Friday, October 23, 2020
Home کالم /فیچر کون بنے گا کرکٹ کا عالمی چمپئن؟ (محمد شعیب یا ر خان)

کون بنے گا کرکٹ کا عالمی چمپئن؟ (محمد شعیب یا ر خان)

cwc-logoکرکٹ ورلڈ کپ 2015 اپنے اختتامی مراحل کی جانب گامزن ہے، چند روز میں یہ فیصلہ ہوجائیگا کہ آئندہ چار سالوں کیلئے کرکٹ کی حکمرانی کا تاج کس کے سر سجے گا۔ اتوار کو ہونے والا فائنل دونوں میزبان ملکوں کے درمیان کھیلا جائیگا۔ آسٹریلیا تو گذشتہ 6 عالمی کپ کے فائنل کھیلنے کا اعزاز اور تجربہ رکھتا ہے تاہم نیوزی لینڈ پہلی بار کرکٹ کی تاریخ کے عالمی کپ کے مقابلوںمیں فائنل کے اندر پہنچا ہے۔ گذشتہ روز بھارت کی ٹیم کو جس انداز میں آسٹریلیا نے بھاری رنز سے شکست دی اس سے فائنل میں ایک دلچسپ مقابلے کی توقع کی سکتی ہے، نیوزی لینڈ اب تک اس ورلد کپ میں ناقابل شکست ہے، کوارٹرفائنل میں ان کے کھلاڑیوں نے جس انداز میں بلے بازی کی اور اس سلسلے کو سیمی فائنل میں بھی جاری رکھا اس سے ان کے عزائم یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اس بار اپنی قوم کو مایوس کرنے کے لئے قطعی میدان میں نہیں اتریں گے، اس بار وہ جیت کو اپنے نام کر نا چاہتے ہیں، تاہم یہ بات واضح رہنا چاہئے کہ کرکٹ بائی چانس گیم ہے جو میدان میں اچھا کھیلے گا وہی جیتے گا، کوئی بھی یہ نہیں سوچ سکتا تھا کہ بنگلہ دیش انگلینڈ کو ہرا کر عالمی کپ سے باہر کر دیگا ، لیکن انہوں نے اچھا کھیلا اور وہ جیت گئے، یہی کچھ کل دوسرے سیمی فائنل میں ہوا بھارت جو اب تک اچھا کھیل رہا تھا وہ سیمی فائنل میں اچھا نہیں کھیلا اور نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ بھارتی اور پاکستانی عوام کا بھی عجیب ہی مزاج ہے ، ٹیم جیتے تو یہ اپنے کھلاڑیوں کو سر کاتاج بناتے ہیں اور اگر ہارے تو انہیں جوتوں کے ہار پہنانے سے بھی باز نہیں آتے، بھارتی ٹیم کی شکست کے بعد بھارتی میڈیا نے جس انداز میں اپنے ہی کھلاڑیوں کے خلاف زہر اگلنا شروع کیا جس کے نتیجے میں عوام جس طرح میں مشتعل ہوئے وہ قابل افسوس امر ہے، دونوں ملکوںکی عوام کو کھیل کو کھیل کے ہی انداز میں لینا چاہئے اور کھیل میں ہار جیت ہوتی ہے ۔

گروپ میچوں سے لیکر فائنل فور تک کا جائزہ لیں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اس تور نامنٹ میں کچھ اپ سیٹ تو ضرور ہوئے مگر آخری مراحل میں جو ٹیمیں شامل ہوئیں وہ واقعی اہلیت اور قابلیت میں دیگر ٹیموں سے بہتر تھیں۔ خاص طور پر بھارت ، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا نے پورے ٹور نامنٹ میں اپنی کارکردگی سے دھاک جمائے رکھی، جبکہ جنوبی افریقہ کی ٹیم کی کارکردگی بھی بہتر رہی جس کی وجہ سے وہ سیمی فائنل تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی، تاہم یہ اس کی بد قسمتی کہہ لیں کہ ماضی کی طرح اس با ر بارش ان کے سیمی فائنل سے فائنل کی راہ میں آڑے آگئی اور وہ ایک بارپھر سیمی فائنل سے ناکام واپس لوٹ آئی۔

