Monday, November 30, 2020
- Advertisment -

مقبول ترین

پیٹرول کی قیمت برقرار، ڈیزل4 روپے فی لیٹر مہنگا

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردو بدل، پیٹرول ،مٹی کا تیل اور لائٹ ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ جبکہ ڈیزل کی قیمت...

میرظفراللہ جمالی کو دل کا دورہ، حالت تشویشناک

سابق وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی کو دل کا دورہ ، ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم کو دل کا دورہ پڑنے پر اے ایف آئی...

فائرنگ کے واقعات میں 2 افراد زخمی ہوگئے

فائرنگ کے واقعات میں 2 افراد زخمی ہوگئے، ذرائع کے مطابق محمود آباد ٹی پی ٹو گرائونڈ کے قریب فائرنگ سے 25 سالہ  مزمل...

کرنٹ لگنے سے ایک شخص جاں بحق،2 لاشیں ملی

مختلف علاقوں سے 2 لاشیں ملی، جبکہ کرنٹ لگنے سے ایک شخص جاں بحق، ذرائع کے مطابق فیڈرل بی ایریا بلاک 21 سے محمد...

قانون توہین رسالت کو ختم کرنے کی کوشش (حافظ عاکف سعید)

hangحالات حاضرہ کے حوالے سے سب سے بڑا ایشو توہین رسالت کا قانون ہے کیونکہ ایک مرتبہ پھر یورپی یونین اس قانون کو ختم کروانے کے لئے متحرک ہوگئی ہے اورحسب معمول پاکستان پر دباﺅ ڈالا جارہا ہے۔ ہمارا بنا یاہوا یہ اسلامی قانون ہر اعتبار سے جواز رکھتا ہے لیکن ہم پر دباﺅ ہے کہ اسے ختم کیا جائے۔ بات یہیں پر ختم نہیں ہوگی کیونکہ اس کے بعد ارتداد کے قانون کے خلاف بھی مسئلہ کھڑا کیا جائے گا۔ اسلام میں مرتد کی سزا قتل ہے۔گوکہ یہ اس وقت ہمارے قانون میں نہیں ہے۔ کوشش ہورہی ہے کہ جو قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا قدم بقدم ہمارے آئین میں سے یہ چیزیں نکالی جائیں۔ ہمارا سیکولر طبقہ تو اس کے لئے پہلے سے تیار ہے کیونکہ اس کے نزدیک پاکستان کے آئین میں اس قسم کی باتیں بھی درج ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموس کو بٹہ لگانے والے کے جرم کی سزا موت ہے۔ قادیانیوں کو قانونی طور پر غیر مسلم قرار دیا گیا ہے۔ اس طبقے کے نزدیک جاہلانہ باتیں ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا طبقہ ہے جو ملک میں موجود ہے۔ چار سال قبل بھی یہ دباﺅ ڈالا گیا تھا۔ اس وقت پوپ کی طرف سے بھی بیانات آرہے تھے۔ یورپی یونین بھی دباﺅ ڈال رہی ہے۔ امریکہ کا دباﺅ اپنی جگہ تھا۔ آئین کے شق 295-سی کو ختم کرنا ان سب کا ہدف ہے۔ ان کا اگلا اقدام قادیانیوں کے بارے میں قانون کے خلاف ہوگا۔ یہ پاکستا ن کے اسلامی تشخص کو مکمل طور پر ختم کرنے کی سازشیں ہیں۔ وہ بہت حد تک کامیاب ہوچکے ہیں۔ کچھ چیزیں ایسی ہیں جو درمیان میں رہ گئی ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان رکاوٹوں کو بھی دور کر دیںتاکہ ہر طرح ہم انہی جیسے ہوجائیں۔ ”یہود و نصاریٰ ہرگز راضی نہیںہوں گے جب تک تم ان کی ملت کی پیروی نہ کرو۔“ یہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ یہود ہیں تو نبیوں کی اولاد لیکن انہوں نے نبیوں کے ساتھ جومعاملہ کیا ہے، وہ چاہتے ہیںکہ سب ویسا ہی کریں۔ نبیوں کی حرمت کو وہ بٹہ لگا تے ہیں۔ وہ شیطان کے سب سے بڑے ایجنٹ ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ساری دنیا میں ان کے جیسا کلچر عام ہوجائے۔ چار سال پہلے بھی آسیہ بی بی کے مسئلے سے بات شروع ہوئی تھی۔ اس کا کیس یہ ہے تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد اس پر جرم ثابت ہوچکا ہے۔ اس نے اقرار جرم بھی کرلیا تھا۔ لیکن چونکہ حکومت نے سزائے موت کو معطل کررکھا ہے نتیجہ یہ ہے کہ ماورائے عدالت جس کو چاہو ماردو۔ فوجی آپریشنز کے ذریعے جتنے افراد کوچاہو نشانہ بناﺅ۔ ویسے سزائے موت نہیں دی جاسکتی۔ یہ وہ رخ ہے جس پر ہم جارہے ہیں۔ بہرحال اس وقت اس سے خیر برآمد ہوا تھا ۔

