Thursday, October 29, 2020
Home کالم /فیچر ڈاکٹرزکی واپسی ،سندھ میں ہنگامی حالت کا نفاذ( ایس ایم امین شاہ)

ڈاکٹرزکی واپسی ،سندھ میں ہنگامی حالت کا نفاذ( ایس ایم امین شاہ)

murad ali shah 8محکمہ تعلیم کے بعد محکمہ صحت میں بھی اصلاحات کا عمل شروع کردیا گیا ہے اوروزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے محکمہ صحت سندھ کے پچھلے گناہ معاف کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ڈاکٹرز،پیرامیڈیکل اسٹاف اور دیگرعملہ کووارننگ دی ہے کہ سندھ حکومت صحت پر اربوں روپے خرچ کر رہی ہے ، اگر اس سے غریب عوام کو فائدہ نہیں پہنچے گا تو میں آپ لوگوں کو نہیں چھوڑوں گا اور ایک ایک پیسے کا حساب لوں گا ،آج کے بعد اگر کوئی ڈاکٹر کام نہیں کرے گا تو وہ گھر جائے گا ۔انہوں نے کہاکہ اگر کسی نے براہ راست سفارش کر واکر پوسٹنگ لینے کی کوشش کی تو وہ نوکری سے جائے گا ڈاکٹرز کے لئے میرے دل میں بہت عزت ہے ، یہ پیشہ ایک نوبل پیشہ ہے، ہم اپنی زندگی ڈاکٹرزکے حوالے کرتے ہیں ڈاکٹرز کو انسانیت اور اپنے پیشے کی عزت کرنی چاہئے اور جذبے سے کام کرنا چاہئے،میں کسی صورت انسانی زندگی سے کسی کو کھیلنے کی اجازت نہیں دے سکتا اب انسانوں کی صحت سے کھیلنے یا فرائض منصبی سے روگردانی کرنے والے ڈاکٹرزکامحاسبہ ہوگا۔
سندھ میں محکمہ صحت کا قبلہ درست کرنے کے لیے جہاں کئی اہم فیصلے کیے گئے ان میں سب سے اہم ترین محکمہ صحت سندھ میں ڈاکٹرزکی قلت nurses1کے خاتمہ کے لیے شعبہ ایڈمنسٹریشن میں خدمات انجام دینے والے تمام ڈاکٹرز کواسپتالوں میں واپس بھیجنے اورسندھ پبلک سروس کمیشن کا امتحان دینے والے چھ ہزارڈاکٹرزکو قانون سازی کے بعد ملازمت دینے کا فیصلہ ہے اورمحکمہ صحت سندھ میں ایمرجنسی کا نفاذ ہے۔ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ اورصوبائی وزیرصحت ڈاکٹرسکندرمیندھروکے مابین ایک مشاورتی اجلاس میں فیصلہ ہوا ہے کہ محکمہ صحت میں یوم عاشورکے بعد ایمرجنسی کا نفاذ کیا جائے اور سب سے اہم ترین فیصلے کے تحت محکمہ صحت کے وہ تمام ڈاکٹرز جوطبی خدمات کی ادائیگی کے لیے بھرتی کیے گئے مگروہ اس وقت ایڈمنسٹریشن پوسٹوں پرتعینات ہیں ان تمام ڈاکٹرزکواپنے اصل فرائض کی ادائیگی کے لیے اسپتالوں میں بھیجا جائے اورآئندہ دس روز میں اس پرعملدرآمد کرایاجائے ۔ اس وقت محکمہ صحت میں ایڈمنسٹریشن پوسٹوں پر کم وبیش تین ہزارڈاکٹرز کام کررہے ہیں جن کی اسپتالوں میں واپسی اوراصل فرائض کی ادائیگی سے سرکاری اسپتالوں میں طبی سہولیات میں بہتری کی توقع ہے اسی طرح اب محکمہ صحت سندھ میں میں ڈاکٹربھرتی ہونے والے کسی بھی ڈاکٹرکومحکمہ کی ایڈمنسٹریٹوپوسٹ پرتعینات نہ کرنے کا فیصلہ بھی انتہائی اہم قدم ہے۔
