Tuesday, October 27, 2020
Home کالم /فیچر کھیل سیاست کی نذر ہو گئے(سیدماجدعلی)

کھیل سیاست کی نذر ہو گئے(سیدماجدعلی)

pakistancricket2270x160320x180جاوید میانداد اورعمران خان ہماری کرکٹ ٹیم کے دو ایسے روشن ستارے ہیں جن کی چمک بہت دور تک دیکھی جاسکے گی اسی طرح کرکٹر جس میں ماجد خان ، ظہیر عباس اورانضمام الحق جسیے کھلاڑی جب تک فیلڈمیں ہوتے تھے کرکٹ دیکھنے کو دل چاہتا تھا۔ ایک زمانے میں ہماری ٹیم کا بالنگ اٹیک پوری دنیا تسلیم کرتی تھی۔ ہم زیادہ ترمیچ اپنی بہترین بالنگ کی وجہ سے جیتے تھے پرویزسجاد، سلیم الطاف، سرفراز نواز،عمران خان، وسیم اکرم اورشعیب اخترایسے بالرز تھے جن کے سامنے دنیا کے بڑے بڑے مایہ نازبلے باز بھی احتیاط سے کھیلتے تھے۔
لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا اورکرکٹ میں سیاست نے قدم رکھنا شروع کیا، اس نے توہماری کرکٹ کا ستیاناس ہی کردیا، سیاسی بنیادوں پر پی سی بی کے چیئرمین بننے کی روایات جنم لینے لگیں اور پھر چیف سلیکٹر بھی مرضی کا، ظاہر ہے ٹیم کی سیلیکشن بھی پرچی کے بنیادوں پر ہونے لگی۔نتیجہ یہ ہوا کہ ٹیم دن بدن کمزور ہوتی چلی گئی اور کچھ کرکٹرز نے تو اس صورتحال سے دلبرداشتہ ہوکر اس سیٹ اپ سے ہی دوری اختیار کرلی جیسے شعیب ملک، عبدالرزاق،محمد سمیع، عاقب جاوید اور بہت سے ایسے نام ہیں جنہوں نے پاکستان کی کرکٹ کی تاریخ رقم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
موجودہ ورلڈ کپ 2015 کا ذکر کیا جائے تو ہماری ٹیم کی بیٹنگ افتتاحی میچوں سے ہی ناقابل اعتباررہی ہے، کبھی تو جم گئی ورنہ یہ ایسے گرجاتی ہے جیسے خزاں کے موسم میں درختوں سے سوکھے پتے جھڑتے ہیں۔ ہماری ٹیم کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ پریشرمیں نہیں کھیل پاتی اورسب سے اہم بات یہ ہے کہ ہماری ٹیم میں کوئی ایسا کھلاڑی سوائے مصباح الحق کے نہیں رہ گیا جس کے بارے میں یہ کہا جاسکے کہ یہ مرد بحران ہے۔ ایک زمانے میں جاوید میانداد کو یہ خطاب ملا ہوا تھا کہ وہ کریز پر موجود ہوتے تھے توشائقین کو ہارتا ہوا میچ بھی جیتنے کی امید رہتی تھی۔ جاوید میانداد اور انضمام الحق دو ایسے کھلاڑی تھے جو انتہائی پریشرمیں اطمینان سے کرکٹ کھیلتے تھے۔ پھر ان کے ایسے خوبصورت شارٹس ہوتے کہ داد دینا ہر ایک کے لیے مجبوری بن جاتا۔
اس ورلڈ کپ میں بھی لوگوں نے اپنی رات اور کئی اتوار کی چھٹی والے دن مزے کی نیندخراب کر کے بڑے ذوق وشوق سے دیکھنے کا اہتمام کیا ، لیکن جیسے جیسے کھیل آگے بڑھتا گیا نیند کے ساتھ شائقین کے دل بھی خراب ہوتے گئے۔ پاکستان کی بالنگ فیلڈنگ تو ہماری ہمیشہ خراب رہی ہے کسی ایک میچ میں چھ کیچ کا چھوڑ دینا کوئی معمولی بات نہیں ہے ایسا لگ رہا تھا کہ ہم میچ جیتنے کے لیے نہیں بلکہ ہارنے کے لیے کھیل رہے رہیں ۔ ہمارے بلے بازوں اورفلیڈرز کی غیر سنجیدگی یوں ظاہر کرتی تھی جیسے ہم گلی محلوں کی کرکٹ کھیل رہے ہیں۔
