وٹامن ”سی“ اور بیماریاں (ڈاکٹر سیدہ صدف اکبر)

sadafانسانی جسم کو اپنی بقا اور صحت مند حالت میں رہنے کے لئے مختلف پروٹین، چکنائیوں، کاربو ہائیڈریٹس، پانی اور نمکیات وغیرہ کے ساتھ ساتھ مختلف وٹامنز کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ جن میں وٹامن سی بھی بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ وٹامن سی پانی میں حل پذیر وٹامن ہے اور اسےAscorbic Acid بھی کہا جاتا ہے۔ یہ عموماََ تازہ سبزیوں اور ترش پھلوں میں وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے ۔ وٹامن سی خون کی نالیوں کی دیواروں کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ ہڈیوں کی نشوونما میں مدد کرتا ہے ۔ بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت پید ا کرتا ہے اور جسم میں اینٹی آکسیڈنٹ کے طور پر کام کرتا ہے ۔ اس وٹامن کی کمی انسانی جسم میں مختلف بیماریوں کو جنم دینے کا باعث بن سکتی ہے ۔ وٹامن سی کی کمی کی وجہ سے خون کی رگیں کمزور ہو جاتی ہیں اور جلد پر آنکھوں کے نیچے سیاہ اور نیلے رنگوں کے نشانات یا دھبے واضح ہو جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ وٹامن سی کی کمی کے باعث مختلف ہارمونز اور انزائمز بھی اپنا کام ٹھیک طریقے سے انجام نہیں دے پاتے ہیں ۔جس کی وجہ سے جسم کا مدافعاتی نظام بھی متاثر ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ وٹامن سی انسانی جسم میں بالوں ، ناخنوں اور جلد کی نشوونما میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ہڈیوں اور دانتوں کو بھی مضبوط اور صحت مند بناتے ہیں۔
vitamin cوٹامن سی خلیات کو جسم میں گردش کرنے والے مضر اجزاءسے بھی تحفظ فراہم کرتے ہیں ۔ یہ مضر اجزاءجنہیں فری ریڈیکلز کہتے ہیں ، کینسر اور امراض قلب کا باعث بھی بن سکتے ہیں ۔ ایک تحقیق کے مطابق وٹامن سی آنتوں کے کینسر کے خطرہ کو بھی کم کرتا ہے ۔ نیو یارک یونیورسٹی آف میڈیسن کے پروفیسروں کی تحقیق کے مطابق بون میرو میں موجود بیمار خلیات جن کے نتیجے میں جسم کے مختلف اعضاءمیں ٹیومر بن جاتے ہیں ، وٹامن سی ان خلیات کو قدرتی طور پر ختم کر سکتے ہیں ۔ ماہرین کے مطابق وٹامن سی کے انجکشن کو لیو کیمیا یا بلڈ کینسر کے علاج اور پھیلاﺅ کو روکنے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ اس کے علاوہ وٹامن سی ذیابیطیس کے علاج ، بلند فشار خون ، دل کی مختلف بیماریوں ، کینسر ، ایچ آئی وی ، مردوں میں بانجھ پن کے ساتھ ساتھ منشیات اور الکوحل کی طلب کو بھی کنٹرول کرتا ہے ۔فرانس میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق وٹامن سی فالج کے مریضوں کے لئے بے حد فائدہ مند ہے اور یہ بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھتا ہے۔
انسانی جسم وٹامن سی نہیں بناتا ہے لہٰذا بعض حالات میں اس کی کمی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں جسے پورا کرنے کے لئے وٹامن سی سے بھرپور غذاﺅں کے استعمال کا سہارا لیاجاتا ہے ۔ کیونکہ اس کی کمی سے اکثر اوقات بہت زیادہ پیچیدہ صورتحال بھی پیدا ہوسکتی ہے ۔ جسم میں وٹامن سی کی کمی سے مسوڑھے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور ان سے خون رسنے لگتا ہے ۔ وٹامن سی کی کمی کی وجہ سے ، جو کہ زخم بھرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مسوڑھے فوری طورپر تندرست حالت میں واپس نہیں آتے ہیں۔
وٹامن سی کے حامل پھلوں اور سبزیوں میں مسوڑھوں کو سوجن سے بچانے کے لئے اینٹی آکسیڈنٹ موجود ہوتے ہیں جبکہ وٹامن سی کو لیگن (Collagen) کی پیداوار کو بھی بڑھاتے ہیں، جو زخم کے اوپر بننے والے ٹشوز کو مضبوط کرتے ہیں جبکہ وٹامن سی کی کمی اس کولیگن کے عمل کو سست کردیتا ہے ۔ اس کے علاوہ کولیگن جوڑوں کی کرکری ہڈیوں کی تشکیل بھی کرتا ہے اور جسم میں وٹامن سی کی کمی کے باعث جب کولیگن کی پیداور کم ہو جاتی ہے تو جوڑوں میں تکلیف کا احساس شروع ہو جاتا ہے جبکہ سوجن بھی نمایاں ہونے لگتی ہے ۔کولیگن جلد کو چمکدار اور ہموار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے اور وٹامن سی کی کمی کے باعث کولیگن کی پیداور یت کم ہونے کے باعث جلد میں جلدی جھریاں پڑنی شروع ہو جاتی ہے۔