حکومت سندھ نے سرکاری اسپتالوں میں طبی عملہ کی قلت ختم کرنے کے لیے سندھ پبلک سروس کمیشن کے امتحان میں شرکت کرنے والے تمام چھ26219_55018754_KChDoctorsL ہزارڈاکٹرزکوسرکاری ملازمتیں دینے کا بھی فیصلہ کرلیا ہے ، پبلک سروس کمیشن کے تحت تحریری امتحان پاس کرنے والے ان تمام ڈاکٹرزکوجوزبانی سوالات کے امتحان میں کمزورپائے گئے اورکم نمبرحاصل کیے ان سب کوملازمت دینے کے لیے حکومت سندھ رولزمیں ترامیم کرے گی اوراس کے لیے قانونی ماہرین کودس روزمیں سفارشات پیش کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔ محکمہ صحت سندھ میں ڈاکٹرز، اسپیشلسٹ ، ڈینٹل، کارڈکس ،فارما سسٹس ، ڈرگ ایڈمنسٹریشن ، اسٹاف ، نر سیں اور پیرا میڈیکل اسٹاف، IHW کی تعداد 64701 ہے، جن میں56753 لوگ کام کر رہے ہیں باقی 7948 پوزیشنز خالی ہیں ۔صوبہ سندھ میں 1791 صحت کی سہولیات ہیں جن میں 998 PPHI کے پاس ہیں جبکہ 783 محکمہ صحت کے دیکھتا ہے اسی طرح سندھ میں سولہ DHQs ، اڑتالیسTHQs ، ستائیس میجر ہسپتال اور دس کے لگ بھگ ٹریٹری کیئر سہولیات ہیں ۔ محکمہ صحت کے 11 اہم پروگرامز جن میں EPI ، فیملی پلاننگ ، میٹرنل اینڈ نیونیٹل چائیلڈ ہیلتھ، ٹی بی کنٹرول ، ہیپاٹائیٹس کنٹرول پروگرام ، پریوینشن اینڈ کنٹرول بلائنڈ نیس ، ملیریا کنٹرول ، نیوٹریشن سپورٹ ، انھانسڈ HIV/AIDs ، چائیلڈ سروائیول اور ڈینگی کنٹرول شامل ہیں کی کارگردگی گذشتہ کئی برسوں سے انتہائی ناقص ہے،وزیراعلی سندھ نے ان تمام پروگرامزکویکجا کرنے اورایک پروگرام کے فنڈزدوسرے پروگرام کے لیے استعمال کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ ریسورسزکویکجا کرکے محکمہ کی کارگردگی کوبڑھایا جائے۔
سندھ صوبے میں جعلی ڈاکٹرز اور عطائی ڈاکٹرز کا سرگرم ہونا اورسندھ بھرمیں جعلی اوراتائی ڈاکٹرز کی سرگرمیاں بھی محکمہ صحت کے لیے کسیjinnah hospatal چیلنج سے کم نہیں ان عناصر کے خلاف آپریشن کلین آپ کی بارہا ہدایت کی گئی اوراب ایک بارپھروزیراعلی سندھ نے آپریشن کلین اپ کا حکم دیا ہے جبکہ وزیراعلیٰ سندھ نے ڈائریکٹر ڈرگس ڈاکٹر قیصر کو فوری معطل کر دیا ہے، ڈاکٹر قیصر ڈائریکٹر کوالٹی کنٹرول ہیں اور پچھلے ایک سال سے انہوں نے ایک بھی اجلاس نہیں بلایا ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے چیف سیکریٹری سندھ کو ہدایت کی کہ ڈاکٹر قیصر کے خلاف معطلی کے علاوہ سخت ایکشن بھی لیں ۔وزیراعلیٰ سندھ نے سیکریٹری صحت کو مزید ہدایت کی کہ محکمہ صحت میں ہر ڈائریکٹوریٹ کی کارکردگی کا جائزہ لیں، جو ڈائریکٹر یا پروگرام مینجر کام نہیں کر رہا اسے فوری گھر بھیجیں اوریہ واضح کیا ہے کہ اگر مارکیٹ میں کوئی دو نمبر دوائی نظر آئی تو میں متعلقہ افسر کے خلاف مقدمہ درج کراوں گا اور اسے جیل بھیج کر دم لوں گا ۔ضرورت اس امرکی ہے کہ جعلی ادویات جیسی لعنت اوراتائی ڈاکٹرز سے جان چھڑانے کے لیے سندھ اسمبلی میں جو بھی قانون سازی اور ایکٹ پاس ہوئے ہیں اسے کاغذ کا ٹکڑا نہ سمجھا جائے، اس پرعملدرآمد کیا جائے تاکہ عوام کو فائدہ ہو اورانسانی جانوں سے کھیلنے اورانسانوں پرجانوروں کی ادویات آزمانے والے اتائی ڈاکٹرز کے خلاف سخت کارروائی یقینی بنائی جاسکے۔