worldcup 2015aمجھے کرکٹ کھیلنا نہیں آتی بس کبھی کبھی دیکھنے کا شوق ہوتا ہے بچپن میں تھوڑا بہت کھیلا تھا اسی کھیل کی بنیاد پر میں یہ پیشکش کرسکتا ہوں کہ جن کھلاڑیوں کوآٹھ لاکھ ماہانہ تنخواہ، شہرت اور نہ جانے کیا کیا مراعات دیتے ہیں وہ کچھ بھی نہ دیں وہ ہمیں موقع دیں، صفر پر آﺅٹ ہونے کی اورکیچز کو چھوڑنے کی صلاحیت توہم بھی رکھتے ہیں۔ آج ہمارا ملک جن حالات سے گزررہا ہے اس میں پاکستانی عوام اپنے مستقبل کے حوالے سے پریشان ہیں اورکسی خوشی منتظر ہیں، وہ کرکٹ کی طرف سے کسی بھی اچھی خوشخبری کی آس لگائے بیٹھی رہی اورذوق شوق سے میچ دیکھتی رہی ۔لیکن ہمارے شاہینوں نے پوری قوم کو مایوس کیا، ایک رن کے اسکورپر چار کھلاڑی آﺅٹ ہونا، یہ بھی انتہائی خراب کارکردگی کا ایک ورلڈ ریکارڈ ہے۔ ویسٹ انڈیز وہ ٹیم ہے جس کو آئرلینڈ نے ہرایا ہے اس لیے اب ہمیں کیا یہ امید رکھنا چاہئے کہ ہم آئرلینڈ سے بھی ہارجائیں گے (خدانخواستہ ) اوراپنے پول میں چھٹی یا ساتویں پوزیشن لے کر اپنے اپنے گھروں کو واپس آجائیں گے۔
قارئین کرام میں یہ مضمون میں مکمل کرچکا تھا اوراپنے خیالات آپ تک پہنچانے کے لیے جب یہ میگزین انچارج صاحب کی خدمت میں پیش کیا تو انہوں اس پرتبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’آپ نے پاکستانی ٹیم پر صحیح غصہ نکالا ہے۔ لیکن اس کے بعد کے میچوں میں پاکستان ٹیم نے کارکردگی بھی دکھائی ہے۔ کوارٹر فائنل ہوجائے تو اس میں تھوڑا صحیح کردیجئے گا کیونکہ پاکستانی ٹیم میں ٹیلنٹ بہت ہے اوروہ مقابلہ کرسکتی ہے۔“ محترم دوست کی تاویل میں وزن تھا اس لیے میں بھی اس امید پر اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے پر تیار ہوگیا۔
جمعہ کا دن کوارٹر فائنل کے دیکھنے کے لیے گھر پربچوںنے خاص انتظام کیا تھااورعزیز رشتے دار میچ دیکھنے لئے اکھٹے ہاں اکٹھے ہوئے۔ لہذا مہمان نوازی کے آداب کے پیش نظر ان کے ساتھ بیٹھ کر کچھ دیر میچ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ پاکستان نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا توسرفراز سمیت سب نے دھوکہ دے دیا اوروکٹیں یوں گرتی چلی گئیں جیسے خزاں رسیدہ درختوں سے سوکھے پتے جھڑتے ہیں۔ میچ دیکھتے ہوئے باربار یہی خیال آرہا تھا کہ پوری قوم نے خوش فہمیوں کی جوفصل بوئی تھی، میچ سے قبل تو وہ خوب برگ وبارلارہی تھی اوردورکی کوڑیاں ڈھونڈنے والے بتارہے تھی کہ کس طرح آج کے حالات 1992 ءکے ورلڈکپ سے مطابقت رکھتے ہیں۔ بعض ستم ظریفوں نے تووزیراعلی قائم علی شاہ کے سانحہ ارتحال کی خواہش بھی ظاہر کردی تاکہ آخری شرط پوری ہوجائے اورپاکستان یہ میچ جیت سکے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہماری ٹیم ہی ناقابل اعتبارہے، کوئی باﺅلریا کوئی ایک بیٹس مین بھی ایسا نہیں جس پرانحصار کیا جاسکے۔

