Monday, November 30, 2020
- Advertisment -

مقبول ترین

ڈاؤ یونیورسٹی کا کورونا ہسپتال اب تک فعال نہ ہوسکا

یونیورسٹی روڈ پر قائم ڈاؤ یونیورسٹی ڈینٹل کالج ہسپتال کا کورونا کا ہسپتال اب تک فعال نہ ہوسکا جس کے لیے ڈاؤ یونیورسٹی کی...

آغا سراج پر ایک سال بعد فرد جرم عائد

کراچی کی احتساب عدالت میں نیب کی جانب سے آغا سراج درانی اور ان کے اہلخانہ پر ایک ارب 61 کروڑ کے غیر قانونی...

تیز رفتار ٹینکر کی موٹر سائیکل کو ٹکر

جام صادق پل پر تیز رفتار ٹینکر کی موٹر سائیکل کو ٹکر کے نتیجے میں خاتون سمیت 3 افراد جاں بحق ہو گئے۔ پولیس نے...

شہر قائد میں ٹرینوں کا خوفناک حادثہ (حفیظ خٹک)

شہرقائدکراچی میں لانڈھی ریلوے اسٹیشن کے قریب واقع جمعہ خان کے اک چھوٹے سے سب اسٹیشن پر پنجاب سے آکر کھڑی فرید ایکسپریس سے زکریا 6-copyایکسپریس نے ٹکرماردی جس سے اک خوفناک حادثہ ہوا۔اس کے نتیجے میں 20سے زائد افراد جاں بحق اور 70 سے زائد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو جناح اور عباسی ہسپتالوں میں پہنچاگیا ۔ جناح ہسپتال کی ذمہ دار ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا تھا کہ مریضوں کو فوری علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کی گئیں ،انہوں نے چند مریضوں کی حالت تشویشناک قرار دیتے ہوئے مزید کہا کہ ہسپتال آنے والے مریضوں کی ہڈیاں ٹوٹیں ہیں جبکہ متعدد کو سروں سمیت جسموں پر زخم آئے ہیں۔حادثے کے بعد امدادی سرگرمیاں فوری طور شروع کر دیں گئیں زخمیوں کو ہسپتالوں میں پہنچانے کیلئے ایمبولینیسں جائے حادثہ پر پہنچیں۔ قریبی موجود عوام بھی زخمیوں کو ٹرینوں سے نکالنے اور انہیں ایمبولینسوں میں پہنچانے کیلئے جاری دیگرامدادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کیا۔ وفاقی وزیر ریلوے سعد رفیق نے ٹرین حاثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حادثے کی وجوہات جاننے کیلئے کمیٹی بنانے کااعلان کیا اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے جاں بحق ہونے والوں کیلئے 10لاکھ اور زخمیوں کیلئے 5لاکھ روپے کی رقوم دینے کا بھی اعلان کیا۔ جاں بحق ہونے والوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں، جبکہ زخمی ہونے والوں میں بھی بچوں اور خواتین کی بڑی تعداد شامل ہے ۔اس کے ساتھ حادثے کی اطلاع ملتے ہی کمشنر کراچی نے فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کیا ۔ امدادی کاروائیوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے ساتھ فوج کے جوانوں نے بھی حصہ لیا اوراپنی ذمہ داریاں نبھائیں ۔ایک ٹریک کو جس پر حادثے کے نتیجے میں بوگیاں گر گئیں تھیں ،انہیں ہٹا کر ٹریک کو کھلوادیا ۔ کئی سیاسی جماعتوں کے سربراہوں ، وفاقی وزیروں و دیگر نے ٹرین کے اس حادثے پر افسوس کا اظہار کیا اور اس نوعیت کے اظہار کا یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ حکومت کے سربراہ وزیر اعظم میاں نواز شریف تک نے اس حادثے پر افسوس کااظہار کردیا ہے اور انہوں نے بھی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
واضح رہے کہ آج 3نومبر ہے اور آج سے 7برس قبل 2007میں اسی نوعیت کا حاثہ اسی مقام پر پیش آیا تھا جس میں 18مسافر جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے تھے ۔ اس حادثے کی وجوہات جاننے کیلئے بھی کمیٹی بنادی گئی تھی اور اس کمیٹی نے وطن عزیز میں بنے والی کمیٹیاں جو کردار ادا کرتی ہیں اس کردار کو اس کمیٹی نے بھرپور اندازمیں ادا کیا ۔ وفاقی وزیر کی قائم کردہ کمیٹی کل سے تحقیقات کا آغازکرے گی ۔ کتنے دنوں میں وہ اپنی رپورٹ تیار کرے گی اور اس کے بعد کیا ہوگا ؟ یہ سوال عوام کااور اس کا جواب ان ذمہ داروں کا حق ہے لیکن آیا اس حق کی پاسداری اور اس سوال کا جواب ممکن ہوگا یا نہیں اس کا جواب نہ عوام کے پاس ہے اور نہ ہی حکمرانوں کے پاس۔1
