Sunday, October 25, 2020
Home خصوصی رپورٹس نایاب مچھلیاں اور ان کی اقسام (عبدالرحمٰن عاجز)

نایاب مچھلیاں اور ان کی اقسام (عبدالرحمٰن عاجز)

1دنیامیں مچھلیوں کی کم و بیش 30 ہزار اقسام ہیں پائی جاتی ہے، ان میں سے سیکڑوں انتہائی حیران کن بھی ہیں۔ جیسا کہ اکتوبر 2016 میں کراچی کی سمندری حدود میں نایاب ترین وہیل مچھلی، جس کی 16 میٹر لمبائی جبکہ تقریبا 30 ہزار کلو گرام یعنی کہ 30 ٹن) وزن تھا، اس قسم کی 5 عدد مچھلیوں کو مقامی ماہی گیر نے اپنے موبائل فون کے کیمرے سے محفوظ کر لیا۔ پاکستان میں ورلڈ وائف فنڈ فار نیچر (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کے ٹیکنیکل ایڈوائزر میرین فشریز، محمد معظم خان نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ پاکستان میں اس نسل کی وہیل مچھلیوں کا دیکھا جانا خوش آئند ہے کیوں کہ اس قسم کی وہیل عام طور پر گہرے سمندر کے زیادہ گہرائی والے علاقوں میں پائی جاتی ہیں۔ ہزاروں اقسام کی مچھلیوں میں سے چند ایک جو زیادہ مشہور ہیں ان پر چیدہ چیدہ روشنی ڈالتے ہیں:
2
تھیلا:
اس کو چڑا بھی کہا جاتا ہے یہ میٹھے پانی کے تالابوں دریاں اور نہروں میں رہنا پسند کرتی ہے۔ پاکستان کے علاوہ یہ ایشائی ممالک میں بھی عام پائی جاتی ہے یہ ایک سبزی خور مچھلی ہے جو آبی کیڑے اور نباتات کو بطور خوراک استعمال کرتی ہے اس کا شکار بہت پر لطف ہے کانٹے میں پھنسنے کے بعد یہ بہت مزاحمت کرتی ہے اور گہرے پانی میں جانے کی کوشش کرتی ہے اس کا وزن 30 کلو تک ریکارڈ کیا جا چکا ہے اس کا گوشت اوسط درجے کا ہے۔ کانٹے زیادہ ہونے کی وجہ سے مارکیٹ میں کم قیمت پر مل جاتی ہے۔
گلفام:
یہ پاکستان میں اور دنیا کے کئی ممالک میں بہت عام ہے اس کا جسم لمبوترا اور مضبوط ہوتا ہے یہ بھی ایک سبزی خور مچھلی ہے جو کہ آبی کیڑے اور نباتات کھا کر گزارہ کرتی ہے۔ یہ مچھلی شکاری کو بڑی مشکل میں ڈال دیتی ہے کیونکہ اپنے مضبوط جسم کی وجہ سے کیچڑ وغیرہ میں سے اکثر جلد نکل جانے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔ اس کا وزن 40 کلو تک ریکارڈ کیا گیا ہے۔
3
رہو:
رہو تمام ایشائی ممالک میں عام پائی جاتی ہے ذائقے کے لحاظ سے بہت پسند کی جاتی ہے اس کی خوراک بھی آبی کیڑے اور نباتات ہے۔ بعض اوقات پانی کی سطح پر اچھل کر ڈوری پر دم مار کر منہ سے کانٹا نکال دیتی ہے اس کا شکار بہت مہارت کا کام ہے اس کا زیادہ سے زیادہ وزن کا ریکارڈ 45 کلو ہے۔
سانپ سری یا سنیک ہیڈ:
یہ بہت سے شکاریوں کی پسندیدہ مچھلی ہے پاکستان میں اس کو سول یا سولی کہا جاتا ہے انڈیا میں مرل یا مرلی کے نام سے پکارا جاتا ہے برصغیر کے علاوہ یہ مشرق بعید کے اکثر ممالک برما تھائی لینڈ فلپائین انڈونیشیا میں بھی کثرت سے پائی جاتی ہے جو کہ برصغیر میں پائی جانے والی سنیک ہیڈ سے تھوڑی مختلف ہوتی ہے۔ لیکن اس کا وزن 700 یا 800 گرام سے زیادہ نہیں ہوتا کھانے میں یہ بہت ہی لذیز اور قوت بخش ہے اس میں کانٹے بھی برائے نام ہوتے ہیں اس کا وزن 16 کلو تک ہو تا ہے۔
ٹرائوٹ مچھلی:
وادی کاغان میں جو ندی نالے پائے جاتے ہیں ان کی تہہ پتھریلی ہے اور پانی کا بہائو تیز ہے یہ ان علاقوں میں پائی جاتی ہیں ان مچھلیوں کی جسمانی ساخت اور فطرت ہی کچھ ایسی ہے کہ یہ پانی کی مخالف سمت میں بڑی تیزی سے تیر سکتی ہیں۔ یہ مچھلی تقریباً 10 سے 16 انچ لمبی ہوتی منہ میں تیز دانت ہوتے ہیں جن کی مدد سے یہ دوسری مچھلیوں کے علاوہ چھوٹی ٹرائوٹ مچھلیوں کو بھی ہڑپ کر جاتی ہے۔ اس کے جسم میں کانٹے بہت کم ہوتے ہیں۔ ذائقہ نہایت ہی لذیذ ہوتا ہے۔
4
سنگھاڑہ یا سنگھاڑی:
کیٹ فش کے خاندان میں یہ سب سے نفیس مچھلی ہے۔ اس کی ہڈی سخت ہوتی ہے۔ منہ کے اگلے سرے پر مونچھیں ہوتی ہیں۔ یہ گوشت خور مچھلی ہے اس کی خوراک میں چھوٹی مچھلیاں اور دیگر آبی جانور شامل ہیں اس کا گوشت ہلکا ذردی مائل رنگ کا ہوتا ہے ذائقے کے لحاظ سے بہت پسند کی جاتی ہے اور کافی مہنگے داموں فروخت ہوتی ہے اس کا عام وزن 12 کلو تک دیکھا گیا ہے۔
گونچ یا سندھی کھگہ:
کیٹ فش کے خاندان کی یہ ایک بے ڈھنگی شکل کی مچھلی ہے اس کا شمار تازہ پانی کی سب سے زیادہ وزن والی مچھلیوں میں ہوتا ہے اس کا وزن 80 کلو تک ہو جاتا ہے عادتا بہت خونخوار ہوتی ہے اس کا منہ چوڑائی میں بہت زیادہ ہونٹ موٹے موٹے اور سخت ہوتے ہیں جن میں اوپر اور نیچے کی طرف نوکدار دانت ہوتے ہیں۔ اس کا شمار بھی گوشت خور مچھلیوں میں ہوتا ہے اس کا وزن دوسری مچھلیوں کی نسبت تیزی سے بڑھتا ہے۔
اسی وجہ سے یہ بہت سست ہوتی ہے کانٹے میں پھنسنے کے بعد یہ پانی کی تہہ میں بیٹھ جاتی ہے اسی وجہ سے وزنی ہونے کے باوجود اسے پانی سے باہر نکالنے میں مشکل پیش نہیں آتی اس میں دیگر مچھلیوں کی طرح کانٹے نہ ہونے کے برابر ہیں درمیان میں جانوروں کی طرح ہڈی ہوتی ہے ذائقے میں کچھ خاص نہیں ہوتی البتہ اس کا شوربہ اچھا بنتا ہے۔ انڈیا میں اکثر ایسے واقعات سننے میں آئے ہیں کہ اس مچھلی نے چھوٹے جانوروں اور بچوں پر حملہ کیا اور بعض اوقات انہیں گھسیٹ کر پانی میں بھی لے گئی۔
5
(Wallago Attu)ملی:
ملی کیٹ فش خاندان کی سب سے زیادہ خونخوار مچھلی ہے یہ ہر چیز ہڑپ کر جاتی ہے۔ اس کا منہ چوڑائی میں زیادہ بالائی اور زیریں ہونٹ سخت اور ان میں سوئی کی طرح باریک اور نوکدار کانٹے ہوتے ہیں جو شکار کو گرفت میں لینے اور اسے چیرنے پھاڑنے میں مددگار ہوتے ہیں اس کا جسم چپٹا گہرائی میں زیادہ اور رنگت سیاہی مائل سرمئی ہوتی ہے زیریں حصے میں دم تک جھالر نما پنکھ ہوتا ہے جو اس کو تیزی سے حرکت کرنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ 40 کلو تک عام پائی جاتی تھی مگر اب اتنے وزن والی بمشکل ملتی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

علی عمران کی گمشدگی، وزیراعظم کی ہدایت پر کمیٹی قائم

کراچی، وزیراعظم عمران خان نے جیو نیوز کے رپورٹر علی عمران سید کے لاپتہ ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے جوائنٹ فیکٹ...

قائد اعظم ٹرافی ، 24 اکتوبر سے شروع ہوگی

کراچی، 24 اکتوبر سے قائد اعظم ٹرافی کا میلہ سجے گا۔ پی سی بی ذرائع کے مطابق قائد اعظم ٹرافی کی...

سندھ حکومت علی عمران کے لاپتہ ہونے کی تحقیقات کرے، فواد چوہدری

کراچی، وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے جیو نیوز کے رپورٹر علی عمران کے لاپتہ ہونے کی تحقیقات کےلئے سندھ...

جلد آٹا کی قیمت نیچے آجائیگی، کمشنر کراچی

کراچی، شہر کے انفرااسٹرکچر کی بہتری کے لئے بہت کام شروع ہوجائے گا، ان خیالات اظہار کمشنر کراچی سہیل راجپوت نے میڈیا...