موسم سرما کے اثرات اورہماری صحت (ڈاکٹر صدف اکبر)

winterموسم سرما ہر سو اپنی سرد شال کی گرماہٹ پھیلا رہا ہے اور ہر طرف اس گرماہٹ کی ٹھنڈک سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ اس سے بہ حفاظت اور بخیروخوبی صحت مندانہ انداز میں گزر جانے کے اہتمام اور تیاریاں بھی اپنے عروج پر ہیں ۔ سردیاں جہاں ہمیں موسم کے مختلف خشک میوہ جات اور پھلوں سے نوازتی ہیں وہی کم قوت مدافعت کے حامل انسانوں خاص طور پر بچوں اور بزرگ افراد کے لیے زحمت کاباعث بھی بنتی ہیں۔موسم سرما میں چونکہ موسم میں درجہ حرارت کم جب کہ ہوا میں نمی کا تناسب بڑھ جاتا ہے جس کے باعث ہوا خشک ہو جاتی ہے اور ہوا میں موجود مختلف جراثیم  ، وائرسز اور الرجی پیدا کرنے والے عناصر جن میں پولن اور مٹی وغیر ہ بھی شامل ہیں ،بیماریاں پھیلانے کا باعث بنتے ہیں ۔
موسم سرما کے شروع ہوتے ہی عام طور پر کھانے پینے اور رہنے سہنے کے روزمرہ کے معمولات میں مختلف تبدیلیاں وقوع پذیر ہوتی ہیں ۔ جس سے عام طور پر سردیوں کے موسم میں نزلہ ، زکام ، بخار ، گلاخراب ہونا ، کھانسی ، دمہ کی تکلیف ، جوڑوں میں درد، جلد خشک ہو جانا، ہونٹوں اور ان کے گرد چھالے،زخم اور الٹی وغیرہ کی شکایات عام ہو جاتی ہیں ۔ اس کے علاوہ خشک موسم میں جسم میں پیاس کم لگنے کی وجہ سے ہم پانی کم پیتے ہیں اور جس کے باعث ہمارے جسم میں پانی کی کمی کی شکایت ہونے لگتی ہے ۔ آہستہ آہستہ جلد پر خشکی کے اثرات نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ جلد کو خشکی سے بچانے کے لیے بہت زیادہ گرم پانی سے نہیں نہانا چاہیے اور نہانے کے بعد جلد کو نمی دینے والی کولڈ کریم یا موئسچرائزنگ لوشن باقاعدگی سے،خاص طور پررات کو سونے سے قبل لازمی استعمال کرنا چاہیے اور خشکی سے بچنے کے لیے پانی کا استعمال زیادہ سے زیادہ یعنی دن میں کم از کم آٹھ سے دس گلاس لازمی پینا چاہیے ۔

 

سردی کے موسم میں ٹھنڈلگنے سے جسم میں تھرتھری اور کپکپی جیسی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے سینے میں ٹھنڈ لگنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ۔ خاص طورپر اس سے چھوٹے بچے اور بزرگ افراد زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور ان کے سینے میں درد ہونے لگتا ہے ۔ پچاس سال سے زائد عمر کے افراد میں سردی کی شدت جب سینے  پر پڑتی ہے تو اس سے ان کو فالج کے حملے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے ۔ اس حالت میں جسم کو ٹھنڈے ماحول اور ٹھنڈے پانی سے بچانا چاہیے اور گرم کپڑوں کے ذریعے سینے کو اچھی طرح ڈھکنے کے ساتھ ساتھ گرم کھانے پینے کی چیزوں کابھی استعمال کرنا چاہیے ۔ سردموسم میں دمہ یا سانس کے امراض میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ کیونکہ خشک موسم سانس کے مریضوں پر بری طرح اثرانداز ہوتا ہے ۔ لہذا انہیں سردیوں میں خاص طورپر دیکھ بھال اور احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے ۔ کوشش کرنی چاہیے کہ خشک موسم میں زیادہ باہر نکلنے کے بجائے گھر پر ہی رہنے کو ترجیح دی جائے اور اگر ضرورت کے لیے گھر سے باہر نکلنا مقصودبھی ہوتو ناک اور منہ کو کسی گرم کپڑے سے اچھی طرح سے ڈھانپ کر نکلا جائے اور نکلتے وقت انہیلر اور ضروری ادویات ضرور ساتھ رکھ لی جائیں جو فوری طبی امداد کے وقت کام آسکیں ۔
گلے کی خراش بھی موسم سرما کی ایک اہم بیماری ہے جس سے بچے اور بزرگ افراد سب ہی متاثر ہوتے ہیں۔ مختلف تجربات کے مطابق درجہ حرارت کی موسمی تبدیلی یا گرم ماحول سے سرد ماحول میں جانے سے بھی گلے میں خراش کی شکایت ہو سکتی ہے ۔ ایسی صورت میں مختلف ادویات کے استعمال کے بجائے نمک ملے نیم گرم پانی سے غرارے کرنا زیادہ بہتر ثابت ہوتا ہے جس سے مرض کی شدت میں نمایاں کمی ہوتی ہے ۔ اس کے علاوہ موسم سرما میں جوڑوں کے درد میں مبتلا افراد کے درد میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے ۔ اس سے بچنے کے لیے گرم کپڑوں کا استعمال اور روزمرہ جسمانی ورزش بہت اہمیت کی حامل ہے جو صحت پر اچھے اثرات مرتب کرتی ہے ۔ جبکہ سردموسم میں بلڈ پریشر میں اضافے کے باعث دل کا دورہ پڑنے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں ۔ لہذا ایسے موسم میں بہت زیادہ مرغن اور بھاری غذاوں سے پرہیز کرنے کے ساتھ ساتھ گرم کپڑوں اور کمبل وغیرہ کا استعمال لازمی کرنا چاہیے اور گھر سے باہر نکلتے وقت اپنے آپ کو اچھی طرح سے ڈھک لینا چاہیے۔

