Friday, November 27, 2020
- Advertisment -

مقبول ترین

آرزو فاطمہ کے اغوا اور کم عمری کی شادی کے کیس کی سماعت

سٹی کورٹ میں آرزو فاطمہ کے اغوا اور کم عمری میں شادی کے کیس کی سماعت،  پولیس چالان...

پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کی بھارتی فشنگ لانچ کے خلاف کاروائی

پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کی بھارتی فشنگ لانچ کے خلاف کاروائی، میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی نے بھارتی...

سر سبز شاداب کراچی مختصرڈاکومینٹری

سر سبز شاداب کراچی مختصرڈاکومینٹری

بھٹو خاندان کے لئے خوشی کا دن

بھٹو خاندان کے لئے خوشی کا دن، بختاور بھٹو کی منگنی آج، بلاول ہاؤس کراچی میں منگنی کی...

اٹھو کہ کہیں دیر نہ ہوجائے (محمد طیب)

Human-Rights”ڈیڑھ اینٹ کی مسجد“ یہ جملہ ایک ضرب المثل کے طور پر عموما استعمال ہوتا ہے۔ جس کا مقصد ایسے شخص کو سامنے لانا ہوتا ہے جو سب سے اختلاف کر کے ایک علیحدہ اپنی رام کتھا چھیڑ لے۔آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ سب تو ہر بندہ جانتا ہے کہ یہ جملہ کیوں اور کب استعمال ہوتا ہے اس کو دہرانے کی وجہ کیا ہے۔ تو آئیے میں آپ کو لئے چلتا ہوں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جہاں ہر شخص اپنی ڈگڈی بجا رہا ہے اور ہر مداری اپنے دیکھنے والوں کو لبھانے اور اپنی ڈیڑہ اینٹ کی مسجد کو آباد کرنے میں لگا ہے۔ سب سے پہلے بات کرتے ہیں اپنے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی جس میں آج کل شریفوں کا بسیرا ہے اور شرافت تو اتنی کہ نہ صرف پورا پنجاب اور پاکستان بلکہ چہار دانگ عالم میں ان کے چرچے ان کی شرافت کا منہ بولتا ثبوت ہیں لیکن ان کی شرافت کا دائرہ ہے کہ لاہور سے باہر نکلنے کو نہیں آتا۔ ان کے ساتھ جڑے کچھ رفیق تو ایسے ہیں کہ جو اپنی مثال آپ ہیں جن کا پسندیدہ مشغلہ ہے کہ اپنے کام سے تو کام رکھنا ہی نہیں دوسرے کے معاملے میں ٹانگ لازمی ڈالنی ہے۔
اس کے ساتھ ہی ایک بہت ہی ہونہار ماہر قانون ہمارے لا قانونیت کے امیر جن کی پٹاری میں کس قدر عیاری محفوظ ہے یہ یا تو وہ جانتے ہیں یا پھر خدا جانتا ہے۔ اس کے ساتھ اگر چند نام نہاد چودھریوں، رانوں اور دیگر کو ملا لیا جائے تو ایک کرتب کے کریکٹرز مکمل ہوتے ہیں جو اپنی الگ ڈیڑہ اینٹ کی مسجد بنائے جمہوریت کو خطروں سے محفوظ کروانے میں ہی لگے ہوئے ہیں۔ جب بھی ان کی ساکھ خطرے میں آئے تو جمہوریت ڈی ریل ہونے کا نعرہ ان سے بہتر کوئی نہیں لگا سکتا۔ غالبا جن کا منشور صرف اونچے پل تو بنانا ہے لیکن کسی غریب کو کھانا دینے کی بات ہو تو ایک ہی آواز بلند ہوتی ہے ”چھوڑو جی! نوٹ بناﺅ غریب مرتا ہے تو کوئی بات نہیں“۔

 

سندھ کی بات کی جائے تو پاکستان کھپے کی صدائیں گونجتی نظر آتی ہیں لیکن سندھ کی حالتِ زار دیکھ کر تو لگتا ہے کہ یہ کھپے سندھی کا نہیں بلکہ پنجابی کا استعمال ہوتا ہے۔ شاید جس کا معنے ہے مر جائے کھپ جائے لیکن صحیح نہ ہو۔ جب بھی ایک نومولود سیاستدان پریس کانفرنس کرتا ہے تو اس کے نرالے انداز دیکھ کر نہ چاہتے ہوئے بھی انسان کی ہنسی نکل جائے اور جب وہ سندہ میں ان کے ترقیاتی کام کی تفصیل شروع کرتے ہیں تو خود صوبہ بھی شرم سے سر جکائے یہی صدا دے رہا ہوتا ہے کہ جناب جانے دو اس بات کو اب تو بس کر دو۔

ان تمام باتوں کے باوجود میں انکی قدر کرتا ہوں کیونکہ جس انداز سے یہ چلتے ہیں ایسے چلنا سب کے بس کی بات نہیں کیونکہ انکی پالیسی ہے کہ کر کہ بھی برا بننا ہے تو بہتر ہے کچھ کرو ہی نہ۔اسی طرح جب اپنی نظر کو پورے سندہ سے ہٹا کر کراچی پر مبذول کریں تو یہاں ایک الگ مداری کا کرتب دکھائی دیتا ہے جو نوبیاہتا عروسہ کی مثل نخرے کرتے اور ناراض ہوتے دکھائی دیتے ہیں ۔سیاست چھوڑنے استعفے دینے کی باتیں انکا پسندیدہ مشغلہ ہے۔بھائی تو وہ یہاں رہنے والی ہر لڑکی کے ہیں۔یہاں بھی بات ختم نہیں ہوتی اب آئیے ذرا آپ کو لئے چلتے ہیں کے پی کے کہ جہاں نئے پاکستان کی دھومیں سنتے پچھلے چار سال سے لگ رہے ہیں لیکن وہ نیا پاکستان ہے کہ نظر آنے کا نام ہی نہیں لیتا ۔آئے دن کوئی نہ کوئی نئی بڑک تو سامنے آتی ہے لیکن تبدیلی نظر نہیں آتی۔
آئیے ذرا بلوچستان کی طرف تو وہاں بھی شریفوں کے جلوے نظر آتے رہے اور حسب سابق و حسب عادت اپنے دیرینہ منشور پر عمل درامد کیا اور کرپشن کے انبار ہی لگا ڈالے۔الغرض پورے پاکستان میں ایک سرکس کا سماءہے جہاں رِنگ ماسٹر اپنے سدھائے ہوئے شیر( تو نہیں کہہ سکتا اور دوسرا لفظ آپ خود سمجھ گئے ہونگے کیا بنتا ہے ) کو اشارہ کر کے مختلف دائروں میں اپنی قابلیت دکھانے کا حکم دیتا ہے اور آپ سب جانتے ہیں کہ وہ سرکس کے کاغذی شیر اسے خوب پورا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔آج کے عنوان کا مقصد موجودہ سورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے عوام سے مل کر اٹھنے کی استدعا ہے کہ یہ نہ ہو کل بہت دیر ہو جائے اور یہ ناسور ہمارے ملک کے لئے زہرِ قاتل ثابت ہوں۔

tayabmustafavi@gmail.com

Open chat