ICC-Cricket-World-Cup-2015پاکستان ٹیم کا سفر کواٹر فائنل تک محدود رہا ۔کواٹر فائنل میں آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست کے نتیجے میں قومی ٹیم اس وقت اپنے گھروں کو پہنچ چکی ہے۔ بات اگر کارکردگی کی جائے تو اس بار عالمی کپ میں ہماٹیم نے جس طرح گھٹ گھٹ کر سیمی فائنل تک کا سفر کیا ، اسکی توقع پہلے سے کی جارہی تھی لیکن قوم کی دعائیں قومی ٹیم کے ساتھ تھیں، تاہم یہ بات کسی سے ڈھکی چپی نہیں کہ جب ٹیم کا اعلان کیا گیا اور ہماری ٹیم کو ابتداءہی میں محمد حفیظ اور جنید خان کی واپسی سے جو دھچکا لگا اس کے بعد یقینا گروپ میچز کے دوران ہی ٹیم کی واپسی کی توقع کی جارہی تھی۔ سونے پہ سہاگہ یہ ہوا کہ عظیم اسپنر سعید اجمل کی عدم شرکت بھی اس دکھ میں اضافے کا سبب رہی ۔ دوسرے لفظوں میں یہ بات برملا کہی جاسکتی ہے کہ اس بار جو ٹیم عالمی کپ کیلئے اتاری گئی وہ سابقہ عالمی کپ کی کسی بھی ٹیم سے کمزور ٹیم تھی۔جو تجزیہ نگار اور ناقد اس ٹیم کا موازنہ ۲۹۹۱ کی ٹیم سے کرتے رہے ان کی عقل پہ ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے ۔

عالمی کپ میں انفرادی کارکردگی کی بات کی جائے تو کوئی شائبہ نہیں کہ اس بار پاکستانی باﺅلرز نے آوٹ کلاس باﺅلنگ کا مظاہرہ کیا، انہوں نے اپنی کارکردگی سے ٹیم کو جتوایا۔ اب بات اگر بلے بازی اور فیلڈنگ کی جائے تو وہ سب کے سامنے ہے، یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ وکٹ کیپر سرفراز نے جس کارکردگی کا مظاہرہ کیا وہ نہایت قابل تحسین ہے ، پاکستان کی جانب سے عالمی کپ کی واحد سینچری بھی ان ہی کی مرہون منت رہی ۔ سرفراز مستقبل میں پاکستان کرکٹ کا پراعتماد بلے باز بننے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے، کپتان مصباح الحق جو ہمیشہ بلاجواز تنقید کا نشانہ بنتے رہے ہیں ان کی کارکردگی بھی نمایاں رہی، انہوں نے متعدد مواقعوں پر ٹیم کو سنبھالا ، مصباح نے وطن آتے ساتھ ہی ون ڈے کرکٹ سے خود کو علیحدہ کر لیا، انہوں نے وطن پہنچتے ہی ناقدین کو آڑے ہاتھوں لیا ، ذاتی طور پر اس بات سے متفق ہوں کہ تنقید ہونی چاہئے تاہم اس کے لئے یہ بات مدنظر رکھی جانی چاہئے کہ تنقید کرنے والے کسی ذاتی عناد نہ رکھے، مصباح کا یہ کہنا کہ جسے کچھ نہیں آتا وہ تجزیہ نگار بن جاتا ہے، ایسے تجزیہ نگاروں ، اور تنقید نگاروں کو قطعی یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی کی عزت اتارے، بالکل درست بات ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ عالمی کپ ہم صرف مصباح الحق کی وجہ سے ہارے؟جواب یقینا نہیں میں ہوگا۔ تو پھر تمام سابق کرکٹرز جو نجی ٹیوی چینلز میں بیٹھ کر مصباح کی شان میں قصیدے پڑھتے رہے انہیں یہ علم نہیںکہ یہ کسی کلب یا کسی اسکول کی ٹیم نہیں ، یہ پورے ملک کی بہرتین ٹیم کا چناﺅ تھا ، اگر کوئی اپنی ذمہ داری خود نہ سمجھے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ کپتان اس میں گھس کر اس سے اپنی مرضی کی کارکردگی کروائے ۔ یہ تجزیہ نگار سابق کرکٹرز یہ بات نہیں جانتے کہ مصباح نے اپنے طور پر کس قدر کوشش کی ، اس کے ساتھ وہ صاحب ( شعیب اختر ) جو بھارت میں بیٹھ کر صرف پاکستانی ٹیم کی تذلیل کرتے رہے ان کا ماضی سب بھول چکے ہیں۔ کیا ان کے دور میں ہم سارے عالمی کپ جیت گئے تھے ؟ کیا وہ بھول گئے کہ وہ صاحب خود کس قدر ڈسپلن کی خلاف ورزی کیا کرتے تھے۔ان کی ایسی باتوں سے اس وقت کے اخبارات بھرے ہواکرتے تھے۔کیا وہ شعیب اختر یہ سب بھول گئے، آخر وہ ہوتے کون ہیں بھارت میں جاکر اپنے ملک کے کھلاڑیوں پر بے جا تنقید کرنے اور ان کا مزاح اڑانے والے ان کو کس نے یہ حق دیا ہے؟ تاہم واقعی تنقید کرنا بہت آسان ہوتا ہے پرفارم کرنے سے اور ہمارا یہ المیہ ہے کہ اس پاک وطن میں سے با آسان کسی کی ذات پر کیچڑ اچھال دیتے ہیں ، شعبہ کوئی بھی کوئی بھی ، ہر کوئی دوسرے پر تنقید کرکے اپنی کوتاہیوں کو چھپانے میں لگا رہتا ہے، تنقید ضرور کرنا چاہتے ہیں مگر کیا لنگڑے گھوڑے سے ریس جیتی جاسکتی ہے ، سوائے اس ریس میں کہ جہاں باقی گھوڑے بھی لنگرے ہوں۔ آج ان ناقدین میں بورڈ میں کوئی عہدہ مل جائے تو پھر دیکھیں انہیں مصباح سے اچھا کوئی کپتان نظر نہیں آئیگا ۔