ہمارے کھلاڑی حالات کے رحم وکرم پرسمندر میں تیرتی اس کشتی کے مانند ہیں جسے موافق موجیں ساحل پر پہنچادیں توٹھیک وگرنہ اس کاا پنا کوئی کمال نہیں۔ گاہے بہ گاہے خیال آتا کہ کاش یہ میچ بھی ”لگان“ جیسی کسی بھارتی فلم کا حصہ ہوتا توہمارے کھوٹے سکے چل جاتے اورہم گوروں کو ناکوں چنے چبوانے میں کامیاب ہوجاتے ۔ یاپھر کوئی بھینسوں کا مقابلہ ہوتا توہم اس بھینسے پر سبزہلالی پرچم پینٹ کردیتے جوطاقتور ہوتا تاکہ جب وہ اپنے مخالف بھینسے کو پچھاڑ دیتا توہم جذبات کے عالم میں میں پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگاتے اور اس بات پر خوش ہوجاتے کہ ہم نے آسٹریلیا کو ہرادیا ہے۔ اسے آپ خوبی کہیں یا پھرڈھٹائی کا نام دیں لیکن سچ یہ ہی ہے کہ پاکستانی کبھی ہمت نہیں ہارتے اورہمیشہ معجزات کے منتظررہتے ہیں۔ اگرآخری بال نو یا وائیڈ قرارپائے، ایک رن مل جائے اورپھر اگلی بال پر چھکا لگ جائے توہم یہ میچ جائیں۔ اس میچ کے دوران بھی جب پاکستانی ٹیم 213 کے مجموعی اسکورپر آﺅٹ ہوگئی تومیرے گھر آئے مہمان نے کہا، کوئی بات نہیں۔ اللہ بڑا مسبب الاسباب ہے، وہ کوئی راستہ نکال دے گا۔ ہوسکتا ہے کہ آسٹریلوی ٹیم 200 کا ہندسہ عبورکرنے سے پہلے آﺅٹ ہوجائے۔ جب پہلی اننگز ختم ہونے پر نیوز چینلز لگائے ہرطرف اس اسی طرح باتیں ہورہی تھیں۔ کرکٹ کے شائقین ہی نہیں، نام نہاد تجزیہ نگار بھی اس ماہرانہ رائے کا اظہار کررہے تھے کہ پوری قوم ٹیم کے لیے دعائیں کرے توانشااللہ ہم یہ میچ جیت جائیں گے۔ اسی اثناء میں سوشل میڈیا پر کوئی دور بلکہ بہت دور کی کوڑی ڈھنوڈنڈ کر لایا کہ اب تک 54 مرتبہ پاکستان کی ٹیم آسٹریلیا کے خلاف 215 سے کم اسکور پر آﺅٹ ہوئی ہے اور 11مرتبہ آسٹریلیا یہ ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہاہے۔
اس ضمن میں سب سے بڑی مثال 1992 کے ورلڈ کپ کی ہے جب آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ ہی میزبان تھے، پرتھ کے اسٹیڈیم میں کھیلے جارہے میچ میں پاکستان نے 9 وکٹوں کے نقصان پر220 رنزبنائے اورجب آسٹریلیا کے ٹیم بیٹنگ کرنے کرنے آئی توباﺅلرزنے اپنی شاندار کارکردگی سے 46 اوورمیں ہی گوروں کے 172 کے مجموعی اسکور پر ڈھیر کردیا۔ چنانچہ آج بھی وہ پرانی تاریخ دہرائی جاسکتی ہے اورپاکستان یہ میچ جیت سکتا ہے۔ عمران خان کے کسی مداح نے یہ بھی کہا کہ تب اوراب میں فرق یہ ہے کہ اب ٹیم کوعمران خان جیسا کپتان میسر نہیں۔ کسی نے یہ بتانے کی زخمت نہیں کی کہ تب اور اب کے حالات میں کیا فرق ہے۔ اس وقت جو ٹیم 300 کا ہندسہ عبورکرلیتی تھی، اسے ایک فائٹنگ اسکورسمجھاجاتا تھا مگر موجودہ ورلڈکپ کی پچوں اور گراﺅنڈ کے مطابق 300 اسکورکے قابل دفاع سمجھا جاتا ہے۔ مجھے سب سے زیادہ تعجب تب ہوتا ہے جب پاکستانی کرکٹ شائقین کھلاڑیوں کے بجائے معجزات پربھروسہ کرتے ہیں اوراس امید پر ہارنہیں مانتے کہ اللہ کوئی راستہ نکالے گا۔ میرا خیال ہے خالق کائنات کو اوربہت سے کام ہیں۔ خالق کائنات کااصول تو یہ ہے کہ وہ اپنی راہ میں جنگ لڑنے
والوں کی مدد بھی اس وقت تک نہیں کرتا جب تک وہ خود کواس مددکا حقدار نہ ثابت کردیں۔ آپ ہی بتایئے، اس کی مدد ایسی ٹیم کے لیے کیوں اترے گی جو کھیل کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں ہم نے دعاﺅں اورمعجزات کے بل بوتے پر ہارے میچ جیت لئے، بہتر ہوگا کہ اب کارکردگی پرانحصار کرنا شروع کردیں۔ مگر میری رائے اب یہ یہی ہے کہ تاریخ خود کو دھراتی ہے، معجزات نہیں۔ اور ضروری نہیں کہ فتوحات پر مبنی درخشاں تاریخ ہی دہرائی جائے، عبرتناک شکستوں پر مبنی تاریک تاریخ کا پہیہ بھی دہرایا جاسکتا ہے۔ پاکستانی ٹیم اگرتواس پر دل نہ جلائیں کیونکہ آسٹریلیا سے جیت بھی جاتے سیمی فائنل میں ہمارا مقابلہ بھارت جیسی ٹیم سے ہوتاجونہ صرف اس ورلڈکپ میں ناقابل شکست رہی ہے بلکہ ہم بھارت کے مقابلے میں کسی بھی ورلڈ کپ میں کبھی کوئی میچ نہیں جیت پائے۔ سرفراز نے ہمیں دھوکہ نہیں دیا، ہم سب نے ایک دوسرے کو دھوکہ دیا، بنجرزمین پرخوش فہمیوں کی فصل بوکر۔

