Sunday, November 29, 2020
- Advertisment -

مقبول ترین

پلاسٹک آلودگی ( کرن اسلم)

اگر آپ اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو آپ کو کسی نہ کسی صورت میں پلاسٹک کی اشیا ضرور ملیں گی۔ مثال کے طور...

بہادرآباد، ڈکیتی کی بڑی واردات،شہری40 لاکھ روپے سے محروم

بہادرآباد میں ڈکیتی کی بڑی واردات، شہری 40 لاکھ روپے سے محروم، ذرائع کے مطابق بہادرآباد شاہ...

میئر کراچی کے پاس اختیارات نہیں تھے، گورنر سندھ

گورنر سندھ عمران اسماعیل نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کا یہ پیغام...

اسٹیل مل کی نجکاری، ملازمین کو معاوضہ کی ادائیگی کا اعلان

حکومت نے اسٹیل مل کی نجکاری کا اعلان کردیا، وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے...

جج صاحبہ تکلیف میں ہوں، مجھے ضمانت پر رہا کریں، وسیم اخترکی عدالت میں دہائی

waseem akhter 2کراچی، انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت میں 12 مئی سے متعلق 4 مقدمات میں میئر وسیم اختر کی درخواست ضمانت کی سماعت ہوئی، سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے مقدمے کا چالان جمع کرانے کیلئے 10 روز مانگ لیے جس پر وسیم اختر نے عدالت کے روبرو کہا کہ وہ کراچی کے میئر ہیں اور انہیں اس شہر کے لیے کام کرنا ہے، آپ ان کو20 دن دے دیں لیکن ان کی ضمانت کی درخواست منظور کریں، عدالت نے ریمارکس دیئےکہ آپ کے بتانے سے کچھ نہیں ہوگا ہمیں معلوم ہے کہ آپ میئر ہیں،ہمارے  پاس آپ کے ٹی وی شو کا ریکارڈ آگیاہے، آپ جیل میں بیٹھ کرکام کریں۔
اس دوران وسیم اختر نے موقف اختیار کیا کہ پولیس کی سست روی کی وجہ سے تین مہینے سے جیل میں بند ہوں کسی مقدمے میں میرا نام نہیں لیکن عدالت ٹالے جارہی ہے، میرے خلاف جھوٹ پر مبنی مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ پولیس نے جس کو چشم دید گواہ بنایا ہے اسے جھوٹی قسم کھانے اور گواہی دینے پر گرفتار کیا جائے۔ جج صاحبہ میں تکلیف میں ہوں، ضمانت پر رہا کردیں مجھے کراچی کے لیے کام کرنا ہے۔
وسیم اختر سے مکالمے کے دوران فاضل جج صاحبہ نے کہا کہ وہ جذباتی مت ہوں ہمیں پتہ ہے آپ میئر ہیں تفتشی افسر سے کیس فائل منگوالی ہے جب تک فائل پڑھ نہ لوں اور چالان نہ آجائے اس وقت تک ضمانت نہیں دے سکتی۔ کیس کی مزید سماعت 25 اکتوبر کو ہوگی۔
Open chat