ICC-cricket-world-cup-2015-squadsمصبا ح جتنا عرصہ بھی ٹیم کے کپتان رہے انہوں نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں اور صبر و تحمل سے ناقدین کے منہ ہمیشہ بند کئے رکھا،اس کے ساتھ انہوں نے اپنی کارکردگی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا یہی وجہ ہے کہ ٹیم کا سب سے معمر کھلاڑی ہونے کے باوجود وہ اچھی فٹنس کے ساتھ اچھی کارکردگی پیش کرتے رہے۔ یہاں قومی ٹیم کے سابق کپتان جاوید میانداد کا بھی ذکر کرونگا جنہوں نے مصباح سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ریٹائرمنٹ کا فیصلہ واپس لیںاور بورڈ کو تجویز دی کہ جب تک کوئی دوسرا کھلاڑی تیار نہیں ہوجاتا وہ مصباح کو نہ جانے دیں۔ تاہم اب ایسا مشکل ہی لگتا ہے کیونکہ جتنی تذلیل ہم نے اس عظیم مصباح کی ، کی ہے اس کا شاید اب ہمیں احساس ہو۔جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت موجودہ ٹیم میں مصباح کے جانے کے بعد کائی بھی کپتان بننے کا اہل نظر نہیں آتا۔

اس کے ساتھ ہماری عوام کو بھی سوچنا چاہئے کہ اپنے اصل ہیروز کی تذلیل سن کر خوش ہونے کے بجائے ٹی وی چینل ہی تبدیل کردیں تو یہ نام نہاد ناقدین اور تجزیہ نگار خود ہی خاموش ہوجائینگے یا پھر یہ لوگ سچ بولتے ہوئے تنقید برائے اصلاح کو اپنا شعار بنالیں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

حقوق کراچی ریفرنڈم، اختتامی گنتی کا عمل شروع

کراچی، جماعت اسلامی کا حقوق کراچی ریفرنڈم اختتامی مراحل میں داخل، 16 اکتوبر سے شروع ہونے والا حقوق کراچی ریفرنڈم 21 اکتوبر...

12 ربیع الاول، عبدالحق قادری کی احتجاج ملتوی کرنے کی اپیل

کراچی ، شاہ عبدالحق قادری نے ماہ ربیع الاول میں سیاسی جماعتوں سے احتجاجی پروگرام ملتوی کرنے کی درخواست کردی،...

ایف بی ایریا ،45 سالہ شخص نے خودکشی کرلی

کراچی : ایف بی ایریا, بلاک 13, 45 سالہ محمد انور نے خود کو گولی مار کر زندگی کا خاتمہ...

ٹریفک پولیس کا یوٹیوب چینل لانچ کرنے کا فیصلہ

کراچی ، ٹریفک پولیس کا ٹریفک کی روانی کےلئے یوٹیوب چینل لانچ کرنے کا فیصلہ، ڈی آئی جی ٹریفک جاوید مہرکا کراچی...