حقوق نسواں اور عورتوں کا عالمی دن (سبین میمن)

woman day1911 ءسے عورتوں کا عالمی دن ہر سال بڑے جوش و خروش سے منایا جا رہا ہے۔ اس دن خواتین کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے طرح طرح کے سیمینار منعقد کیے جاتے ہیں۔ اس دن کا مقصد ہے کہ کس طرح عورتوں پر بڑھنے والے ظلم و تشدد اور بربریت کو روکا جائے۔ کس طرح انھیں مساوی حقوق فراہم کیے جائیں اور کیسے انھیں آگے بڑھنے اور مردوں کے شانہ بشانہ آزادی سے چلنے کے موقع فراہم کیے جائیں، مگر میرا سوال ہے کہ کیا یہ درست ہے؟ کیا مجھے کوئی یہ بتائے گا کہ ہم یہ دن منا کر کس حد تک معاشرے میں بڑھنے والے ظلم و ستم سے عورتوں کو نجات دے چکے ہیں؟ کیا صرف عالمی دن منا کر ہم عورتوں کی کھوئی ہوئی عظمت کو بحال کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں یا آزادی کے نام پر ہم صنفِ نازک کو مزید پستیوں کی طرف دھکیلتے جا رہے ہیں۔

میری نظر میں ہر دن عورت کی عظمت کا دن ہے، کیوں کہ یہ وہ مخلوق ہے، جس کے کندھوں پر نسلِ انسانی کی افزائش کی ذمہ داری ہے۔ یہ ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کے روپ میں کئی سارے رشتوں کی مالکن ہے۔ جس وقت ربِ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو تخلیق کیا، تب ان کی بے چینی اور اضطراب کو دیکھتے ہوئے حضرت حوا علیہ السلام کی تخلیق عمل میں لائی گئی اور حضرت حوا علیہ السلام کو ان کی بائیں پسلی سے تخلیق کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ عورتیں مردوں کی نسبت ذہنی اور جسمانی اعتبار سے کچھ کمزور ہوتی ہیں۔ یہ فطرت کا قانون ہے۔ رب تعالیٰ نے اسی لیے مرد کو اس کا محافظ بنایا ہے، مگر وہی مرد موجودہ معاشرے میں عورت کو ظلم و جبر کا نشانہ بناتا جا رہا ہے۔ وہ اسے شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ مرد کو عورت کا محافظ بنا کر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر میرے بعد کسی کو سجدہ کرنا جائز ہوتا، تو یہ حق شوہر کو حاصل ہوتا۔ مگر دکھ کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ دورِ حاضر میں کئی ایسے مرد حضرات نے (نعوذ باللہ) خود کو خدا ہی تصور کر لیا ہے۔ یہاں تک کہ عورت کی حرمت کو پامال کرتے ہوئے مرد کی ہر گالی عورت سے شروع ہو کر عورت کے نام پر ختم ہوتی ہے۔

ایک عورت کی کل جاگیر اس کی عزتِ نفس ہوتی ہے۔ اس دنیا کی نصف آبادی عورتوں پر مشتمل ہے۔ صرف ایک دن عورت کے نام کر کے ہم عورتوں کی کھوئی ہوئی قدروں کو بحال نہیں کر سکتے، کیوں کہ بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے معاشرے کی سفاکی کا یہ عالم ہے کہ عورت سے اس کی معصومیت چھین لی ہے۔ نہ اسے انصاف مل پاتا ہے اور نہ ہی ذہنی سکون۔ وہ غربت و افلاس، تنگ دستی، کم عمری میں شادی، سسرال کے طعنے، بچوں کی ولادت اور پھر طلاق کے داغ سے گزر کر مسلسل ذہنی اور جسمانی تناو¿ کا شکار ہو کر جب گھر سے نکلتی ہے تاکہ محنت کر کے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پال پال سکے، تو وہاں بھی ایسے ایسے درندوں کا سامنا ہوتا ہے، جو اسے ذہنی اور جسمانی طور پر ہراساں کرتے ہیں، اس طرح ایک عورت یا تو مایوسی کا شکار ہو کر خود کشی کا راستہ اپنا لیتی ہے یا پھر کسی غلط راستے کی طرف گامزن ہو جاتی ہے۔ یہاں بھی قصور وار وہ خاتون ہی ہوتی ہے۔ معاشرہ اسے اپنے متعصبانہ خیالات اور فرسودہ سوچ کی بھینٹ چڑھا دیتا ہے۔ وہ ظلم و ستم سہتی رہتی ہے، ہار جاتی ہے، مگر انصاف نہیں ملتا۔ دوسری طرف اگر تمام حالات کا مردانہ وار مقابلہ کر کے کسی منزل کی طرف گامزن ہو بھی جائے، تو بھی کسی نہ کسی طرح اس کے کردار کو اچھال کر اس پر الزامات لگا کر معاشرہ اس کے وجود کو ریزہ ریزہ کر دیتا ہے۔

