Wednesday, October 21, 2020
Home اسلام محبت کا دن (محمد عتیق الرحمن)

محبت کا دن (محمد عتیق الرحمن)

valentines-day2    آج اگر ہم اپنے اردگردعموماََاور مسلم معاشرے پر خصوصاََ ایک طائرانہ سی نظر ڈالیں تو ہمیں احساس ہو گا کہ بہت سارے فتنے سر اٹھا چکے ہیں جن میں سے اکثر سے ہماری اخلاقیات بری طرح گراوٹ کا شکار ہیں ۔ انہی فتنوں میں سے ایک فتنہ 14 فروری بنام ویلنٹائن ڈے ہے جو کہ خالصتاََ ایک عیسائی تہوار ہے اور اس کا نام بھی ایک عیسائی پادری ویلنٹائن کے نام سے ہی ہے کیونکہ یہ تہوار بھی اسی سے شروع ہوتا ہے۔ آج سے اگر چند سال پیچھے نظر ڈالیں تو یہ تہوار مسلمانوں میں تو کجا عیسائی پسماندہ ملکوں میں بھی اس کا خال خال ہی پتہ تھا لیکن پھر ایک مذموم منصوبہ بندی سے اس کو اس طرح سے پیش کیا گیا کہ آ ج ہر پاکستانی اس کو نہ صرف جانتا ہے بلکہ اکثریت اسے بڑے زور وشور سے مناتی ہے اور ہم لمحہ بہ لمحہ اخلاقیات سے عاری قوم ہوتے جارہے ہیں۔ ایک وہ طارق بن زیاد ؒتھا کہ جوایک غیر مسلم کی پکار پر اس کا بدلہ لینے اندلس جاپہنچتا ہے اورایک ہم ہیں کہ اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی مسلمان عزتوں کو سرعام نیلام کرکے نہ صرف ڈھنڈورا پیٹتے ہیں بلکہ اس میں فخر محسوس کرتے ہیں۔
ویلنٹائن ڈے کے متعلق مختلف روایات ملتی ہیں لیکن جو چیز ان سب میں مشترک ہے وہ بے راہ روی ہے جو کہ اسلام میں بالکل ممنوع ہے کیونکہ اس سے مزید آگے تباہی کے دروازے کھلتے ہیںاور غیر مسلم اس کا نقصان بھی بھگت رہے ہیں کہ ہر دوسرا پیدا ہونے والا بچہ زنا کی پیداوار ہے ۔اس دن آپ کہیں بھی چلے جائیں کسی پارک ،ہوٹل ،اسکول ،یونیورسٹی یاپھر کسی بھی کیفے ٹیریا میں آپ کو اس دن لازمی طور پر سرخ گلاب دکھائی دے گا جو کہ اس دن کی خاص علامت ہے ۔ سکول و کالجز کے جو ہمارے مستقبل کے معمار تیار کرتے ہیں بڑے افسوس سے کہنا پڑرہا ہے کہ وہ بھی اس کام میں برابر کے شریک ہیں خصوصاََ پرائیویٹ سکول وکالجز ،جس کے اساتذہ کرام خود اس دن کو مناتے ہیں ۔بعض لوگوں نے اپنے دل کو سمجھانے کے لئے اس دن کو منانے کی ایک نئی طرح ڈالی ہے کہ کسی انجان لڑکی کو نہیں بلکہ اپنی والدہ محترمہ یا پھر اپنی بیوی کو سرخ گلاب دے کر اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں ۔ ہمارے استاد محترم صحیح فرمایا کرتے تھے اس قوم کو جسمانی طور پر انگریزوں اور ہندوو¿ں سے آزادی تو مل گئی ہے لیکن ہم ابھی دماغی طور پر ان کے غلام ہیں اور شاید ہماری کئی نسلیں ان کی غلامی میں ہی مریں ۔ ان کا کہا آج یاد آتا ہے تو اپنی غلامی پر آنسو بہتے ہیں۔