وٹامن سی سبزیوں سے حاصل ہونے والی آئرن کو جسم میں جذب ہونے میں مدد کرتا ہے اور جب اس کی کمی ہو جاتی ہے تو انسانی جسم میں آئرن ٹھیک طریقے سے جذ ب نہیں ہو پاتا ہے اور پھر وٹامن سی کی کمی انسانی جسم میں خون کی کمی یعنی انیمیا (Anaemia) کا باعث بھی بنتی ہے ۔ اس کے علاوہ وٹا من سی کی کمی جسمانی وزن میں بھی اضافے کا باعث بنتی ہے ۔ اس وٹامن کی کمی کے باعث جسمانی توانائی متاثر ہوتی ہے جس سے میٹا بولزم درست طریقے سے اپنے افعال سرانجام نہیں دے پاتے ہیں اور اس کی رفتار سست ہو جاتی ہے۔
جس کے باعث انسان موٹاپے کا شکار ہو جاتاہے اور اس کے ساتھ ساتھ مزاج میں چڑچڑ ا ہٹ اور ہر وقت تھکاوٹ اور بیزاری کی سی کیفیت بھی وٹامن سی کی کمی کی طرف نشاندہی کرتی ہے ۔اس کے علاوہ وٹامن سی انسانی جسم میں خون کے سفید خلیات (White Blood Cells) کی پیداوار کو بڑھاتے ہیں جو جسم میں دفاعی مکینکزم کے طور پر عمل کرتے ہیں ۔ مگر وٹامن سی کی کمی کے باعث جب سفید خلیات کی کمی ہو جاتی ہے تو جسم کا دفاعی نظام بھی کمزور ہو جاتا ہے اور پھر مختلف بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں ۔ایک تحقیق کے مطابق وٹامن سی کی کمی سے بلغمی جھلی کی بیماری بھی ہو جاتی ہے ۔ جس کے باعث مریض کے مسوڑھوں سے خون آتا ہے اور جلد پر خون کے دھبے پڑجاتے ہیں۔
اس دوران جوڑوں میں بھی درد ہوتا ہے اس بیماری سے بچنے کے لئے زیادہ سے زیادہ ایسی خوراک استعمال کی جائیں جن میں وٹامن سی کی وافر مقدار موجود ہو۔ امریکا کی پینسلوانیا یونیورسٹی کے ایک تحقیق کے مطابق سردیوں کے موسم میں وٹامن سی کا کثرت سے استعمال موسم سرما کی مختلف بیماریوں اور اس کے موسم کے اثرات سے بچاتا ہے ۔لہذا اس موسم میں وٹامن سی کے حامل پھلوں جن میں مالٹے ، کینو، کیوی وغیرہ شامل ہیں ۔ ان کا استعمال بڑھا دینا چاہیے ۔ یہ پھل قوت مدافعت کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ جلد کو بھی خشکی سے محفوظ رکھتے ہیں ۔ ماہرین صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق موسم سرما میں وٹامن سی اوربی پر مشتمل ہرے پتوں والی سبزیوں کا استعمال سردی سے ہونے والی انفیکشن کے خطرات کو کم کرنے میں بھی مدد کرتاہے۔
شملہ مرچ، پھول گوبھی ، ساگ وغیرہ میں وٹامن سی وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے جو سرد موسم میں کھانسی اور زکام کی شدت کو کم کرنے میں مدد کرتے ہیں ۔ مختلف طبی مشاہدات کے مطابق روزانہ صرف ایک سے آٹھ گرام وٹامن سی کے استعمال سے موسم سرما میں نزلے ، زکام اور کھانسی سے محفوظ رہا جاسکتا ہے ۔ مالٹا جو کہ سردیوں کا ایک خاص پھل ہے اس میں فلیونائیڈموجود ہوتا ہے جو جسم کے مدافتی نظام کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ خون کی نالیوں کو بھی مضبوط بناتاہے۔
وٹامن سی کی زیادتی بھی صحت پر مضر اثرات مرتب کرتی ہے اور اس کی زیادتی سے عام طورپر تھکاوٹ ، متلی اور بے خوابی کی شکایت کے ساتھ ساتھ سستی ، غنودگی کی سی کیفیت بھی طاری رہتی ہے۔ جس کے باعث مریض کی قوت ارادی اور ملنے جلنے یا سوشل لائف پر بھی برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ وٹامن سی کی زیادتی جسم میں فولاد کو جذب ہونے کی حد کو بڑھادیتے ہیں جس کی وجہ سے آئرن پوائزنگ کی شکایت بھی ہو جاتی ہے ۔ ایک تحقیق کے مطابق وٹامن سی کی زیادتی سے گردوں میں پتھری ہونے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top