Wednesday, October 28, 2020
Home کالم /فیچر عبدالحفیظ خٹک یوم خواتین اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی (حفیظ خٹک)

یوم خواتین اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی (حفیظ خٹک)

womens-rights-in-Pakistan1خواتین کا عالمی دن امریکہ میں موجود اقوام عالم کے مشترکہ ادارے اقوام متحدہ کے زیر اہتمام منائے جانے والے دنوں میں سے ایک ہے۔ یہ پوری دنیا میں ان بے شمار دنوں کی طرح بڑے جوش و خروش سے منایاجاتاہے۔
سال کے 365 دنوں کو اس ادارے نے کسی نہ کسی مناسبت سے منانے کا اعلان کر رکھا ہے اور اس حوالے سے باقاعدہ ایک چارٹر مرتب کیا گیا ہے ۔ جس کااطلاق تمام ممالک پر ہوتا ہے لہٰذا اس چارٹر پر عملدرآمد ہر رکن ملک کو کرنا ہے۔ ان ایام کومنانے کا مقصد اس حوالے سے دنیا کو آگاہی فراہم کرنا ہوتا ہے۔ جس کے لیے اقوام متحدہ کثیر رقم بھی خرچ کرتی ہے۔
تاہم یہ امر قابل افسوس ہے کہ خصوصی دنوں کے حوالے سے کی جانے والی باتوں اور قرار دادوں پر کوئی عمل درآمد نہیں کراتی۔ ایسے کئی حل طلب معاملات ہیں جو کہ اقوام متحدہ حل کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔ اس تناظر میں اگر اقوام متحدہ کے کردار کا جائزہ لیا جائے تو عملا وہ اپنے قیام کے مقاصد میں ناکام نظر آتی ہے۔ آج کے دور میں اقوام متحدہ مخص چند ممالک کے باندھی بن کر رہ گئی ہے۔ بلکہ اب تو یہ منظر واضح ہو چکا ہے کہ اقوام متحدہ کی ناکامی میں سب سے زیادہ کردار امریکہ کا ہے ۔ اقوام متحدہ کے قریبا سبھی دفاتر امریکہ کے مختلف شہروں میں ہیں۔ جب اقوام متحدہ کے کسی بھی قرار داد کا اثر امریکہ میں نہیں ہوپاتا تو باقی دنیا کے ممالک میں کیسے ممکن ہو گا َ؟
اس وقت عالمی سطح پر امریکہ خود ساختہ سپر پاور بنا بیٹھا ہے جہاں اس کی مرضی ہوتی ہے اسی طرح کے فیصلے نہ صرف اقوام متحدہ سے کراتا اوران پر عمل بھی کراتا ہے۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ خود امریکہ بہادر ان فیصلوں پر عمل نہیںکرتابلکہ وہ ان تمام اصولوں اور فیصلوں سے خود کو ماورا سمجھتا ہے۔ جس کا خمیازہ ترقی پذیر غریب ممالک کو سہنا پڑتا ہے۔
آج اقوام متحدہ کے زیر اہتمام امریکہ سمیت تمام اقوام عالم میں عورتوں کا عالمی دن منایاجارہاہے۔ اس حوالے سے امریکہ اور دیگر سبھی ممالک میں عورتوں کے حقوق کی نام نہاد این جی اووز بڑی بڑی تقریبات کا اہتمام کرکے خواتین کے حقوق کی بات کرتی ہیں۔ لیکن اس سے بڑھ کر تلخ حقیقت اور کیا ہوگی کہ آج امریکہ جو خود کو انسانی حقوق کا سرخیل سمجھتا ہے آج اسی کے ملک میں گذشتہ کئی برسوں دختر امت مسلمہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی پابند سلاسل ہے۔ اسے ایسے جرائم کی سزا سنائی اور دی جارہی ہے جو اس پر ثابت نہیں ہوئے ۔