دشمنان اسلام و پاکستان کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے( بلکہ ہم کو وہ ہم سے زیادہ جانتے ہیں )کہ جب تک مسلمان قرآن وسنت کو پکڑیں رکھیں گے اور اس پر عمل پیرا رہیں گے تب تک ان کو شکست دینا ناممکن ہے اس لئے کفارنے مسلمانوں کے ساتھ محاذ آرائی میں تبدیلی پیدا کرلی ہے ۔ انہیں معلوم ہو چکا ہے کہ اسلحے کے ساتھ ایک مسلم ملک کی ہم اینٹ سے اینٹ تو بجا سکتے ہیں لیکن یہ عمل مسلمانو ں کو اسلام کے اور زیادہ قریب کرتا ہے اور مسلمان متحد بھی ہوسکتے ہیں اس لئے کفار نے روایتی جنگ کے ساتھ ساتھ ہم پر ثقافتی جنگ بھی مسلط کر دی ہے تاکہ اپنے مذموم مقاصد میں کامیابی کے لئے مسلمانوں کی اخلاقی ومذہبی حالت کمزور کر کے پوری دنیا پر غلبہ حاصل کیا جاسکے ۔ مسلمان وہ واحد قوم ہے جو ان کے مقاصد کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہو سکتی ہے ۔کفار نے روایتی جنگ کے ساتھ ساتھ ثقافتی جنگ پر اربوں ڈالر اور ساتھ میں اپنے بہترین دماغ اس فورم پر لگادیئے ہیں اور ساتھ میں جدید ذرائع ابلاغ مثلاََ انٹرنیٹ ،کیبل اور سیٹلائٹ چینلز کے ذریعے اپنی مادر پدر آزاد ثقافت ،مذہبی روایات اور عبادات کو زیب وزینت کا لبادہ اوڑھا کر اسلامی معاشرے میں داخل کردیاجس سے مسلم معاشرے میں عریانیت کا ایک طوفان برپا ہو گیا رہی سہی کسر ہمارے اپنے چینلز نے اپنی ریٹنگ بڑھانے کے چکروں میں ان کے پروگرام چلا کر پوری کردی ۔تجارتی کمپنیوں نے اپنا منافع بنانے کے چکروں میں ان تہوارو ں کی مناسبت سے اشتہارات کی بھرمار کردی اور ویلنٹائن ڈے کو یوم محبت کے نام سے فروغ دیا گیا ۔نوجوانوں کو یہ پیغام دیا گیا کہ وہ اس دن اُس ہستی کو سرخ گلاب ،کارڈ یا پھر کوئی تحفہ دیں جس سے وہ محبت کرتے ہیں چاہے وہ کوئی بھی ہو۔
valentines-day-22236715-1280-1024جنسی بے راہ روی کا شکار مسلم لڑکے، لڑکیاں اور مرد وخواتین اس تہوار کو مناتے ہوئے اپنی ذات کو، اپنی اوقات کو اور اپنے اسلامی تشخص کو یکسر بھول جاتے ہیں اور یہ فراموش کردیتے ہیں کہ وہ کس نبی ﷺ کی امت میں سے ہیں اور بحیثیت مسلمان اس طرح کے تہوار منانا کسی بھی طور پر کسی کلمہ گو مسلمان کو زیب نہیں دیتا ۔ دین اسلام ایثار ،امن و آشتی اور محبت و اخلاس کا بھی درس دیتا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ اسلام نے اخلاقی قواعد و ضوابط بھی وضع کر دیئے ہیں جنکی حدود میں رہتے ہوئے زندگی گزارنے کا حکم دیا گیا ہے ۔غیر محرم مردوعورت کے اختلاط کی ممانعت کی گئی ہے کہ یہ ایک بہت بڑے فتنے کو جنم دیتا ہے ۔ ہم کواللہ نے دو تہواروں کی خوشیاں فراہم کی ہیں لیکن ان میں بھی ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ فسق وفجور سے اجتناب کرتے ہوئے شرعی حدود میں اللہ کی خوشنودی و رضا کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان کو منائیں ۔
