’’وقت سے نفع حاصل کیجیے‘‘ (رانا اعجاز حسین)

quran-2یہ منٹ، یہ گھنٹے، یہ سال، یہ ایام اللہ رب العزت کی طرف سے ہمیں مہلت کے ہیں۔ ہمیں اس حاصل وقت کی قدر کرنی چاہئے، ان اوقات کو قیمتی بنانا چاہیے ان سے نفع حاصل کرنا چاہئے، کہ یہ وقت قطعاً عارضی ہے، یہ جہان دار فانی ہے۔ یہاں میسر ان ایام کی مہلت کے بعد ہر ذی نفس نے موت کا مزہ چکھنا ہے اور آخرت کی طرف کوچ کرنا ہے، جو مستقل اور ابدی ٹھکانہ ہے۔ وقت کی اہمیت اور قد و قیمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں بہت سی آیات میں اس کی قسمیں کھائی ہیں۔ مثلاً (۱) قسم ہے زمانے کی انسان بڑے خسارے میں ہے۔ (العصرآیت نمبر ۲)۔ قسم ہے دن کی روشنی کی اور رات کی جبکہ وہ قرار پکڑے۔ (الضحیٰ آیت نمبر۳)۔ قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی۔ (سورۃ الفجر)
با حیثیت مسلمان ہمیں وقت کو اپنی اصلاح اور نیکیاں کمانے میں صرف کرنا چاہیے، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ دنیاوی زندگی، آخرت کی کھیتی کے مانند ہے۔ ہم آج جو بوئیں گے آخرت میں وہی کاٹیں گے۔ اگر ہم اپنی زندگی میں حاصل اس وقت کی قدر کرتے ہوئے اسے خیرو بھلائی کے بیج بونے میں صرف کریں تو کل یوم قیامت ہمیں فلاح اور بھلائی کا ثمر ملے گا۔ ارشاد ربانی ہے’’(ان سے کہا جائے گا) خوب لطف اندوزی کے ساتھ کھاؤ۔ اور پیو ان (اعمال) کے بدلے جو تم گذشتہ (زندگی) کے ایام میں آگے بھیج چکے تھے۔ (سورۃ الحاقہ)‘‘
اس کے بر عکس اگر اس زندگی میں وقت کی قدر نہ کی جائے اور اسے غفلت، سستی و کاہلی میں گزارتے ہوئے برائی و شر فتنہ و فساد کی نذر کر دیا جائے تو ہمارے لیے دونوں جہانوں میں خسارہ ہے۔ غافلوں اور ظالموں کے لیے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہو گا۔ کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہیں دی تھی کہ اس میں جو شخص نصیحت حاصل کرنا چاہتا، وہ سوچ سکتا تھا۔ اور پھر تمہارے پاس ڈر سنانے والا بھی آچکا تھا۔ پس اب عذاب کا مزا چکھو۔ سو ظالموں کے لیے کوئی مدد گار نہ ہو گا۔‘‘
GetOrganizedAug2013اسلام میں وقت کی اہمیت پر بہت زور دیا گیا ہے۔ جامع ترمذی میں ابوبَرزَہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ’’قیامت والے دن بندہ (اللہ کی بارگاہ) میں اس وقت تک کھڑا رہے گا کہ جب تک اس سے چار چیزوں کے بارے میں پوچھ نہ لیا جائے گا۔ 1۔ اس نے اپنی جوانی کن کاموں میں گزاری۔ -2 اس نے اپنے علم پر کتنا عمل کیا۔ -3اس نے مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا۔ -4 اس نے اپنا بدن کس کام میں کھپائے رکھا۔‘‘ مستدرک حاکم میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت سمجھو۔ بڑھاپے سے پہلے جوانی کو، بیماری سے پہلے صحت کو، محتاجی سے پہلے تو نگری کو، مصروفیت سے پہلے فراغت کو، اور موت سے پہلے زندگی کو۔‘‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اور فرمان ہے ’’دو نعمتیں ایسی ہیں، جن کے سلسلے میں بہت سے لوگ دھوکے میں ہیں ایک صحت و تندرستی اور دوسرے فارغ اوقات۔‘‘
