Tuesday, November 24, 2020
- Advertisment -

مقبول ترین

خداداد کالونی ،گودام کی بالائی منزل پر آتشزدگی

خداداد کالونی میں گودام کی بالائی منزل میں آگ لگ گئی، فائربریگیڈ کی گاڑیاں روانہ، ریسکیو ذرائع...

نکاسی کی 936 میں سے781شکایات کا ازالہ کردیا،واٹربورڈ

واٹربورڈ نے شہر کے مختلف علاقوں سے موصولہ فراہمی ونکاسی آب کی 700سے زائد شکایات کا ازالہ...

ریسٹورنٹس میں ان ڈورڈائننگ پر پابندی عائد

ریسٹورنٹس میں ان ڈور ڈائننگ پر پابندی عائد، کمشنر کراچی نے ریسٹورنٹس کے حوالے سے تمام ڈپٹی...

سی ویو پر سائیکلنگ کرنے والوں کے خوش خبری

سی ویو پر سائیکلنگ کرنے والوں کے خوش خبری، کنٹونمنٹ بورڈ نے سی ویو پر تین کلو میٹر...

کراچی کا اردو بازار (حیات رضوی امروہوی)

urdu-bazaar-5دنیا کے ہر خطے میں قدیم تاریخی ورثے اپنی طرز تعمیر کی وجہ سے خاص اہمیت کے حامل ہیں اور مسائل کا بھی شکار ہیں۔ لیکن سندھ میں اس کی زبوں حالی دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ ملک کے مختلف علاقوں میں موجود تاریخی عمارتیں مختلف ادوار میں مختلف شخصیات نے ہزاروں جتن کر کے تعمیر کرائیں تھیں، لیکن ایک طویل عرصے سے اس کی دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث وہ یا تو منہدم ہو چکی ہیں یا دن بہ دن اپنا حسن کھوتی جا رہی ہیں۔ انفرادی اور اجتماعی بے حسی کا باعث ہمارا قدیم تاریخی ورثہ زبوں حالی کا شکار ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے سرکار کی تھوڑی بہت توجہ کے باعث تاریخی اعتبار سے اہمیت کے حامل بعض مقامات اور عمارتوں کو کسی حد تک محفوظ کر لیا گیا ہے، تاہم ابھی اس ضمن میں بہت کام باقی ہے۔ حکومت سندھ کو تاریخی ورثوں کی قدر و قیمت کا اندازہ ہو گیا ہے۔ اس ضمن میں یہ خوش آئند بات دیکھنے میں آئی ہے کہ سندھ حکومت کی کوششوں کے نتیجے میں موجود بعض تاریخی عمارتوں کی خوبصورتی اور رونقیں لوٹ رہی ہیں اگرچہ گزرتے وقت کے ساتھ حیات رضوی امروہوی ریگل چوک سے فرئیر روڈ پر چوراہا برنس روڈ تک جائیں، راستے میں آپ کے بائیں جانب خوشبو بھری کباب کی دکانیں بھی آئیں گی، جو کراچی کی مشہور و معروف فوڈ اسٹریٹ ہے، پھر یہاں سے داہنی جانب بند روڈکی طرف مڑ جائیں تو عید گاہ میدان کا علاقہ آ جائے گا۔ یہاں سے واپس بندر روڈ پھر تبت مارکیٹ سے ہوتے ہوئے داہنی طرف مڑ کر ریگل چوک پر واپس آ جائیں تو یہی اصلی ”اردو بازار“ کا حدود اربعہ ہے کیونکہ اسی نام سے بہت سے علاقوں میں اردو بازار بنا لیے گئے ہیں جو اس بات کا واضح اظہار کر دیتے ہیں کہ یہاں کتابوں کا کاروبار ہوتا ہے مگر حقیقی اردو بازار وہی ہے جس کا حدود اربعہ ابھی ہم نے آپ کو بتایا، یعنی فرئیر روڈ اور بندر روڈ کا وہ درمیانی علاقہ جو ریڈیو پاکستان کی پشت پر واقع ہے۔ اگر آپ اس میں بندر روڈ کے دوسری طرف کا وہ علاقہ بھی شامل کر لیں، جوعید گاہ میدان کی طرف ہے تو یہ اردو بازار کا توسیعی علاقہ کہلائے گا، کیونکہ یہاں بھی کئی جگہوں پر وہی کاروبار ہو رہا ہے جو اردو بازار کا خاصہ ہے یعنی کتابوں کا کاروبار، خواہ وہ طباعت ہو، اشاعت ہو، فلم میکنگ، بائنڈنگ ہو، کاغذ کی کٹنگ ہو، لیمی نیشن ہو یا کتابوں کی خرید و فروخت، یہ سب کام اردو بازار میں ایک جگہ پر ہو رہے ہیںاگر دیکھیں تو آپ حیرت زدہ ہو جائیں۔ چھوٹی چھوٹی، پتلی پتلی، ادھڑی ہوئی سڑکیں، اوپر رہائشی فلیٹ، نیچے کاروبار زندگی، جن میں بڑے بڑے پریس قائم ہیں اور مشینوں پر دھڑا دھڑ کام ہو رہا ہے۔ دکانوں کے درمیان نہ تو چلنے کی جگہ ہے نہ سامان ایک دوسری جگہ سے منتقل کرنے کی سہولت، مگر کام ہے کہ ہوتا جا رہا ہے۔ کام روکنے کی چھوڑیں، سر کجھانے کی بھی مہلت نہیں، کام رکنے کی بس یک ہی صورت ہے کہ بجلی چلی جائے، اب سب کام ٹھیک ہے، کارندے اپنا اپنا پسینہ پونچھ رہے ہیں، چائے کے آرڈر دیے جا رہے ہیں، کاغذ کی گنتی ہو رہی ہے۔ ایک دکان بلکہ ایک کارخانے سے دوسرے کارخانے میں سامان منتقل کیا جارہا ہے۔ ہاتھ گاڑیوں، چار پہیوں والے ٹھیلے اور سوزوکیوں سے سامان اتارا جا رہا ہے۔ دکان کے اندر جوٹانڈ (میزانین یا لوفٹ کی جگہ)بنا ہوا ہے، اس پر سامان رکھا جا رہا ہے، کچھ کارخانے اس وقت بھی چل رہے ہیں کیونکہ انہیں جنریٹر کی سہولت حاصل ہے، مگر جنریٹر سے جو حدت ا ور شور پیدا ہو رہا ہے اس سے ماحول سوبان روح ہو رہا ہے اور کان پڑی آواز نہیں آرہی۔
کرخنداری زبان اگر سننی ہو تو آپ اردو بازار چلے جائیں، مشینوں کے شور کی بناپر ہر کارندہ دکاندار اونچی آواز میں گفتگو کر عادی ہے آواز بڑی مشکل سے سمجھ آتی ہے اگر سمجھ میں آ جائے تو جواب بھی اس سے زیادہ تیز آواز میں موصول ہو گا۔ یہاں ہر جگہ کا آدمی موجود ہے، کراچی بڑا غریب پرور شہر ہے کاروبار دیتا ہے۔ رہنے کے لیے جھگی اور سستا کھانا ہر جگہ مل جاتا ہے۔ فالتو آدمی کی گنجائش نہیں۔ بہت سے لوگوں میں کتابیں خریدنے کی سکت نہیں لیکن پھر بھی اس بازار کا چکر لگاتے رہتے ہیں۔ یہی معلوم ہو جائے کہ کس مصنف کی کون سی نئی قیمت آئی۔ کس کتاب کا نیا آڈیشن آیا۔ اس مہینے کون کون سے نئے رسالے آ گئے، کون سی کتاب کتنی موٹی ہے، کتنے صفحات پر مشتمل ہے اور نئی قیمت کیا رکھی گئی ہے، ڈسکاونٹ پر کتنے میں مل سکتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ مگر دکاندار بھی اب صورت سے پہچان لیتے ہیں کہ کون خریدار ہے اور کون صرف کتابیں سونگھنے کے لیے آیا ہے۔ ایسے آدمی کو شوکیس کے پاس سے فوراً کتابیں صاف کرنے والی ڈندی دار جھاڑن سے ہنکالتے ہوئے کہہ دیتے ہیں کہ”آریا ہے نہ جاریا ہے، کھڑا کھڑا مستا ریا ہے، لمبا بن جا“ یہاں ہر طرح کا آدمی آریا جاریا ہے، معاف کیجیے آرہا ہے جا رہا ہے، دراصل اب سب کی زبانوں پر کراچی کا لہجہ چڑھ چکا ہے جیسے بمبئی(اب ممبئی) میں سب لوگ بمبیا لہجے میں گفتگو کرتے ہیں۔ ”آریلا، جا ریلا “ عام گفتگو میں استعمال ہونے والے الفاظ ہیں۔
2_86470حسن علی آفندی روڈ کاغذی بازار اور پاکستان چوک سے اس اردو بازار کا بڑا گہرا رشتہ ہے۔ کاغذی بازار سے کم و بیش ہزاروں ریم کاغذ اردو بازار پہنچتا ہے، جو ہاتھ گاڑیاں، ریڑھے، اور سوزوکیاں یہاں تک ڈھوتی ہیں، عام پاکستانی، امپورٹڈ، ہلکا بھاری جس کا وزن گراموں میں متعین کیا جاتا ہے۔ آرٹ پیپر، ای ٹیشن آرٹ پیپر، ہلکا بھاری گتہ، فائل کارڈ کی ضرورت پرنٹنگ کے لیے چاہیے ہوتی ہے، جو ضرورت کے مطابق کاٹ کر چھاپا جاتا ہے مگر اس سے پہلے بہت سے مقامات آوفغاں آتے ہیں، سب سے پہلے تو کمپوزنگ اور ڈیزائننگ کا مرحلہ ہے، جس میں دکانوں کی اوپر والی منزلیں اسی قسم کے دفاتر کے لیے استعمال کی جاتی ہیں اور اس اوپر کی منزلیں رہائشی فلیٹوں کے لیے وقف ہیں، جہاں سے مسلسل کوڑے کچرے کی تھیلیاں چٹاخ پٹاخ سڑک کنارے، بلکہ گلیوں کے بیچوں بیچ گرتی رہتی ہیں، کوڑے کو ٹھکانے لگانے کا دیسی انتظام اس کے علاوہ یہ ہے کہ فلیٹ کے لونڈے لپاڑے گٹر کے ادھ کھلے ڈھکن کے ذریعہ گٹر لائنوں میں ڈال دیتے ہیں۔ فلیٹوں کا گند آب کے لیے اب ان لائنوں میں شاید ہی کوئی گنجائش رہ گئی کیونکہ بارش کے موقعے پر اس کا معقول امتحان ہو جاتا ہے۔ اگر یہاں تیز بارش ہو جائے تو بازار کی گلیاں نہروں کا منظر پیش کرتی ہیں۔ گٹر لائنیں بالکل ناکارہ ہو جاتی ہیں۔ بارش کے پانی سے مل کر ان گٹر لائنوں سے بدبودار کیچڑ کے بھبکے اٹھتے ہیں۔ دکانوںکو بارش کے پانی سے بچانے کے لیے تمام اندرونی راستوں کے آگے کم از کم ڈیڑھ فٹ اونچی دیواریں بنا دی گئی ہیں اور دکانوں کو بھی اونچا کر لیا گیا ہے جو دروازے لب سڑک ہیں ان کے آگے بھی مقامی انجینئروں نے سد سکندری کھینچ رکھی ہے۔