اسلام ایک دین فطرت ہے اور وہ کسی طور پر بھی یہ حکم نہیں دیتا کہ تم کسی کی عزت سے کھیلو چاہے وہ کوئی غیرمسلم ہی کیوں نہ ہو ۔ ہم یہ تو چاہتے ہیں کہ ہماری مائیں بہنیں اور بیویاں پاک صاف ہوں لیکن ہم دوسروں کی عزتوں کو نیلام کرتے ہیں بلکہ ویلنٹائن ڈے پر تو باقاعدہ مقابلہ بازی ہوتی ہے ۔ آ پ اس تہوار کو کوئی بھی نام دے لیں یہ رہے گا غیر اسلامی ہی تہوار کیوںکہ بطور مسلمان ہم سب کا عقیدہ ہے دین اسلام مکمل ہوچکا ہے اور اس میں ہم میں سے کوئی بھی نہ زیادتی کرسکتا ہے اور نہ ہی کمی ۔ اللہ کے نبی ﷺ کافرمان ہے جی ہاں یہ وہ ہی محمد ﷺبن عبداللہ ہیں کہ جن کا نام سنتے ہیں ہم میں سے اکثر وبیشتر کی آنکھیں چھلک پڑتی ہیں اور رورو کر دعائیں کرتے ہیں کہ یا اللہ ایک دفعہ صرف ایک دفعہ مکہ ومدینہ دکھا دے ان کا فرمان ہے کہ” جب تم میں حیاءنہ رہے تو جو چاہو وہ کرو“(سنن ابی داو¿د) ۔ اس حدیث کو سامنے رکھتے ہوئے آئیے اپنا ہم سب محاسبہ کرتے ہیں کہ کہیں ہم بے حیاءتو نہیں بن گئے ۔ اور اسی طرح ایک اور حدیث نبوی ﷺ ہے کہ جس نے جس قوم سے متشابہت اختیار کی وہ انہی میں سے ہو گا ۔ کوئی بھی تہوار یا کچھ بھی کرنے سے پہلے لازمی دیکھیں کہ اللہ اور اللہ کا نبی ﷺ اسکے متعلق کیا حکم دیتا ہے تاکہ ہم نام نہاد مسلمان بننے کی بجائے ایک پکے سچے مسلمان بن سکیں اور قیامت کے دن ہمیں اپنے نبی ±ﷺکے سامنے شرمسار نہ ہونا پڑیں ۔
یہود ونصارٰی کے تہوار وغیرہ کی بنیاد شرک وبدعات پر ہوتی ہے لہذا ہمیں ان سے بچنا چاہئیے اور جو منانا چاہے وہ شوق سے منائیں لیکن پھر اپنے آپ کوعاشق رسول ﷺ جیسے القابت سے نوازنا چھوڑ دیں کیونکہ اسی کے راستے پر چلا جاتا ہے جس سے ہم کو محبت ہوتی ہے ۔
اخیر پر قرآن مجید کی ایک آیت کاترجمہ پیش کرکے اجازت چاہتا ہوں ”جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں فحش پھیلے وہ دنیا اور آخرت میں دردناک سزا کے مستحق ہیں، اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے“ سورة النور آیت نمبر 19
muhammad.atiq0300@gmail.com

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

شیریں جناح کالونی دھماکے میں ایک کلو بارود استعمال ہوا

کراچی، شیریں جناح کالونی بم دھماکے کے حوالے سے سی تی ڈی انچارج راجہ عمرخطاب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا...

سندھ پولیس اچھا کرے یا برا، صوبائی حکومت ذمہ دار ہے، گورنر

کراچی، گورنر سندھ عمران اسماعیل نے پولیس افسران کی چھٹیوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا سندھ پولیس اچھا کرے یا...

بچوں سے زیادتی، زیڈ ٹی کا ہدایت کارعظیم احمد سے معاہدہ

کراچی ، سائن انٹر ٹیمنٹ اور زیڈ ۔ٹی (کامران شریف)کا اپنی نئی ڈرامہ سیریلز ،سٹ کام ، ٹیلی فلمز کے لےے ڈرامہ...

سندھ حکومت کا پولیس افسران کی چھٹیاں منظور نہ کرنے کا فیصلہ

کراچی، سندھ حکومت نے پولیس افسران کی چھٹیاں منظور نہ کرنے کا فیصلہ، صوبائی حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کسی...