پی سی بی کے کرتا دھرتا جتنے بھاری اخراجات کے ساتھ ٹور کررہے ہیں اور اتنی بڑی فوج لے کر گئے ہیں جن کی وہاں چنداں ضرورت نہیں تھی لیکن سب کو نوازنے کی پالیسی نے جس طرح ہمارے ملک کے دیگر شعبوں پر انتہائی خراب اثرات ڈالے ہیں اس طرح کرکٹ کا معاملہ بھی ہے۔ لگتا ہے کہ ملک کی عزت کا احساس کسی کو نہیں بلکہ اگر فکر ہے تواس بات کی کسی طرح زیادہ سے زیادہ مال بٹورلیا جائے پتا نہیں آئندہ موقع ملے نہ ملے۔
ہم جب اپنے ملک کی سیاسی صورتحال پر غور کرتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے حکمراں اوراپوزیشن کی پارٹیاں عوامی مسائل کو پس پشت ڈال کر آپس میں کھیل رہی ہیں اوراب انہوں میدان سیاست سے کھیل کے میدان میں قدم رکھنا شروع کردیا۔ دوسرے الفاظ میں آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے ملک کی سیاست نے کھیلوں پر بھی قبضہ جما لیا ہے ۔لیکن ہم سمجھتے ہیں کرکٹ کو سیاست سے دور رکھا جائے ورنہ وہی حال کرکٹ کا ہوگا جوہاکی کا ہوا ہے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

سرجانی ٹائون سے لاپتہ 8 سالہ عروہ بازیاب

کراچی، پیر کے روز سرجانی ٹائون سیکٹر ڈی فور میں گھر کے باہر سے لاپتہ ہونےوالی 8 سالہ عروہ فہیم بازیاب، پولیس...

بدھ اور جمعہ کو سی این جی اسٹیشنز بند رہیں گے

کراچی، سندھ بھر کے سی این جی اسٹیشنز بدھ اور جمعہ کو بند رہیں گے، ذرائع کے مطابق بدھ اور جمعہ کو...

لیاقت آباد، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ٹیم پر حملہ

کراچی، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ٹیم پر لیاقت آباد میں حملہ، ذرائع ایس بی سی اے کے مطابق لیاقت آباد...

گزری، نجی بینک میں آتشزدگی،فائر بریگیڈ کی گاڑیاں روانہ

کراچی، گذری میں نجی بینک میں آتشزدگی، کنٹونمنٹ بورڈ کی گاڑیاں آگ پر قابو پانے کےلئے روانہ، ذرائع کے مطابق بینک میں...