حادثہ ٹرینوں کے ڈرائیوروں کی غفلت کے نتیجے میں پیش آیا ،فرید ایکسپریس جو کہ لانڈھی کے قریب ایک چھوٹے اسٹیشن جسے جمعہ خان اسٹیشن کہتے ہیں وہاں پر کھڑی تھی ، فرید ایکسپریس کی آمد پنجاب سے ہوئی اور ٹریک پر پہلے سے کھڑی تھی اسی دوران زکریا ایکسپریس نے فرید ایکسپریس کو پیچھے سے ٹکرائی جس کے نتیجے میں زور دار دھماکہ ساخت آواز آئی اور اسکے بعد زخمی مسافرو ں کی چیخوں کی گونج سے فضا گونج اٹھی ۔ فرید ایکسپریس کی 3بوگیا ں پچک گئیں اور جبکہ زکریا ایکسپریس کا انجن بری طرح متاثر ہوا۔ ریل کی ڈبوں اور انجن کو ٹریک سے ہٹا دیا گیا اور زخمیوں کو بھی ہسپتالوں کو پہنچایا گیا تاہم اس نوعیت کے حادثوں کے تدارک وفاقی وزارت سمیت حکومت نے کوئی بھی عملی اقدام نہیں کیا ۔ اسی حکومت کے سربراہوزیر اعظم میاں نواز شریف تک نے اس حادثے پر افسوس کااظہار کردیا ہے اور انہوں نے بھی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
ریل کے مسافروں کی اکثریت غریب عوام کی ہے ، ریل کے حادثات و سانخات میں نقصان ہمیشہ غریب کا ہی ہوتا رہا ہے ۔ ریل کے سفرسے حکومتی اکابریں سمیت سیاسی ، مذہبی جماعتوں کے رہنما اور دیگر وی آئی پیز تک گریز کرتے ہیں ریل عوام کیلئے وہ واحد راہ سفر ہے جس میں انہیں کم قیمت پر ٹکٹیں مل جاتی ہیں اور وہ سڑک کے سفر سے محفوظ رہتے ہوئے اندرون ملک میں اپنی منزلوں پر پہنچ جاتے ہیں۔عید کے مواقعوں پر بھی انہیں یہ سہولت حاصل ہوتی ہے کہ عام حالات میں چلنے والی ٹرینوں کے ساتھ اضافی ٹرین بھی شروع کر دی جاتی ہے جس سے عوام مستفید ہوتے ہیں۔ ریل کے اند ر کی صورتحال کی عکاسی وہی بہتر انداز میں کرسکتے ہیں جنہوں نے ریل کے سفر کئے ہیں۔ حکومتی اجازت و ہمایت کے بعد ہی کچھ ایسی ریل گاڑیوں نے بھی اپنی سروسز شروع کی ہیں جن میں بھاری رقم کی ا دائیگی کے بعد ٹکٹ حاصل ہوتی ہے اور اس کے بعد ان میں جس طرح کی سہولتیں فراہم کی جاتیں ہیں وہ عام ریل گاڑیوں سے یکسر مختلف ہیں۔ پانی کے صاف پینے اور کھانے سمیت ٹی وی اور نیٹ تک کی سہولتیں بہم پہنچائی جاتی ہیں ۔ ان تمام سہولتوں کے ہوتے ہوئے بھی اس ریل کے مسافر بھی اسی ٹریک کو اور انہی راستوں کو استعمال کرتے ہیں جنہیں دیگر ٹرینیں استعمال کرتی ہیں لہذا یہ بات واضح رہے کہ جس نوعیت کا حادثہ آج زکریا اور فرید ایکسپریس کے درمیان رونما ہوا ہے اسی طرز کا ان ٹرینوں کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے ۔
فوری اور لازمی عنصر یہی ہے کہ وفاقی وزیر ریلوے اپنی ذمہ داریوں کو احسن انداز میں نبھاتے ہوئے اس شعبہ کو بھی عوامی مفاد میں حفاظت کے ساتھ ملکی وقار کیلئے تبدیل کریں ۔ ان ممالک کی ٹرینوں کو دیکھیں جو اپنے ملک کی دیگر شعبوں میں ترقی کے ساتھ اس شعبے میں بھی ترقی کرتے رہے ہیں ۔جہاں گھنٹوں کی مسافت کم ہوکر منٹوں میں آچکی ہیں ، زمین کے اوپر چلنے والی ٹرینوں کی طرح زیرزمین ٹرینیں بھی ملک کی تعمیر و ترقی میں یکساں کردار ادا کررہی ہیں ۔ khwaja saad rafiq1
ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی وزیرریلوے سعد رفیق ،مرکزی حکومت کے سربراہ کی ان دنوں پانامہ لیکس کے حوالے سے پیدا ہونے والی صورتحال کو ایک جانب رکھتے ہوئے اپنی محکمانہ ذمہ داریوں کو پورا کریں ۔حادثے کی اصل وجوہات کو جاننے کیلئے قائم کمیٹی کی رپورٹ کو عوام کے سامنے رکھتے ہوئے آئندہ کیلئے حادثات سے بچنے کیلئے عملی اقدامات کریں ۔ تاکہ ملک کی کثیر آبادی جو ٹرین کے سفر کو ترجیح دیتے ہیں وہ ان کی جانب سے کی گئی محنتوں اور اس کے مثبت نتائج سے مستفید ہوں۔

 

حفیظ خٹک
Biographical Info
Open chat