حکومت کا نیا نوٹیفکیشن جاری

کورونا لاک ڈاؤن کے حوالے سے سندھ حکومت نے نیا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے. نوٹیفکیشن میں کاروباری...

اسٹیل ملز کے برطرف ملازمین کے ساتھ کھڑے ہیں، سعید غنی

صوبائی وزیرمحنت و تعلیم سعید غنی نے وفاقی حکومت کی جانب سے پاکستان اسٹیل مل سے 4500 سے...

بھارتی قید سے رہا 19ماہی گیر کراچی پہنچ گئے

بھارتی قید سے رہائی پانے والے19ماہی گیر کراچی پہنچ گئے،چیئرمین فشرمینز کوآپریٹو سوسائٹی عبدالبر نے استقبال کیا،پھولوں کے...

کراچی کواب نہ سنبھالاتوپھر کبھی نہیں سنبھلے گا،سپریم کورٹ

supreme courtکراچی سپریم کورٹ نے شہر قائد میں رفاعی پلاٹس پر قائم تمام قبضے ختم کرانے کے لئے کے ڈی اے کو کارروائی جاری رکھنے کا حکم دیا ہے اور ساتھ ہی سندھ حکومت کو کراچی ڈوپلمنٹ اتھارٹی کو تمام وسائل مہیا کرنے کی ہدایت کی ہے۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں مستقل میونسپل کمشنر کی تقرری نہ کرنے کے معاملے پر کیس کی سماعت ہوئی۔سماعت میں سندھ حکومت پر شدید اظہارِ برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ آپ لوگ کس طرح حکومت چلارہے ہیں، سندھ کا برا حال کردیا گیا ہے کیا اس لئے حکومت دی جاتی ہے؟ کراچی کا شمار دنیا کے 10 بڑے شہروں میں ہوتا ہے لیکن اس شہر کو ایڈہاک پرچلایا جارہا ہے، جس شخص کو قائم مقام میونسپل کمشنر بنایا گیا اسے کچھ علم نہیں، اس عمارت سے باہر نکلیں تو مسائل ہی مسائل ہیں یہ صورتحال ہمارے لئے ناقابلِ قبول ہےسپریم کورٹ کے جسٹس گلزار احمد کا کہنا ہے کہ سندھ کا برا حال کردیا گیا ہے جب کہ دنیا کے دسویں بڑے شہر کراچی کو اب نہ سنبھالا گیا تو یہ پھر کبھی نہیں سنبھلے گا۔جسٹس گلزار کا کہنا تھا کہ کسی کو کوئی احساس نہیں کیا ہورہا ہے اگر کراچی کو اب نہ سنبھالا گیا تو یہ کبھی بھی نہیں سنبھلے گا۔ کچھ تو اپنی عزت کا خیال رکھیں۔اس موقع پر ایڈوکیٹ جنرل سندھ ضمیر گھمرو نے بیان دیا کہ میں سندھ حکومت سے بات کرتا ہوں معاملہ حل کرلیں گے، جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ آپ سر ہلارہے ہیں کچھ نہیں کریں گے، کیا سارا کام عدلیہ پر ڈال رکھا ہے، یہ کراچی نہیں بم ہے آپ کیوں نہیں سمجھ رہے۔عدالت نے ڈی جی کے ڈی اے کے وکیل سے استفسار کیا کہ شہر میں قبضوں کا ذمہ دار کون ہے، وارگزار کرنے کے بعد پلاٹوں کا کیا کیا ان کا تحفظ کون کرے گا ان پلاٹوں کو گرین بیلٹ میں تبدیل کرتے جائیں، اور جو باقی رفاعی پلاٹوں پر قبضے کئے گئے ہیں ان کے قبضے کب ختم کرائے جائیں گے، فٹ پاتھوں پر ہریالی کیوں نہیں کی جاتی یہ کس کا کام ہے۔ ہم کسی پر تنقید کرنے کے لئے نہیں بیٹھے حکومت کی مدد کے لئے بیٹھے ہیں۔کے ڈی اے وکیل نے کہا ماسٹرپلان سے مزید تفصیل طلب کی ہیں، برسوں کا کام ہے کچھ وقت دیں۔ ہمارے پاس مشینری کی کمی ہے۔جسٹس گلزار احمد کا کہنا ہے کہ دنیا کہاں سے کہاں چلی گئی ہے اور آپ کے پاس مشینری نہیں ہے آپ لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونگ رہے ہیں اگر مشینری نہیں ہے تو ادارہ بند کردیں۔ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے جواب دیا کہ میں یہ معاملہ حل کرتا ہوں اور کے ڈی اے کو وسائل دینے کے لئے تیار ہیں جلد ہی معاملہ حل کرلیں گے۔جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ آپ کیا کریں گے آپ چھوڑیں چیف سیکرٹری کو ابھی بلائیں۔ ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے جواب دیا کہ چیف سیکرٹری کو شدید بخار ہے، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ سندھ حکومت کیسے چل رہی ہے

Open chat