تمام مسالک کے مسلمان ایک پلیٹ فار م پر اکٹھے ہوگئے تھے جب آسیہ بی بی کی سزا کے خلاف دباﺅ ڈالنا شروع کیا تھا۔ زرداری صاحب کی حکومت تھی۔آپ کو یاد ہوگا سلیمان تاثیر صاحب بر سر عام کہہ رہے تھے کہ یہ کالا قانون ہے اور ہر ایسی بات کہہ رہے تھے جس سے ہر مسلمان کا دل شدید زخمی تھا۔اب اس مسئلے کو دوبارہ اٹھایا جارہا ہے۔میں نے تحفظ ناموس رسالت تحریک کے پلیٹ فارم سے عرض کیا تھا کہ ہمیں پھاڑنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ ایک معاملہ شیعہ اور سنی کا وطن عزیز میں پہلے سے چل رہا ہے اور اس کی آڑ اسلام اور پاکستان دشمن قوتیں اپنا کھیل کھیل رہی ہیں۔ کرتا کوئی ہے، الزام کسی اور پر لگا دیا جاتا ہے۔ یہ چیزیں بھی ثابت ہیں۔ شیعہ سنی منافرت اپنی جگہ تھی لیکن اس کے ساتھ ساتھ سنیوں میں دیو بندی اور بریلوی طالبان کے حوالے سے تفریق پھیلانے کی شدت سے کوششیں کی جارہی تھیں۔ اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ دونوں گروہ بھی آپس میں ٹکرانے والے ہیں۔ لیکن جب یہ مسئلہ آیا تو تمام دینی مسالک ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوگئے۔ میں نے اس وقت کہا تھا کہ یہ اللہ کا بہت بڑا کرم ہے کہ یہ ہمارے خلاف سازشیں کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پھر جمع ہونے کا ایک موقع فراہم کردیتا ہے۔ حکومت کے لئے تو یہ کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں۔ وہ تو اس قانون کو ختم کرنے کے لئے ایک لمحہ ضائع نہ کریں۔ لیکن جب تحریک چلی اور عوامی دباﺅ پڑا تو حکومت نے گھٹنے ٹیک دئیے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر یہ مسئلہ ایک بار پھر یورپی یونین کی جانب سے اٹھایا گیا ہے تو شاید اللہ تعالیٰ کو کوئی خیر مقصود ہے کہ پاکستانی قوم پھر متحد ہوجائے ۔ میں نے اس وقت بھی دینی قائدین سے کہا تھا کہ آپ ایک ایک ایشو پر تحریک چلاتے ہیں۔ کیوں نہ آپ ایک بار مل کر نفاذ شریعت کی تحریک چلائیں تاکہ ملک کے سارے مسئلے حل ہوں ۔لیکن بد قسمتی سے اس پر توجہ نہیں دی گئی ۔اللہ کرے کہ اب وہ اس کی طرف توجہ فرمائیں۔ان کا اپنا معاملہ تو یہ ہے کہ ہولوکاسٹ کے حوالے سے ان کے تصور کے خلاف کوئی بات کریں تو قابل گردن زدنی ہیں۔اس وقت راج تو شیطان کے ایجنٹ یہود کا ہے۔علامہ اقبال نے درست فرمایا تھا کہ  فرنگ کی رگ جاں پنجہ¿ یہود میں ہے۔ ہولوکاسٹ کے ان کے اپنے تصور کے خلاف کوئی بات تو ان کے نزدیک جرم عظیم ہے لیکن جو محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ان کے خلاف وہ چاہے کہیں اور کرتے پھریں۔ عین نوے کی دہائی کے شروع میں وہ کتاب The hundred چھپی ہے جس میں مائکل ہارٹ جو اس کتاب کا مصنف تھا ، نے دنیا کے سو عظیم ترین افراد کا انتخاب کیا اور اس میں پہلے نمبر پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو رکھا۔حالانکہ وہ خود عیسائی ہے۔تو جس عظیم ہستی کو نمبر ایک پر رکھا گیا اس کی توہین ان کے نزدیک کوئی جرم نہیں ہے۔یہ وہ ابلیسی تہذیب ہے جس کے یہ مظاہر ہیں ۔ بدقسمتی سے ہماری قوم کی عظیم اکثریت مغرب کے ہتھکنڈوں سے ناواقفیت کی بنا پریہ سمجھتی ہے کہ اس قانون کے ختم کردینے سے کیا فرق پڑ جائے گا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کی محبت میں جان دے دینے کا جذبہ مسلمانوں میں موجود ہے۔الحمد اللہ۔اسی جذبے سے وہ خائف ہیں اور بار بار وہ ٹسٹ کرنا چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کے اس جذبے میں کوئی کمی آرہی ہے یا نہیں۔پچھلی مرتبہ تو وہ ناکام ہوگئے تھے۔علامہ اقبال نے بہت پہلے ”ابلیس کی مجلس شوریٰ“ نامی نظم میں کہہ دیا تھا وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا روح محمد اس کے بدن سے نکال دو۔ یہ روح محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارے دلوں سے نکالنے کے مختلف ہتھکنڈے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہماری سیاسی قیادت کو بھی فہم و فراست دے اور دینی جماعتوںکو بھی اپنا کردار اداکرنے کی توفیق بخشے۔آمین یا رب العالمین۔

Open chat