سارا مسئلہ طاقت اور اختیار کا ہے۔ مردوں کے اس معاشرے میں عورت کو آزادی کے نام پر باہر نکالنا سراسر مغرب کی تقلید ہے۔ اسلامی معاشرے میں اس کا کوئی تصور نہیں۔ عورت کو برابری اور آزادی کے نام پر باہر کی دنیا میں دھکیلنا دینِ اسلام میں سراسر منع ہے۔ عورت کی عزت اور اس کا وقار چادر اور چار دیواری میں ہے۔ جس کا واضح شعور دینِ اسلام میں ملتا ہے۔ عورتوں کی آزادی کو غلط رنگ دے کر انھیں راہوں سے بھٹکا کر غلط رنگ سے پیش کیا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری نئی نسل عورت کا وقار سمجھنے سے قاصر ہوتی جا رہی ہے۔ 90 فی صد عورتیں صرف شوقیہ نوکری کرنے گھر سے باہر نکلتی ہیں اور پھر جو بڑھتے ہوئے ہراسمنٹ کے کیسز دن بدن سامنے آتے جا رہے ہیں۔ وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔

ہمارے پیارے نبی آخری الزماں ﷺ نے عورت کے تحفظ، تعلیم، وراثت اور اس کی حرمت کے بارے میں 1400 سال پہلے ہی فرما دیا۔ جو چادر اور چار دیواری اک تصور ہمارے دین میں ہے، اس کا سب سے بڑا ثبوت موجودہ دور میں مغربی عورتوں کا تیزی سے قبولِ اسلام کی صورت میں نظر آتا ہے۔ وہ اپنی آزادانہ زندگی کو پسِ پشت ڈال کر نوکریوں اور آزادیوں کو چھوڑ کر شادی کے مقدس بندھن میں بندھنا اور چار دیواری میں رہنا زیادہ پسند کرتی ہیں۔

مرد کو خدا نے اعلیٰ منصب پر فائز کیا ہے تاکہ عورت کو تحفظ فراہم کر سکے۔ دونوں کو خدا نے برابری کی بنیاد پر ذمے داریاں عطا کی ہیں۔ مرد کو باہر کی باگ ڈور سنبھالنا پڑتی ہے۔ اس کے برعکس عورتیں گھر اور بچوں کی ذمے داریاں اٹھاتی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہا جائے کہ مستقبل کے معماروں کی پرورش کا ذمہ عورت کے ناتواں کندھوں پر رکھا گیا ہے، تو غلط نہ ہوگا۔ مگر صد افسوس کہ آج کی عورت مردوں کے شانہ بشانہ چلنے کے شوق میں اپنی اس ذمے داری سے منہ موڑ چکی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ تعلیم کی کمی اور دن سے دوری ہے۔ 55 فی صد خواتین کو تعلیم سے محرورم رکھا جاتا ہے۔ دیہی علاقوں میں عورتوں کی تعلیم کا سرے سے کوئی تصور ہی نہیں۔ دورِ جاہلیت کی طرح آج بھی کئی علاقوں میں بیٹی کی پیدائش کو اچھا نہیں سمجھا جاتا اور چھوٹی عمر میں ہی ان کی شادی کر دی جاتی ہے، جس سے صحت کے مسائل جنم لیتے ہیں۔

اب ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمی دن منا کر ریاستی تشدد کے خلاف آواز اٹھانے اور خواتین کو با اختیار بنانے کے بجائے حکومتی سطح پر اس کے اقدامات کیے جائیں، اس لیے کہ اب ہمارے ملک میں مغرب کی طرح خواتین پر ظلم و تشدد کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں۔ یہ ہمارے ملک کا قومی المیہ بنتا جا رہا ہے کہ عورتوں پر تیزاب پھینکنے، جبر و تشدد اور زیادتیوں کے وقاعات میں غیر معمولی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ روزمرہ کئی واقعات رپورٹ تک نہیں ہوتے۔ راہ چلتے آوازیں کسنا اور غیر اخلاقی حرکتیں کرنا ، یہ سب معمول بن کر رہ گیا ہے اور ان وقاعات کی روک تھام کے لیے کوئی حکمت عملی نہیں۔

 

اب اس جاہلانہ نظام کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ سنجیدگی سے قانون سازی کرے اور عورتوں کی صحت، تعلیم ، شادی، وراثت ، تحفظ ، انصاف کے معاملات کو مدِ نظر رکھ کر عورتوں میں خاص تعلیمی معیار کو بہتر بنائے اور ان کی معاشی سرگرمیوں میں حوصلہ افزائی کر کے ان کے لیے ساز گار ماحول اور روزگار کی فراہمی کو یقینی بنائے تاکہ ہو وقتِ ضرورت اگر گھر سے باہر نکلیں بھی، تو بہتر ماحول میں اپنے آپ کو با اختیار بنا کر آنے والی نئی نسل کی بہتر تربیت کر سکیں اور حوا کی بیٹی اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کر سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top