موسم سرما میں سردی لگنے کے مختلف اسباب اوروجوہات ہوسکتی ہیں جس کی وجہ سے بعض افراد مختلف وجوہات کی بناءپرزیادہ سردی محسوس کرتے ہیں جبکہ کچھ لوگوں میںسردی کا احساس نسبتاً کم ہو تا ہے۔گوشت کا کم استعمال کرنے والے افراد بھی سردی سے زیادہ متاثر ہو تے ہیں۔ کیو نکہ انسانی جسم میں سرخ خون پیداکرنے میں گوشت کا ایک اہم کردار ہوتا ہے اورجسم میں گوشت کا مناسب استعمال نہ کرنے کی وجہ سے سرخ خون کی کمی سے آئرن کی بھی کمی واقع ہو جاتی ہے جوکہ سردی لگنے کا باعث بنتی ہے ۔ اس کے علاوہ معدے اور پھیپھڑے کی بیماریوں میں مبتلا افراد اور خواتین کی ماہانہ ماہواری بھی خون کی گردش کو کمزور کر دیتی ہے جس کی وجہ سے سردی کا احساس بڑھ جاتا ہے ۔ ماہرین کے مطابق ہرے پتوں والی سبزیوں کا استعمال کرنے سے انسانی جسم میں آئرن کی کمی کو کسی حد تک پورا کیا جاسکتا ہے ۔ جب کہ انڈے اور چاول بھی خون کی پیداوار کو بڑھانے میں مدد کرتے ہیں جس کی وجہ سے سردی کی شدت کو کم کیا جاسکتا ہے ۔