pak-chowkہاں تو بات ہو رہی تھی کمپوزنگ اور ڈیزائننگ کی کیونکہ پلیٹ میکنگ اور پرنٹنگ کے مراحل تو اس کے بعد ہی شروع ہو سکتے ہیں۔ دکانوں کے میزانین فلور اور فرسٹ فلور اس قسم کے دفاتر سے بھرے پڑے ہیں، کمپیوٹر لگے ہوئے ہیں اور گاہکوں کی قطاریں ایک ایک آرٹسٹ کی کابک میں اپنی اپنی باری کا انتظار کر رہی ہے، ہر گاہک کے ہاتھ میں ڈبے یا ہینڈ بل یا لیٹر پیڈ کا نمونہ موجود ہے،جس کا چربہ وہ بنوانا چاہتا ہے۔ بیشتر یہ ڈیزائن غیر ملکی مصنوعات سے متعلق ہوتے ہیں جن کی دونمبری یا تین نمبری نقل یہاں کراچی میں تیار کر لی جاتی ہے اور دھڑلے سے یہ اصلی جاپانی یا اٹالین کہہ کر فروخت کی جاتی ہیں، ان کا زیادہ تر تعلق ادویات یا موٹر پارٹس سے ہوتا ہے۔ سلیبس کی کتابیں، شعر و شاعری اور دیگر تمام موضوعات کی شروعات کمپوزن سے ہی ہوتی ہے، کتابت کا زمانہ اب ختم ہو گیا ہے یا پھر کتابوں رسالوں کی سرخیاں یا پھر پوسٹر کے ڈیزائن تک رہ گیا ہے۔ اس طرح آرٹ ورک بھی اب بیشتر کمپیوٹر کے نیٹ سے اٹھا لیا جاتا ہے۔ کسی زمانے میں بہادر شاہ مارکیٹ، اورنگ زیب مارکیٹ، اقبال مارکیٹ یا میونسپل کارپوریشن کے سامنے یا لائٹ سینما کے قریب نالے پر کارپوریشن کی دکانوں میں کاتبوں کی رونق ہوتی تھی۔ اب یہ سب رونقیں کمپوزلوگوں کے ہاں دیکھنے میں ملتی ہیں، جب تک کمپیوٹر نہیں تھا، اردو بازار میں کمرشل آرٹسٹوں کا راج تھا، تمام ذیزائن ہاتھ سے تیار کیے جاتے تھے۔ بلاک بنتے تھے پھر پرنٹنگ ہوتی تھی۔ اردو کی کتابیں پیلے کاغذ کے مسطر پر کاتبوں کے ہاتھ کی ہوتی تھیں، جن سے براہ راست پلیٹیں بنا لی جاتی تھیں وہی مشین پر چھاپے کی غرض سے چڑھا دی جاتی تھیں۔ اب ان کاتب حضرات نے زیادہ تر پیسٹنگ کا کاروبار کر رکھا ہے یعنی کمپیوٹر کے ذریعے ہونے والی کتابت کی یا تو فلمیں بن جاتی ہیں یا پھر ان پیسٹنگ کرنے والوں کے ذریعے باریک بٹر پیپر پر فوٹو اسٹیٹ کر کے بٹر پیپر کے مسطر پر پیسٹ کیا جاتا ہے اور ان سے پلیٹ سازی کا کام لیا جاتا ہے، یہ سب امور اسی اردو بازار میں انجام پذیر ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے اپنے دفاتر کھولے ہوئے ہیں پاکستان چوک سے اردو بازار کا یہ رشتہ ہے کہ تمام شادی کارڈ کی زیادہ تر دکانیں یا دفاتر پاکستان چوک پر ہی ہیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک ڈیزائن سستے اور مہنگے ڈیزائن یہیں سے اردو بازار چھپنے کے لیے جاتا ہے۔ اسی سائز کے لفافے بھی یہاں متنوع قیمت پر مل جاتے ہیں جن کے ڈیزائن دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ غرض پاکستان چوک اور اردو بازار میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔
0اردو بازار کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہاں ملک کے نامور ادیبوں، شاعروں اور دانش وروں سے ملاقات ہو جاتی ہے وہ اپنی تصانیف کے لیے یہاں پبلشرز کے دفاتر میں آتے ہیں، یہ آمد و رفت سال کے بارہ مہینے رہتی ہے، کسی بھی وقت کوئی مشہور و معروف دانشوشاعر، افسانہ نگار یا محقق آپ کی دسترس میں آسکتا ہے۔ یہ پبلشرز بعض اوقات کسی بہت ہی چھوٹے سے آدمی کو بڑا شاعر یا مصنف بنادینے میں کمال رکھتے ہیں اگر آپ کی جیب میں پچاس ساٹھ ہزار روپے ہیں اور کچھ غزلیں کہی ہیں یا لکھوا رکھی ہیں تو باقی غزلوں، دیباچوں اور بہت سے ادیبوں کی آراءکا انتظام یہ پبلشرز کر لیتے ہیں اور آپ دیکھتے ہیں۔ یہ اردو بازار کا فیضان طلسمات ہے جس زمانے میں ریڈیو پاکستان کے پروگرام بندر روڈ والی عمارت میں ہوتے تھے تو اردو بازار میں بہت سے فنکاروں سے ملاقات بھی متوقع ہوا کرتی تھی کیونکہ ادیب حضرات تو ہوتے ہی اردو بازار میں تھے ان سے ملنے ملانے کے لیے ریڈیو کے فنکار بھی کسی کاتب یا اشاعت گھر کے دفتر میں ملاقات طے کر لیتے تھے، بلکہ بعض جگہوں پر تو یہ ملاقاتیں روزانہ شام کے وقت متعین ہوتی تھیں۔ مشہور و معروف خوش نویس جناب یوسف دہلوی جن کے خط میں آج بھی پاکستان کے کرنسی نوٹوں پر ”حکومت پاکستان“ لکھا ہوا ہے، اسی بازار کی عمارت بہادر شاہ مارکیٹ کے فلیٹ میں رہتے تھے۔ مشہور آرٹسٹ سمیع صاحب نے اردو و انگلش کی نہ جانے کتنی کتابوں کو تصاویر سے مزین کیاوہ بھی برنس روڈ پر رہتے تھے جو اردو بازار کا سب سے پر رونق حصہ ہے۔ کمرشل آرٹسٹوں کے ساتھ ان دنوں بلاک سازی کا طریقہ طباعت کا لازمی حصہ تھا، چنانچہ اس شعبے سے متعلق نہ جانے کتنے ادارے کمپیوٹر کے لقمہ اجل ہو گئے۔
اسی طرح اردو بازار میں بہت سے روزناموں، ہفت روزوں، ماہناموں کے دفاتر تھے، جواب نہیں رہے۔ روزنامہ انجام، روزنامہ نئی روشنی، ماہنامہ رومان اور نہ جانے کتنے معروف نام اب اس اردو بازار میں نہیں پائے جاتے، یہا درسی کتابیں، نئی اور پرانی ہر طرح کی کاپیاں، رجسٹر نیز ہر قسم کی اسٹیشنری کا سامان دستیاب مہیا ہے۔ کتابوں کی فروخت کے لیے تو مشہور ہے ہی کون کہتا ہے کہ جب سے کمپیوٹر آیا ہے۔ کتابیں پڑھنے کا رواج ختم ہو گیا۔ اس بازار میں ایسے مخدوش حالات کار کے باوجود ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں انسان کتابوں کار بہتر ہوتے تو اردو اور بھی ترقی کرتی، لوگ اور بھی ہشاش بشاش ہوتے، افسوس
”گیسوئے اردو ابھی منتِ پذیر ہے“
