Tuesday, October 20, 2020
Home خصوصی رپورٹس کیا کراچی ناقابل رہائش شہر ہے؟ (کاشف حسین)

کیا کراچی ناقابل رہائش شہر ہے؟ (کاشف حسین)

karachi tourعالمی بینک نے کراچی کو درپیش سنگین چیلنجز کی نشاندہی کرتے ہوئے اسے دنیا کے 10 ناقابل رہائش شہروں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔ ورلڈ بینک کی کراچی میں جاری کردہ پاکستان ڈیولپمنٹ اپ ڈیٹ رپورٹ میں ’’کراچی سٹی ڈائیگناسٹک‘‘ کے عنوان سے خصوصی تجزیے میں کہا گیا ہے کہ کراچی میں آبادی کے تیز ترین پھیلاؤ کے مقابلے میں شہری سہولتوں کی فراہمی اور اربن پلاننگ کے لیے خاطر خواہ اور بروقت اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ کراچی کی 50 فیصد سے زائد آبادی کچی آبادیوں پر مشتمل ہے جہاں آبادی میں دگنی رفتار سے اضافہ ہو رہا ہے۔ شہر میں بے ہنگم اور مخصوص علاقوں میں کی جانے والی تعمیرات مسائل میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔ کراچی کے سب سے بڑے مسئلے پانی کی قلت کو حل کرنے کے لیے نہ تو کراچی اور نہ ہی صوبے کی سطح پر کوئی پالیسی موجود ہے شہری نظام یومیہ طلب کا صرف 55 فیصد پانی ہی فراہم کر پا رہا ہے پانی کا ضیاع اور بڑے پیمانے پر چوری عام ہے۔ پانی کی قلت کا شکار صوبے کے سب سے بڑے شہر میں 43 فیصد پانی کی قیمت وصول نہیں کی جاتی جس کی مقدار 192 ملین گیلن یومیہ ہے۔
سیوریج کے پانی کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے کے لیے بھی سہولتوں کا فقدان ہے اور یومیہ 475 ملین گیلن فضلہ بغیر کسی ٹریٹمنٹ کے براہ راست
23-9-2016-c
سمندر میں گرایا جا رہا ہے۔ اسی طرح کوڑے کچرے کی صرف 50 فیصد سے بھی کم مقدار کو لینڈ فل سائٹس میں ٹھکانے لگایا جاتا ہے باقی کچرا غیرمحفوظ طریقوں کی بنا پر ماحول کے لیے خطرہ بن رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کراچی میں قدرتی آفات اور حادثات سے نمٹنے کا بھی کوئی بندوبست نہیں ہے۔
ورلڈ بینک نے اپنی رپورٹ میں انتباہ کیا ہے کہ کراچی میں ناکافی ایمرجنسی اور ریسکیو اقدامات اور پلاننگ کے بغیر ہونے والی تعمیرات کی کثرت، ایمرجنسی اور ریسکیو اقدامات کے فقدان کی وجہ سے زیادہ شدت کے زلزلے کی صورت میں عمارتوں کی بڑی تعداد ملبے کا ڈھیر بن سکتی ہیں۔ ورلڈ بینک نے اپنی رپورٹ میں کراچی میں بڑھتی ہوئی آلودگی کو بھی شہر کا بڑا مسئلہ قرار دیا ہے جس میں فضائی آلودگی کی صورت حال کو انتہائی تشویشناک قرار دیا گیا ہے۔
30-9-2016-d
رپورٹ کے مطابق کراچی میں کچرے میں صنعتی فضلے کو جلائے جانے اور مائع فضلے کو بغیر ٹریٹمنٹ ڈسچارج کیے جانے سے آلودگی کا مسئلہ تیزی سے شدت اختیار کر رہا ہے پینے کے پانے میں سیسے کی زائد مقدار سے بچوں میں سیکھنے کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے آّلودگی کی وجہ سے شہریوں کو معاشی نقصان کا بھی سامنا ہے۔ ورلڈ بینک نے کراچی میں ٹریفک کی بدنظمی اور پبلک ٹرانسپورٹ کے فقدان کو بھی شہرکا ایک بڑا مسئلہ قرار دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق کراچی میں گاڑیوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور موثر حکمت عملی کے فقدان کی وجہ سے مستقل ٹریفک جام کا سامنا ہے۔ شہر میں کوئی سرکاری پبلک ٹرانزٹ سسٹم سرے سے ہی موجود نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق کراچی میں کاروبار کو درپیش چیلنجز کی وجہ سے کراچی کی کاروباری مسابقت بھی ملک کے دیگر شہروں کے مقابلے میں کم ہو رہی ہے۔
کاروبار پر اثر انداز ہونے والے عوامل میں انفرااسٹرکچر کے مسائل کے ساتھ سیاسی بے یقینی، بجلی کی لوڈشیڈنگ، کرپشن اور بھتا خوری جیسے مسائل بھی شامل ہیں ان سب مسائل کی وجہ سے کراچی میں کاروبار کرنا بھی دشوار ہو رہا ہے۔ کراچی کی معیشت سندھ کے دیگر شہروں سے جڑی ہوئی ہے تاہم کراچی کا سندھ کے دیگر شہروں سے مضبوط تعلق ترقی اور روزگار کے مواقع مہیا کرنے کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔
کراچی کو سندھ کے دیگر شہروں کے ساتھ جوڑنے کے لیے سیاسی اور انتظامی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ ورلڈ بینک نے کہا ہے کہ کراچی اب بھی ترقی کے لحاظ سے دنیا کے میگا سیٹیز کا ہم پلہ ہو سکتا ہے تاہم اس کے لیے کراچی سٹی ڈیولپمنٹ پلان 2020 پر مرحلہ وار اور تسلسل کے ساتھ عمل درآمد کرنا ہو گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

کیپٹن صفدر گرفتاری، آرمی چیف کا بلاول سے ٹیلی فونک رابطہ

کراچی،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا چیئرمین پی پی بلاول بھٹو سے ٹیلی فونک رابطہ، کیپٹن صفدر واقعے پر بات چیت،...

کیپٹن صفدر گرفتاری، آرمی چیف کا تحقیقات کا حکم

کراچی، کیپٹن صفدر کی گرفتاری کے معاملے چیئرمین پی پی کے مطالبہ پر آرمی چیف نے تحقیقات کا حکم دے دیا، آرمی...

ایف آئی آر کےلئےناروا سلوک کیا گیا۔ ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ

کراچی، کیپٹی صفدر کی گرفتاری کے معاملے پر افسران دلبراشتہ ہیں، ایف آئی آر کے معاملے میں انتہائی ناروا سلوک کیا گیا،ایڈیشنل...

سندھ میں پہلی بار تمام ڈی آئی جیز،ایس پیز رخصت پر چلے گئے

کراچی، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کسی صوبے کے تمام ڈی آئی جیز اور ایس ایس پیز چھٹیوں پر چلے گئے،...