سترہ سالہ جنگ میں کون تھکا؟ (حافظ عاکف سعید)

warامریکی صدر ڈنلڈ ٹرمپ کا حالیہ بیان سامنے آیا ہے کہ افغانستان میں سترہ سالہ جنگ میں امریکہ بھی تھک گیا ہے اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ افغان طالبان بھی تھک گئے ہیں۔ پہلی بات تو درست ہے البتہ دوسری بات اس کی غلط فہمی پر مبنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کا جانی و مالی نقصان ناقابل برداشت ہو چکا ہے۔ افغان طالبان تھکے نہیں ہیں۔ ان کی جنگ خالصتاً اعلاءکلمة اللہ کے لیے ہے۔ مسلمانوں کے لیے حکم یہ ہے کہ تم باطل قوتوں سے جنگ کرتے رہو جب تک فتنہ و فساد ختم نہیں ہوجاتا اور کل روئے ارضی پر اللہ کا دین قائم نہیں ہوجاتا۔ یہ مضمون قرآن میں دو مقامات پر آیا ہے۔ افغان طالبان تو اس حکم پر چل رہے ہیں۔ وہ نہیں تھکے بلکہ قیامت تک کے لیے تیار ہیں۔ نہتے اور ٹیکنالوجی سے محروم ہونے اور چند ہزار کی قلیل تعداد ہونے کے باوجود ان کی قوت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ان کی فتوحات کا معاملہ مسلسل آگے سے آگے جارہا ہے۔ ساری دنیا کے لیے یہ بہت بڑا سوال ہے کہ ہماری ساری ٹیکنالوجی اور جدید ترین ہتھیار اور ساری دنیا کی قوت ساتھ افغانستان کا ایک چھوٹا سا گروپ کے سامنے امریکا جو اس وقت دنیا کی سپر طاقت ان سے ہاتھ چھڑانا چاہتا ہے؟ وہ کہتے ہیں کہ ہم عبد الغنی کی کوئی حیثیت نہیں، ہم اس سے کیوں مذاکرات کریں۔
اصل معاملہ تو امریکہ کا ہے۔ اگر اسے مذاکرات کرنا ہے تو براہ راست ہم سے کرے۔ آج تک یہ کہا جارہا تھا کہ پاکستان کے ذریعے طالبان پر دباﺅ ڈالا جارہا ہے کہ انہیںمذاکرات پر آمادہ کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اب خودمذاکرات کے لیے آمادہ ہوچکا ہے۔ وہ کون سی قوت اسے اس پر آمادہ کیا ہے؟ یہ بہت بڑا سوال ہے۔ جواب بہت واضح ہے مگر ہم اس کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ امریکہ کا بے پناہ جانی و مالی نقصان ہوچکا ہے۔ ساڑھے سات لاکھ فوجی نفسیاتی امراض کا شکار ہیں۔ افواج میں خودکشی کا گراف بھی بہت بڑھ چکا ہے۔ امریکہ کے تیار کردہ افغان فوج کے 45000 جوان ہلاک ہوچکے ہیں۔ امریکہ نے اس فوج کو تیار کرکے اسے سارے ہتھیار دے دیے۔ جہاں بھی طالبان کو کامیابی ہوتی ہے وہاں انہیں بے شمار اسلحے ہاتھ آتے ہیں۔ لہٰذا ان کی قوت بڑھ رہی ہے لیکن اصل کامیابی اللہ کی مدد کی بناءپر ہے۔ بھارت نے وہاں فوجی شمولیت سے انکار کردیا ہے۔ حاصل کلام یہ کہ افغان طالبان کا مورال بہت بلند ہے۔
اشرف غنی کا پاکستان مخالف ایک مضحکہ خیز ٹویٹ آیا تھا کہ پاکستان کے سیکورٹی ادارے بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے عوام کے حقوق تلف کررہے ہیں۔ ایسا ملک جو ہر وقت دھماکوں کی زد میں رہتا ہے اور جس کی حکومت کی رٹ انتہائی محدود ہوکر رہ گئی ہے، یہ ٹوئٹ اس کٹھ پتلی حکومت کی پریشانی ظاہر کرتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اللہ کی مدد اگر مسلمانوں کے ساتھ ہو تو اللہ نے فرمایا ہے کہ اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں ہوسکتا۔ امریکہ ٹیکنالوجی کے جس مقام پر پہنچ چکا ہے اور اس پر مستزاد ساری دنیا اس کے ساتھ تھی، موجودہ صورتحال کا کوئی تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اللہ نے یہ بھی فرمادیا ہے کہ اگر تم اللہ سے بے وفائی کرو یعنی مسلمان ہوتے ہوئے اللہ کے دین کو قائم اور نافذنہ کرو تو کون ہے جو اس کے بعد تمہاری مدد کرسکتا ہے۔ ہم نے بھی آدھا ملک گنوادیا ہے اور ہر وقت مختلف بحرانوں میں مبتلا رہتے ہیں۔ معاشی طور پر ہم آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے غلام ہیں۔ ہماری پالیسیاں وہ بناتی ہیں۔ پوری قوم گروی رکھی جاچکی ہے جو اللہ کے عذاب کی ایک صورت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اللہ اور اس کے دین سے بیوفائی کررکھی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی ایمان نصیب کرے اور دین کے تقاضوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا ب العالمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top