امت مسلمہ کے مسائل کا حل (مولانا تنویر اعوان)

islamبحیثیت مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ اسلام دین ِکامل ہے اور پیغمبر اسلامﷺ کی تعلیمات وہ نسخہ کیمیا ہیں،جن سے مردہ دلوں کوحیات ِجاوداں نصیب ہوئی اورپستیوں میں گری ہوئی انسانیت کو جینے کا شعور ملا۔ رسول اللہ ﷺ کا خطبہ حجة الوداع یقینا ”چارٹرڈ آف دی ہول ورلڈ“ ہے جس میں آپ ﷺ نے ظلم کے تمام ضابطے، رسومات اور طبقاتی تفریق کے اصولوں کو ختم کرکے عدل وانصاف، مساوات، امن اور انسانیت کو بنیادی حقوق عطا فرمائے۔  اسی موقع پرآپ ﷺ نے یہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا کہ،” جاہلیت کی تمام اقدار آج میرے پاؤں کے نیچے ہیں“۔ آپ ﷺ نے ایمان کی بنیاد پر سب مسلمانوں کو”جسد واحد“ قرار دیا اور تاریخ انسانی میں منفرد ”مواخات مدینہ“ قائم فرما کر ایثار اور قربانی کی لازوال داستانیں رقم فرمائیں۔ قرآن پاک میں اللہ کریم نے آپ ﷺ کو نعمت قرار دیتے ہوئے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رکھنے اور تفرقہ سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے، ”اور اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھامے رکھو اورآپس میں پھوٹ نہ ڈالو اور اللہ نے تم پر جو انعام کیا ہے اسے یاد رکھو کہ ایک وقت تھا جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، پھر اللہ  نے تمھارے دلوں کو جوڑ دیا اور تم اللہ کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے، اللہ نے تمھیں اس سے نجات عطافرمائی “۔ (سورہ اٰل عمران ۔103) فرقہ واریت زمانہ جاہلیت کی ہو یا موجودہ دور کی، اللہ کریم نے امام الانبیاء کی اسوہ حسنہ میں اس سے نجات کا سامان رکھا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے اہل ایمان کی اس انداز سے تربیت فرمائی تھی کہ وہ آپس میں ریشم کی طرح نرم اور دشمن کے مقابلے میں فولادی تھے، اس صفت کو قرآن پاک میں بھی اللہ کریم نے ارشاد فرمایا، ”محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں کے مقابلے میں سخت ہیں،(اور) آپس میں ایک دوسرے کے لیے رحم دل ہیں“۔ گویا پوری دنیا میں بسنے والے مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں، ان کے دکھ درد سانجھے ہیں ۔چنانچہ نعمان بن بشیر ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا، ”ایمان والوں کو باہم ایک دوسرے پر رحم کھانے، محبت کرنے اور شفقت ومہربانی کرنے میں تم جسم کی طرح دیکھو گے کہ جب اس کے کسی ایک عضو میں بھی تکلیف ہوتی ہے تو جسم کے باقی سارے اعضا بھی بخار اور بے خوابی میں اس کے شریک حال ہو جاتے ہیں“۔ (بخاری ،مسلم ) گویا مشرق ومغرب میں بسنے والے مسلمانوں کے فاصلوں کو یکسر ختم کرکے امت وحدت کا تصور میں سب کو یک جان کردیا۔
اسی کی عملی صورت خلفائے راشدین کے ادوار میں بدرجہ اتم نظرآتی ہے جب کہ حجاج بن یوسف کو ایک بیٹی کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے فاتح سندھ محمد بن قاسم کی زیر کمان لشکر کو دیبل بھیج کر مدد کرنا اور موسیٰ بن نصیر کا یورپ پر حملہ کرنا تاریخی حقائق ہیں۔ الغرض رسول اللہ ﷺ نے 23سال محنت کے بعد معاشرے میں پھیلی طبقاتی تفریق، ذہنی انحطاط اورفکری جمود کو یکسر ختم کرکے ایک خوبصورت معاشرے، عالمگیر برادری اور ہمہ گیر اخوت کوتشکیل فرمایا۔ احترام انسانیت، امن وامان اور قوانین کی پاسداری کو رواج دے کر انسانی مال، جان، عزت اور آبرو کو تحفظ فراہم کیا۔ جس کے حوالے سے قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے،”جو کسی کو قتل کرے ،جب کہ یہ قتل نہ کسی اور جان کا بدلہ لینے کے لیے ہو اور نہ کسی کے زمین میں فساد پھیلانے کی وجہ سے ہو، تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کو قتل کیا اور جو شخص کسی کی جان بچا لے تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کی جان بچا لی“۔ (المائدہ ۔32 ) جب کہ دوسری آیت میں ارشاد باری ہے، ”جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے، اس کی سزا جہنم ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا“۔(النساء۔93)
