معاشرے میں صنف نازک کا مقام (ارم فاطمہ)

womenاس کی آنکھوں اور ادا کیے گئے الفاظ میں چھلکتا عزم اس بات کا ثبوت تھے کہ وہ ایک دن اپنے مقصد میں ضرور کامیاب ہوگی۔ مقصد میںکامیابی کے لیے جہاں یہ ضروری ہے کہ انسان مضبوط ارادہ کرے وہیں اس کے لئے جدودجہد اور محنت بھی ضروری ہے۔ دعا کے بغیرنہ صرف راہوں کی مشکلیں آسان ہوتیں ہیں بلکہ کامیابی ان کے قدم چومتی ہے۔وہ خاتون مجھے بس میں ملیں تھیں، مسلسل کئی دن تک بس میں ایک ساتھ سفر کرنے سے پہلے مسکراہٹوں کا تبادلہ ہوا۔سلام ودعا کے بعدبات چیت کرنے سے جو تھوڑی بہت اجنبیت تھی وہ بھی ختم ہوگئی۔ انہوں نے بتایا وہ ایک ڈرائیونگ انسٹیٹیوٹ میں جاتیں ہیں جہاں پہلے ٹریفک قوانین سے آگاہی دی جاتی ہے اس کے بعد 3مہینے کا ڈرائیونگ کورس ہوتا ہے جہاں آپ کو ہر قسم کی ٹریننگ دی جاتی ہے۔
میں نے انہیں ایک نظر دیکھا، ان کی عمر لگ بھگ 45 سال تھی۔ وہ میری آنکھوں اترے سوال کو سمجھ کر مسکرادیں اور کہنے لگیں ”میرا یہ عزم ہے کہ میں ڈرائیونگ سیکھ کر ایک پک اپ وین قرضہ لے کر خریدوں اور اس میں اسکول اور کالج کی لڑکیوں کو پک اینڈڈراپ دوں۔ ان کی 3 بیٹیاں تھیں، شوہر کا انتقال ہوچکا تھا۔ شروع میں امی ابو نے میرا اور بچوںکا خیال رکھا مگر اب میں اپنے بچوں کے لیے خودکچھ کرنا چاہتی ہوں۔میں نہیں چاہتی کہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلاﺅں“۔ شوہر کی وفات کے بعد گھر کو چلانے کے لئے اور بچیوں کی تعلیم اور ان کے مستقبل کے لیے انہیں گھر سے نکلنا پڑا۔وہ بہت باہمت اور حوصلہ مند خاتون تھیں۔
ایک دن بیکری سے کچھ سامان لینے کے بعدرکشے کی تلاش میں نظریں دوڑائیں تو کہیں پاس سے ایک آواز آئی ”آئیں باجی کہاں جانا ہے ؟ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو 14 سال کی لڑکی رکشہ کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھی تھی۔ پچھلی سیٹ پر ایک خاتون سواری اور ایک بچی بیٹھی تھی جس کا بتانے پر پتا چلا کہ وہ اس کی بہن تھی۔ رکشہ چلانا بہت مشکل کام ہے مگر وہ بچی اس مہارت سے گلیوں میں رکشہ چلا رہی تھی کہ مجھے اس کی ہمت اور حوصلے پربہت حیرت ہوئی۔ میرے پوچھنے پر وہ کہنے لگی ”والد کو اچانک فالج کا اٹیک ہوا اور وہ کام کرنے سے معذور ہوگئے۔ایک بڑا بھائی اسٹور پر کام کرتا ہے مگر گھر کی دال روٹی بھی مشکل سے پوری ہورہی تھی اوپر سے ابو کے لیے دوائیوں کی ضرورت تھی۔ اس لئے میں نے رکشہ چلاکر گھر والوں کی مدد کرنے کی کوشش کررہی ہوں“۔
ایک عام آدمی اپنی زندگی میں جن مشکلات کا شکار ہوتا ہے، اپنی ہمت سے اور حالات کی مشکلوں سے نکلنے کے لیے وہ اپنا راستہ خود تلاش کرتا ہے۔یہی حال اس ننھی سی بچی کا تھا جس نے ان مشکل حالات سے نکلنے کے لئے اپنا راستہ خود چنا۔ عزت اور مقام دیا جائے، اس کے بنیادی حقوق کا اسلامی نقطہ نگاہ سے نہ صرف تحفظ کیا جائے بلکہ انہیں ادا کیا جائے تو نہ صرف گھر کی زندگی خوبصورت ہوگی بلکہ معاشرے کی بھی بہترین شکل سامنے آئے گی۔ہم ایک بہترین اسلامی فلاحی مملکت کی تصویر دنیا کے سامنے پیش کرسکیں گے۔ ایک بہترین معاشرہ تشکیل دے سکیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top