تعلیمِ نسواں اور اسلام (فاطمہ خان)

woman education
تعلیمِ نسواں یعنی خواتین کی تعلیم۔ ہمارے ہاں تعلیم کا مطلب اسکولوں اور کالجوں کی تعلیم کو تصور کیا جاتا ہے لیکن دراصل تعلیم کا مطلب علم سیکھنا ہے۔ علم کائنات کو سمجھنا اور اس کے بنانے والے کا شکر بجا لانا ہے۔ علم لا محدود ہے۔ کائنات کی ہر شے سے متعلق جاننا علم ہے۔ علم کو اسکولوں،کالجوں اور جامعات تک محدود کر دینا زیادتی ہے۔ اسلام میں علم حاصل کرنے پر بہت زور دیا گیا ہے۔
اللہ تعالی نے جو پہلی وحی نازل فرمائی اس میں علم کو اولیت دی اور فرمایا، ”پڑھو(اے نبیﷺ) اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ جمے ہوئے خون کے لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی۔ پڑھو اورتمہارا رب بڑا کریم ہے۔ جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا۔ انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا“۔”علم حاصل کرنا ہر مرد وعورت پر فرض ہے“۔ رسول اللہﷺ کی آمد سے قبل اہلِ عرب جہالت کے اندھیروں میں بھٹک رہے تھے کہ اللہ تبارک وتعالی نے آقاﷺ دوجہاں، سرورِکونین کو ہدایت کا روشن چراغ بنا کر بھیجا۔ عرب اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیا کرتے تھے۔ رسولِ خداﷺ نے نہ صرف عورت کو حقِ زندگی دیا بلکہ بہترین زندگی کے ہر حق کو عورت سے منسوب کیا۔ جس میں سب سے بڑھ کر علم کا حصول ہے۔مغرب میں عورت کی آزادی پر بحث ہوتی ہے اس کے حق کے لیے قراردادیں پاس ہوتی ہیں لیکن اسلام چودہ سوسال پہلے اس کی وضاحت کر چکا ہے۔
عورت کے لیے علم کا حصول مرد کے علم حاصل کرنے سے زیادہ افضل اور ضروری ہے۔ مرد کا کام خاندان کی سربراہی ہے جب کہ عورت کے ذمے خاندان کی تربیت ہے۔ اسلام میں مرد و عورت برابر ہیں۔ اسی لیے دونوں کو تعلیم حاصل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ درج بالا سطور میں برابری کا مطلب یکساں ہر گز نہیں۔ اسلام نے خواتین کی تعلیم پر اس وقت زور دیا جب تعلیم کا تصور بھی موجود نہیں تھا۔

 

اسلام میں تعلیمِ نسواں کی روشن مثالیں موجود ہیں حضرت عائشہ صدیقہؓ امہات المومنین میں سے ہیں آپؓ سے 2210 احادیث مروی ہیں۔ آپؓ سے 88علماءنے تعلیم حاصل کی۔ آپؓ علم وادب، قرآنِ پاک کی تفسیر، عربوں کی تاریخ، فرائض، حلال و حرام، ریاضی، طب، ادب و شعر پر دسترس رکھتیں تھیں۔ اسی لیے آپؓ کو ”استاذ الاسا تذہ “ بھی کہا جاتا ہے۔ آپؓ کے علاوہ ام المومنین امِ صفیہؓ بھی اپنے دور کی بڑی عالمہ گزری ہیں۔ ام المومین ام سلمیؓ بھی عالمہ خاتون گزری ہیں۔ آپؓ سے32 علماءکو فیض یاب ہونے کا موقع ملا۔ حضرت فاطمہ بنتِ قیسؓ بھی علم وفضل کی روشن مثال رہی ہیں۔

 

ایک عورت کا علم حاصل کرنا ایک پورے خاندان کے تعلیم یافتہ ہونے کی ضمانت دیتا ہے۔ نپولین نے کہا تھا، ”تم مجھے پڑھی لکھی مائیں دو، میں تمہیں پڑھی لکھی قوم دوں گا“۔ یعنی قوموں کی تعلیم و تربیت کا انحصار ماوں پر ہے اگر ماں پڑھی لکھی ہو گی تو یقیناً اس کی اگلی نسل ان پڑھ نہیں ہوگی۔ ہمارا معاشرہ عورت کو آج بھی عرب کی بیٹی سمجھتا ہے جسے دنیا میں آنے سے لے کر مرنے تک ہر حق کے جدوجہد کا سامنا ہے۔ دیہات شہروں کی نسبت جہالت کی مکمل اور بد صورت تصویر ہے۔ جہاں عورت کا پڑھنا اور اپنے حق کی بات کرنا غیر ضروری امر تصور کیا جاتا ہے۔ قرآن پاک پڑھانے کا رواج بھی اب زور پکڑ رہا ہے اگر پڑھایا بھی جاتاہے تو محض نیتِ ثواب۔ تعلیم اسکولوں اور کالجوں تک محدود کر دینے سے دیہات کی خواتین اس سے محروم ہیں اور آنے والی نسل زمانہ عرب کی طرح تفکروتدبر سے بے بہرہ دکھائی دیتی ہیں۔

 

افسوس کہ پا کستان جیسے اسلامی جمہوریہ ریاست میں جو کہ اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا۔ قائداعظمؒ نے پاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ قرار دیا اور اسلام خواتین کی تعلیم پر زور دیتا ہے۔ پاکستان میں تقریباً 22.5 ملین بچیاں اسکول نہیں جا پاتیں۔ جس کی وجہ کم عمر کی شادی، دیہات کے رسم ورواج، پردہ، غربت اور غیرت جیسے بہت سے مسائل ہیں۔ ان مسائل کو حل کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

 

حقِ زندگی بھی اک دن تم چھین لو گے مجھ سے
میں تو وفا کا پیکر جینے کی سزا مجھے مت دو
جب اسکول نہ جانے والی بچیوں سے اس بارے میں گفتگو کی گئی تو ان میں ایک بڑی تعداد نے پڑھنے کی خواہش ظاہر کی لیکن ان کے وسائل انہیں اسکول جانے کی اجازت نہیں دیتے۔ یہی بچیاں کل ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، جج، لکھاری، استاد، سائنسدان، سیاستدان، بینکر، سفیر، مشیر، بن کر ملک وقوم کی ترقی میں کارہائے نمایاں انجام دے سکتیں ہیں۔ ملک کے حکمرانوں کو نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے تادمِ آخر کام کرنا ہے تاکہ کوئی بچی جہالت کے اندھیروں میں اپنا مستقبل نہ گنوا بیٹھے۔
عورت کبھی حوا، کبھی مریم، کبھی زہرا
عورت نے ہر اک دور میں قوموں کو سنوارا

 

معاشروں میں بگاڑ تبھی پیدا ہوتا ہے جب تعلیم کی کمی اور حقوق وفرائض سے لاعلمی حد سے بڑھ جائے اور صحیح غلط کا فرق مٹ جائے تو ملک میں بدعنوانی اور لوٹ کھسوٹ شروع ہو جاتی ہے۔ ملکی ترقی اور روشن مستقبل کے لیے تعلیمِ نسواں پر توجہ ضروری ہے تا کہ اگلے چند سالوں میں یہ شرح کم ہو اور تعلیم عام ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top