Wednesday, November 25, 2020
- Advertisment -

مقبول ترین

اے ایس آئی محمد بخش کا ٹریننگ سینٹر کراچی میں تبادلہ

کشمور زیادتی کے ملزمان گرفتار کرنے والے سندھ پولیس کے بہادر افسر محمد بخش کا کراچی میں پولیس...

رینجرز اینٹی ٹیررسٹ ونگ میں تقریب

رینجرز اینٹی ٹیررسٹ ونگ میں تقریب، مختلف کارروائیوں میں برآمد کیا گیا سامان کی اصل مالکان کے...

واٹربورڈ ان ایکشن،نادہندگان کے پانی کے کنکشن منقطع

واٹربورڈ کا نادہندگان کے خلاف گرینڈ آپریشن تیز، واجبات ادا نہ کرنےوالے سیکڑوں صارفین کے پانی کے...

بختاور کی منگنی کی تقریب جمعہ کو بلاول ہاوس میں ہوگی

بختاور بھٹو زرداری کی منگنی کی تقریب جمعہ کو بلاول ہائوس کلفٹن کے اوپن ایریا میں ہوگی، بختاور...

حکومت تاحال وال چاکنگ ختم نہ کرواسکی (محمد نعیم)

khi wallگزشتہ برس فروری میں  سندھ اسمبلی نے وال چاکنگ کے خلاف قانون منظور کیا، جس کے تحت خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے  کم سے کم چھ ماہ قید اور پانچ ہزار جرمانہ کی سزاکا قانون پاس کیا گیا۔

اس قانون کے مطابق سندھ کے شہری اور دیہی علاقوں کی نجی اور سرکاری عمارتوں، دیواروں اور کھمبوں پر مالکان یا متعلقہ حکام کی مرضی کے بغیر کسی بھی قسم کی چاکنگ کرنا اور پوسٹر لگانا جرم اور اس کی صفائی پر آنے والے اخراجات بھی ملزمان سے وصول کرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔

مگر ایک سال گزر جانے کے باوجود یہ قانون صرف سرکاری کاغذات میں ہی رہا۔ عملی طور یہ کہیں بھی نافذ العمل نہیں ہوا۔  جعلی پیر،جادوگر،پراپرٹی اور صحت کے نام لوگوں کے جان و مال سے کھیلنے والے حکیم اور اسٹیٹ ایجنٹ وال چاکنگ کے ذریعے خوشنما جملوں اور نعروں کے ساتھ لوگوں کو اپنی جانب راغب کرتے رہے ۔ سیاسی و فرقہ وارانہ جملے اور نعرے اس کے علاوہ ہیں۔

کوئی بھی عمارت، سڑک ، پل وال چاکنگ  سے بچ نہیں پایا۔  پھر رواں سال مارچ کے آغاز سے ’’صاف سرسبز سندھ، پرامن سندھ‘‘  مہم کا آغاز ہوا اورتین مارچ کو  سندھ کے وزیر اطلاعات و بلدیات کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ’’صاف سرسبز سندھ، پرامن سندھ‘‘ مہم کے تحت  کراچی بھر میں وال چاکنگ پر فوری پابندی عائد کرنے، تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں، کمرشل ادارے، نجی کمپنیاں اور حکیم اپنی وال چاکنگ کو ازخود 24 گھنٹوں کے اندر اندر صاف کرنے اور اس کے بعد تمام کمرشل کمپنیوں، حکیم اور نجی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج کرانے کا فیصلہ کیا گیا ۔
اس اجلاس میں تمام فلاہی اداروں کوبھی متنبہ کیا گیا  کہ وہ کسی قسم کی وال چاکنگ نہیں کرسکیں گے۔ تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کوبھی  اپنی وال چاکنگ بالخصوص پولز اور دیگر عمارتوں پر لگائے گئے پارٹی پرچموں کو ہٹانے کا کہا گیا۔ اور تمام  ڈی ایم سیز کے افسران کو ہدایات دیں گئیں کہ  تمام پولز کو پرچموں اور اشتہارات سے پاک کرکے ان پر رنگ کروایا جائے اور شہر کی خوبصورتی کو زیادہ سے زیادہ بہتر بنایا جائے۔
khi wall2مگر حکومت سندھ، وزیر بلدیات اور کراچی انتظامیہ کے تمام تردعوؤں کے باوجود کراچی کے کسی علاقے سے وال چاکنگ ختم نہ ہوسکی ۔ روزنامہ جنگ نے منگل کو شایع ہونے والے اپنی ایک رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ معروف شاہراہوں پر فلائی اوورز اور اطراف کی دیواروں پر سیاسی جماعتوں ، مذہبی تنظیموں ، تجارتی کمپنیوں اور دیگر اشیاء کی تشہیر پر مشتمل وال چاکنگ موجود ہے شاہراہ فیصل جس پر وی آئی پیز کا سب سے زیادہ گزر ہوتا ہے اس پر بھی وال چاکنگ کا خاتمہ نہیں کیا جاسکا اسٹار گیٹ کے قریب قبرستان کی دیوار پر کمشنر کراچی کی جانب سے وال چاکنگ کے خاتمے کے لیے بینر لگاہوا ہے جبکہ جناح برج سے لے کر ناتھا خان پل تک اطراف کی دیواروں اور پلوں کی دیواروں اور پلرز پر سب سےز یادہ چاکنگ نظرآتی ہے صفائی مہم کے دوران وزیربلدیات شرجیل انعام میمن نے بھی وال چاکنگ کے خاتمے کا آغاز کیا تھا لیکن شہر کے کسی علاقے سے ڈپٹی کمشنرز، پولیس، ڈی ایم سیز اور کے ایم سیز نے وال چاکنگ کے خاتمے کے لیے اقدامات نہیں کئے اس سلسلے مین ڈویژنل کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس کمشنر کراچی شعیب صدیقی کی زیرصدارت ایک ہفتہ قبل ہوا تھا جس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ شہر سے ہر قسم کی وال چاکنگ مٹائی جائے گی پولیس، انتظامیہ اور بلدیاتی ادارے مشترکہ لائحہ عمل کے ساتھ کام کریں گے جن میں ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر بھی شامل ہوں گے اور جن افسران کی حدود میں وال چاکنگ ہوئی ان کے خلاف کارروائی ہوگی شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک ہفتہ گزر گیا وال چاکنگ مٹائی گئی نہ کسی افسر کے خلاف اس بنا پر کارروائی کی گئی واضح رہے کہ شہر کے سنجیدہ طبقے کو اکثر یہ کہتے ہوئے سنا جاتا ہے کہ وزیربلدیات اور کمشنر کراچی کی زیرصدارت ،شہری مسائل کے حوالے سے جتنے بھی اجلاس ہوتے ہیں بالعموم ان پر عملدرآمد نہیں ہوتا رکاوٹ بننے والی بیوروکریسی کے خلاف اگر کارروائی ہوتو لوگوں کو بیشتر مسائل سے نجات مل جائے اس وقت شہری سہولتوں کی فراہمی بلدیاتی اداروں کی ذمہ داری ہے لیکن بعض امور میں کمشنر، ڈپٹی کمشنر اوراسسٹنٹ کمشنرز کو بھی ذمہ دار بنانے سے بیشتر امور ٹھپ ہوکررہ گئے ہیں

Open chat