محکمہ صحت سندھ کو رواں سال 75بلین روپے کا بجٹ دیا گیا ہے جس میں14بلین ترقیاتی کاموں اور 61ریگیولر بجٹ ہے اور اس میں سے ایک ایک پیسہ عوام کی صحت اور ان کی صحت کی سہولیات پر صحیح طریقے سے خرچ ہونا چاہئے ۔سرکاری ا سپتالوں دواؤں کا بھاری بھرکم بجٹ ہونے کے باوجود دوائیں نہیں ملتیں اور مریض سرکاری اسپتالوں میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کرمرجاتا ہے، سرکاری اسپتالوں کے اسٹور میں دوائیں موجود ہونے کے باوجود بھی ڈاکٹر مریضوں کو دوائیں لکھ کردیتے ہیں اورباہرسے دوائیں منگواتے ہیں اس مقصد کے لیے وزیرصحت سندھ کو ہدایت کی گئی ہے کہ ہسپتالوں میں بینرز لگوا ئے جا ئیں تاکہ عوام میں شعور ا جاگر ہو اورانہیں سرکاری اسپتال سے دوا میسرہو، عموما ہوتا یہ ہے کہ سرکاری اسپتالوں کے لیے ادویات لیکرآنے والا ٹرک ایک دروازے سے اسپتال میں داخل ہوتا ہے اوروصولی کی رسید پردستخط کرانے کے بعد دوسرے دروازے سے اسپتال سے ادویات سمیت غائب ہوجاتا ہے،سرکاری ادویات کے غائب ہونے اورادویات کے فنڈزمیں خورد برد کی تمام ترذمہ داری اسپتال ایڈمنسٹریٹرز کی ہے اگروہ دیانتداری سے کام لیں اورکسی کا دباخاطرمیں نہ لائیں تو کسی کی جرات نہیں کہ ادویات سے بھرا ٹرک اسپتال کے دوسرے دروازے سے باہرنکل جائے۔
محکمہ صحت سندھ میں ایمرجنسی کا نفاذ اور بولڈ فیصلے آئینی تقاضہ بھی اورعوامی مطالبہ بھی اس ضمن میں حکومت سندھ کے حالیہ فیصلے اچھی پیش رفت ہے مگرنیک نیتی سے ان پرعملدرآمد بہرحال سوالیہ نشان ہوگا ،اسپتالوں میں مختلف سیاسی جماعتوں کی مورچہ بند سیاست اورلسانی گروپوں کی سرگرمیاں اس اہم ترین شعبہ میں اصلاحات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے جس کا حکومت کوبھی پوری طرح ادراک ہے ،محکمہ صحت کے پچھلے گناہ معاف کرنے اوراب نئی شروعات کرنے کی بات وزیراعلی مراد علی شاہ کی اپنی جگہ کافی حد تک درست سہی مگرسیاسی اورلسانی چھتری کی نیچے اسپتالوں میں مورچہ بند سیاست کا خاتمہ مذکورہ تمام فیصلوں پرعملدرآمد سے کہیں زیادہ ناگزیرہے
 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

گلشن حدید فیز 2،گیس پریشر میں کمی، تندور مافیا کی چاندی

کراچی، گلشن حدید فیز 2 گیس کے پریشر میں کمی، تندور مافیا کی چاندی،اہل علاقہ کے مطابق تقریبا 10 روز سے...

گستاخانہ خاکے، کراچی بار کی سٹی کورٹ تا لائٹ ہائو س ریلی

کراچی ، فرانس میں گستاخانہ مواد کی اشاعت پرکراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے احتجاجی ریلی میں وکلاءکی بڑی تعداد نے...

لانڈھی پروسیسنگ زون میں لگنے والی آگ پر قابو پالیا گیا

کراچی:لانڈھی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں فیکٹری میں لگنے والی آگ پر قابو پالیا گیا، ریسکیو ذرائع کے مطابق ایکسپورٹ زون میں آگ...

کورنگی میں مبینہ پولیس مقابلہ، ایک ڈاکو ہلاک، دوسرا زخمی

کراچی:کورنگی میں مبینہ پولیس مقابلہ، پولیس کے مطابق کورنگی کبڈی گراؤنڈ 2 ڈاکو اسلحہ کے زور پر لوٹ مارکررہے تھے ،ملزمان نے...