عامر بن قیس ایک زاہد تابعی تھا، ایک شخص نے ان سے کہا، آ بیٹھ کر باتیں کریں، انہوں نے جواب میں کہا کہ پھر سورج کو بھی ٹھہرا لو۔‘‘ امام ابن جریر طبری ہر روز چودہ صفحات لکھ لیا کرتے تھے۔ انہوں نے اپنی عمر کا ایک لمحہ بھی فائدے اور استغفار کے بغیر نہیں گزارا۔ البیرونی کے شوق علم کا یہ عالم تھاکہ حالت مرض میں مرنے سے چند منٹ پیش تر وہ ایک فقیہ سے جو ان کی مزاج پرسی کے لیے آیا تھا علم الفرائض کا ایک مسئلہ پوچھ رہے تھے۔ امام الحرمین میں ابو المعالی عبدالملک جو مشہور متکلم امام غزالی کے استاد تھے، فرمایا کرتے تھے کہ میں سونے اور کھانے کا عادی نہیں ہوں، مجھے دن اور رات میں جب نیند آتی ہے سو جاتا ہوں، اور بھوک لگے تو کھا لیتا ہوں، ان کا اوڑھنا بچھونا، پڑھنا اور پڑھانا ہی تھا۔
6امام فخر الدین رازی کی چھوٹی بڑی کتابوں کی تعداد ایک سو کم نہ ہو گی صرف تفسیر کبیر تیس جلدوں میں ہے وہ کہا کرتے تھے کہ کھانے پینے میں جو وقت ضائع ہوتا ہے مجھے اس پر افسوس ہوتا ہے۔ علامہ شہاب الدین محمود آلوسی مفسر قرآن نے اپنی رات کے اوقات تین حصوں میں تقسیم کر رکھے تھے، پہلے حصے میں آرام و استراحت کرتے دوسرے میں اللہ تعالیٰ کو یا د کرتے، تیسرے میں لکھنے پڑھنے کا کام کرتے تھے۔ آج سائنس و ٹیکنالوجی نے جہاں ہمیں بے شمار کارآمد چیزیں دی ہیں وہیں وقت کے ضیاع کے بھی ایسے نوع بہ نوع آلات فراہم کئے ہیں کہ امت مسلمہ کا ایک بڑا طبقہ ان کے غلط استعمال میں اپنا قیمتی وقت اس طرح ضائع کر رہا ہے جس طرح تیز دھوپ میں برف کی ڈھلی پگھل کر ضائع ہوتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وقت کا صحیح استعمال کیا جائے، اور ہر لمحہ سے بھر پور استفادہ حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ وقت کا زیادہ ترحصہ عبادات و ذکر الٰہی میں مشغول رہ کر گزارہ جائے، فارغ اوقات کو چغلی، کینہ وبغض جیسی خرافات کی بجائے تلاوت قرآن کریم، تسبیحات، ذکر واذکار، درود شریف اور استغفار اور اچھی کتب کے مطالعہ میں صرف کیا جائے۔ تاکہ نفس کی اصلاح ہو اور دونوں جہانوں کی کامیابی اور خیر و برکت حاصل ہوسکے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو وقت کی قدر کرنے، وقت کو قیمتی بناتے ہوئے نیک کاموں میں صرف کرنے اور زیادہ سے زیادہ نیکیاں کمانے والا بنائے، اور ہر طرح کے شرور و فتن سے ہماری حفاظت فرمائے۔ آمین یا رب العالمین
ra03009230033@gmail.com

One thought on “’’وقت سے نفع حاصل کیجیے‘‘ (رانا اعجاز حسین)”

  1. zeeshan adeel says:

    Those peoples who are celebrates happy new year. Must read this.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top