ایک انسان کو جینے کا حق حاصل ہے معاشر ے میں بڑا مرتبہ اسے حاصل ہے جو زیادہ تقویٰ والاہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے، ”تم میں سب سے زیادہ اللہ کا وہ محبوب شخص ہے جو سب سے زیادہ متقی، پرہیزگار اور محتاط ہے“۔ آپ ﷺ نے معاشرتی برائیوں زنا، چوری، عصمت دری، جھوٹ، غیبت، بغض و عدوات کی حوصلہ شکنی فرما کر پاکیزگی کو رواج عطا فرمایا جب کہ سود، قمار، جوا اور سٹہ بازی کاخاتمہ کرکے انسانیت کو پاکیزہ ذرائع آمدنی اور نظام معیشت عطا کیا، تعلیم کو فروغ دے کر جہالت کے اندھیروں کو رفع کیا، انسانوں کے مختلف طبقات کے حقوق اور فرائض سے آگاہی دے کر جہاں دیدی اور جہاں بانی عطا فرمائی، یہی وجہ ہے کہ وہ معاشرہ عفت و عصمت میں اس انتہا کو پہنچا ہوا تھا کہ اللہ کریم نے قرآن پاک میں ان کے کردار اور اعزاز کو ہمیشہ کے لیے محفوظ اور معیاربنا یا، اسی لیے بقول شاعر
جو نہ تھے خود راہ پر اوروں کے ہادی بن گئے
کیا نظر تھی جس نے مردوں کو مسیحا کردیا
رسول ِامین، خاتم المرسلین اور پیغمبر اسلام ﷺ کی اسوہ حسنہ زندگی کے تمام شعبوں کو جامع ہے اورمزید یہ کہ اللہ کریم نے اسے محفوظ بنانے کے علاوہ روزِقیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے بہترین نمونہ قرار دیا ہے۔ آپ کے ذریعے دین اسلام اپنے کمال، انسانی ضروریات کی تکمیل اورقیامت تک راہنمائی کی صلاحیت قرآن پاک کے اس ارشاد کی روشنی میں حاصل کر چکا ہے، ”آج ہم نے تمھارے لیے تمھارا دین مکمل کردیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کردیں اور تمھارے لیے اسلام کو پسند کردیا۔ (المائدہ۔3) جب تک مسلمانوں نے اللہ کے فرمان کے مطابق، ”اور رسولﷺ تمھیں جوکچھ دیں، وہ لے لو اور جس چیز سے منع کریں، اُس سے رُک جاو اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ سخت سزا دینے والا ہے“۔(الحشر ۔7) جب تک امت مسلمہ اس اصول پر قائم رہی، غلبہ اور استحکام اس کا مقدر رہا لیکن جب سے اسوہ رسول اللہ ﷺ کو ہم نے پس پشت ڈالا اس وقت سے مغلوبیت، محکومیت اور غلامی نے ہمارے دروں پر ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔
زوال اور پستی کے موجودہ دور میں مسلم حکمران اپنے مسائل اور مشکلات کے حل کے لیے مغرب، یہود ونصریٰ اور امریکہ کی طرف دیکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ہمارے مسائل حل ہونے کے بجائے مشکلات میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے جب کہ آسمانی حقائق اس سے یکسر مختلف ہیں۔ وحی الہی ہمیں گنبد خضریٰ کے مکین کی طرف راہنمائی کرتی ہے، حالات کا تقاضا یہ ہے کہ ہمارا رشتہ پیغمبر اسلام کی تعلیمات سے جتنا مضبوط ہو گا۔ ہمارے لیے زندگی میں اسی قدر آسانیاں پید اہوں گی۔ ہمارے مسائل حل ہوں گے اور غلبہ واستحکام اور فتح ہمارا مقدر ہوگی لہذا ضرورت اس امرکی ہے کہ ہمیں اجتماعی اور انفرادی طور پر صرف اور صرف رسول اللہ ﷺ کی اسوہ حسنہ کو مشعل راہ بنا کر اس دنیا میں اپنا مقام پید اکریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top