DSCF8431مختلف قدیم عمارتوں کی جگہ جدید تراش خراش کی تعمیرات نے لے لی ہے لیکن اب بھی صرف کراچی میں تقریباً 44سے زائد قدیم تاریخی عمارتیں موجود ہیں۔ ان میں بعض کا رنگ و روپ بدل چکا ہے جب کہ بعض، وقت کے سخت تھپیڑوں کے باعث اپنی خوبصورتی سے محروم ہو چکی ہیں یا ہو رہی ہیں۔ وسیع رقبوں پر پھیلی ہوئی یہ عمارتیں پہلی ہی نظر میں دیکھنے والوں کی آنکھیں خیرہ کر دیتی ہیں۔ ان کی مخصوص بناوٹ اور دیدہ زیب نقش و نگار ان عمارتوں کو بنانے والے ہاتھوں کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ان کی تاریخ کے حوالے سے یہ دلچسپ بات سامنے آئی ہے کہ مخصوص برادری کا ان کی تعمیر میں زیادہ عمل دخل ہے۔ شہر بھر کی قدیم عمارتوں کے ٹھیکدار، راج، مزدور، سنگ تراش اور چتر کار، سلاوٹ برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ کراچی کی تقریباً 75فیصد قدیم عمارتیں اسی برادری کے افراد کی تعمیر کردہ ہیں، جہاں انہوں نے اپنی ماہرانہ نقاشی، سنگ تراشی اور چتر کاری کے اعلیٰ نمونے چھوڑے ہیں۔ کراچی کی عمارتوں کی تعمیر میں زیادہ تر جے پور او جودھ پور کے سرخ پتھروں اور جنگ شاہی کے پتھر استعمال کیے جاتے تھے۔ پتھروں کی کٹائی کے بعد ان کو گھسا جاتاتھا۔ بعض عمارتوں کے پتھروں پر نقش و نگار بھی بنائے جاتے تھے۔ سلاوٹ اور گزدر برادری کو سنگراچی کا ماہر تصور کیا جاتا تھا۔ کراچی کی بیشتر عمارتیں انہی کی فنی مہارت کا بہترین نمونہ ہیں۔ کراچی کی عمارتوں کی دیواریں، ستونوں یا پلرز پر نہیں کھڑی کی جاتی تھیں بلکہ بڑے بڑے پتھروں کو تراش کر ایک دوسررے پر فکس کر دیا جاتا تھا۔ اس وقت مزدوری کے کام میں عورتیں بہت سخت محنت کرتیں تھیں جبکہ مرد مزدوری بالکل نہیں کرتے تھے چونکہ اس وقت مشینیں ایجاد نہیں ہوئی تھیں اس لیے عورتیں ایک دوسرے کو قطار کی شکل میں کھڑی ہو کر سامان پکڑاتی تھیں۔ وہ تیز دھوپ میں بھاری پتھر سروں پر اٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتیں تھیں۔ اس سخت مشقت میں شیر خوار بچے بھی ان کے ہمراہ ہوتے۔ عمارت کی تعمیر کے وقت پتھروں کو آگ پر گرم کرنے کے بعد ان کو پانی میں ڈالتے، اس عمل سے وہ حلوے جیسی شکل اختیار کر لیا کرتے تھے، پھر اس پر ہاتھ سے نقش و نگار بنائے جاتے یا پہلے سے تیار شدہ ٹھپے سے ان پر ڈیزائن ڈالا جاتا، جس کے بعد انہیں دھوپ میں خشک کر لیا جاتا۔ عمارتوں میں استعمال ہونے والے پتھروں کو اینٹ کی شکل میں دینے کے لیے ایک یہ طریقہ بھی تھا کہ ایک چیز جو شنگرف جیسی ہوتی تھی، اس میں جو کا آٹا اور بھیڑ کا دودھ ملانے کے بعد پانی ڈالا جاتا تو وہ ایک دم سخت ہو کر اینٹ بن جاتا، اس سے پتھر بنتے تھے۔ ذیل میں کراچی کی قدیم عمارتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

1 COMMENT

Comments are closed.

Open chat