جو خواتین اپنے حمل کے ابتدائی مراحل سے گزررہی ہو وہ دوسرے افراد کے مقابلے میں زیادہ سردی محسوس کرتی ہیں ۔ کیونکہ حمل کے ابتدائی دنوں میں خون کی گردش کا دورانیہ کم ہونے کی وجہ سے سردی کا احساس بڑھ جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ امریکہ میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق خواتین میں مردوں کی بہ نسبت سردی لگنے کااحساس زیادہ ہوتا ہے ۔ ذیابیطس کے شکار افراد کو بھی سرد موسم میں بے حد احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے ۔ موسم سرما میں خون گاڑھا ہو جانے کی بنا ءپر بلڈ شوگر کی سطح مختلف ہو جاتی ہے لہذا ذیابیطس کے مریضوں کو موسم سرما میں مناسب مقدار میں پھل اور سبزیاں کھانی چاہیے اور انتہائی میٹھے پھلوں سے پرہیز کرنا چاہیے ۔ اس کے علاوہ ورزش کو سردیوں میں بھی باقاعدہ معمول بناتے ہوئے جسمانی سرگرمیوں کو جاری رکھنا چاہیے ۔ سردی کی شدت سے اگر باہر نکلنا ممکن نہ ہو تو گھر پرہی رہتے ہوئے مختلف جسمانی سرگرمی کو بحال رکھا جاسکتا ہے ۔ ورزش سے انسانی جسم کا در جہ حرارت معمول پر رہتا ہے لہذا سرد موسم میں بھی ورزش کے معمول کو چھو ڑنا نہیں چاہیے اور روزانہ ہلکی پھلکی ورزش لازمی کرنی چا ہیے۔
اس کے علاوہ سردی سے خو ش اسلو بی سے نبرد آ زما ہو نے کے لیے ایسے پھلوں کا وافر مقدار میں استعمال ضروری ہے جن میں وٹا من سی، وٹا من ڈی اور وٹا من ای مو جود ہوں۔ ایسے پھلو ں اور سبزیوں میں اسٹرابری، پپیتا، کینو، کیوی، ٹماٹر، پھو ل گوبھی، پالک، امرود، انار، اننا س، انگوراور کیلا وغیرہ شامل ہیں ،جن میںمختلف وٹا منز، پوٹا شیم،آئرن بھر پور مقدارمیں موجود ہوتے ہیں جو ہمیں موسم سرما کی مختلف بیما ریوں سے محفوظ رکھتے ہیں ۔ طبی ماہرین کے مطابق روزانہ ایک سے آٹھ گرام وٹامن سی کا استعمال سرد موسم میں نزلہ ، زکام اور کھانسی جیسے امراض سے محفوظ رکھنے کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے۔مچھلی کا استعمال بھی سردموسم کے لیے بہترین ہوتا ہے اوراس کے استعمال سے کھانسی ، نزلے ، اور خشک کھانسی میں افاقہ حاصل ہوتا ہے اور خاص طور پرکمزور بچوں اور بزرگوں کے لیے مچھلی کا استعمال ضروری ہے ۔ سردیوں کے موسم میں کم از کم ہفتے میں ایک بار بھی مچھلی ضرور کھانی چاہیے ۔ اس کے ساتھ ساتھ موسم سرما کی سوغات خشک میوہ جات بھی سردیوں کے لیے بے حد فائدہ مند ہیں ۔ اور جسم میں سردی کی شدت کو کم کرنے میں مدد کرتے ہیں ۔
 موسم سرمامیں اکثر بچوں اور بزرگ افراد جن کے مثانے کمزور ہوتے ہیں ان میں بستر میں پیشاب ہو جانے کی شکایت عام ہوجاتی ہے ۔ ایسے افراد کے لیے تل کے لڈو بہترین دوا اور غذ ا ہوتے ہیں ۔ جس سے باربار پیشاب آنے کی تکلیف کے ساتھ ساتھ سردی کی شدت میں بھی کمی آجاتی ہے ۔ اس کے علاوہ چلغورے بھی گردے ، مثانے اور جگر کی تقویت کے لیے اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ۔ جن کے استعمال سے جسم میں گرمی محسوس ہونے کے ساتھ ساتھ سردی کا احساس کم ہو جاتا ہے ۔ موسم سرما میں گھر سے باہر نکلنے سے پہلے سر، چہرہ ، ناک ، کان اور منہ کو کسی گرم کپڑے سے اچھی طرح سے ڈھانپ کر نزلہ ، زکام اور سانس کی مختلف بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں ۔
 برطانوی نیشنل ہیلتھ سروس کے مطابق ہاتھوں کو باقاعدہ اچھی طریقے سے دھونے ، گھر اور آفس وغیرہ کی مشترکہ استعمال کی تمام اشیاءکی مناسب طریقے سے صفائی و ستھرائی سے جراثیم کسی بیمار شخص سے گھر کے دوسرے صحت مند افراد تک منتقل نہیں ہوتے ہیں جس کی وجہ سے نزلہ ، زکام ، اور دیگر متعدی امراض سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔ نزلہ زکام کی صورت میں کپڑے یا رومال کا استعمال کرنے کے بجائے ٹشو پیپر کا استعمال مناسب رہتا ہے اور استعمال کے بعد فوری طور پر ڈسٹ بن میں ڈال دینا چاہیے ۔اس کے علاوہ سڑک پر موجود گاڑیوں کے اور کوئلے وغیرہ کے دھوئیں بچنا چاہیے کیونکہ آگ کا دھواں اور ماحول میں ہوا کی نمی سے کھانسی اور سانس کی تکلیف بڑھ جاتی ہیں۔
دمہ کے مریضوں کو خصوصی احتیاط برتنی چاہیے ۔ گھرمیں بچھائے ہوئے کارپٹ اور قالین وغیرہ بھی خشک موسم میں گردوغبار، پولن اور دیگر جراثیم پھیلانے کا باعث بنتے ہیں جس سے سانس کی تکالیف میں مزید اضافہ ہوتا ہے ۔ ذیابطیس اور ہائی بلڈ پریشر کے حامل افراد کو اپنا بلڈ پریشر چیک کرواتے ر ہنا چاہیے اور کام اور آرام کے درمیان ایک توازن کو برقرار رکھتے ہوئے ایک صحت مند موسم گزارنا چاہیے ۔ سردموسم میں فلواور زکام سے بچنے کے لیے ٹھنڈی اشیاءکا استعمال کم سے کم کریں اور زیادہ طبیعت خراب ہونے کی صورت میں اپنے ڈاکٹر سے فوری طور پر رجوع کرنا چاہیے اور ان کی تجویز کردہ ادویات کو پابندی وقت کے ساتھ استعمال کریں ۔ ان احتیاطی تدابیر کو اپنا کر ہم اپنے آپ کو سردی کی مختلف بیماریوں سے حتی الامکان محفوظ ر کھ سکتے ہیں اور موسم سرما کی سردہواﺅں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے یہ موسم سرما خوش گوار بنا سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top