aafiaافسوس ہے ان تمام انسانی حقوق کی تنظیموں پر جو ایک مظلوم عورت کو ظالم اور جابر امریکہ سے چھڑا نہیں سکتے۔ اس سے بڑھ کر شرم کا مقام ہے ان تمام اسلامی ممالک کے سربراہان پر جو طاقتور ہونے کے باوجود امریکہ کی چوکھٹ پر اپنا ماتھا ٹیکتے ہیں۔ انہیں اپنے اسلاف کے کارنامے کیونکر بھول گئے ہیں ؟ اور اس سے بھی بڑھ کر شرم ہی نہیں قابل مذمت ہے پاکستان کے حکمرانوں کا کردار جو واحد ایٹمی قوت ہونے کے باوجود اپنی ایک شہری کو جو بے گناہ بھی اور مظلوم بھی اسے امریکہ کی قید سے رہانہیں کرواسکی ہے۔ خود امریکہ کا تو یہ عالم ہے کہ اس کا شہری اگر دن دیہاڑے تین افراد کو قتل بھی کردے تب بھی اسے وٹوکول کے کے ساتھ اپنے ملک واپس لے جاتے ہیں۔ ایسے موقع پر نہیں معلوم انسانی حقوق والے کہاں چلے جاتے ہیں؟ حکمرانوں کی منافقت کا معاملہ تو یہ ہے کہ وزیراعظم میاں نواز شریف امریکہ جانے سے پہلے عافیہ کے اہل خانہ سے ملتے ہیں اور انکی بوڑھی ماں سے یہ وعدہ کرتے ہیں کہ امریکی صدر اوبامہ سے عافیہ کے حوالے سے بات کریں گے اور جب وہ اوبامہ کے سامنے جاتے ہیں تو عافیہ کی رہائی تو درکنار ان کے حوالے سے کوئی بات تک نہیں کرتے۔ ایسے ملک کے سربراہ سے کیا توقع کی جاسکتی ہے؟ آج چند لمحوں کیلئے ہی سہی اگر یہ گمان کرلیں کہ عافیہ کی جگہ ان کی اپنی بیٹی مریم ہوتی ، تو ان کا رویہ کیسا ہوتا؟ خود مریم نواز کا معاملہ ہے یہ کہ گذشتہ برس لاپتہ افراد کے متاثرین اسلام آباد میں محو احتجاج تھے ، ان میں بچے بوڑھے ، جوان اور خواتین سبھی شامل تھے ، پر امن اختجاج پر انتظامیہ ایسے ٹوٹ پڑی جیسے دشمن پر حملہ آور ہواجاتا ہے۔ مریم نواز ، زخمی آمنہ مسعود جنجوعہ سے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتی ہیں اور ان سے وعدہ کرتی ہیں کہ ذمہ داروں کے خلاف ایکشن ہوگا۔ احتجاج کرنے والوں میں اکثریت خواتین کی تھی تاہم کوئی بھی خواتین کی این جی ان کے حق میں آواز بلند کرنے کیلئے میدان میں نہیںآئیں۔ رہا مریم نواز کا وعدہ تو وہ نواز شریف کی بیٹی ہیں جس طرح نواز شریف نے عافیہ کی والدہ سے کیا گیا وعدہ پورانہیں کیا اسی طرح مریم نے بھی امنہ مسعود جنجوعہ سے کیا گیا وعدہ پورا نہیں کیا۔
گذشتہ ماہ8 فروری کو جب مزار قائد پر عافیہ موومنٹ کے زیر اہتمام پہلا قومی جرگہ ہوا ، اس جرگہ میں قریبا سبھی سیاسی ، مذہبی ، سماجی جماعتوں نے شرکت کر کے عافیہ کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی تو دوران جرگہ ہی وزیر اعظم ہاﺅس سے عافیہ کے اہل خانہ کے پاس فون آیا جس میں انہیں تسلی مائی سین کا انجیکشن لگاتے ہوئے یہ کہا گیا کہ میاں صاحب عافیہ کو بھولے نہیں ہیں۔ بہرحال وزیر اعظم ہوں یا صدر ، یا اس ملک کے عوام، یا امت مسلمہ کے حکمران ہوں یا پھر دنیا بھر کے تمام مسلمان سبھی عافیہ کے معاملے پر خدا کے خضور جوابدہ ہوں گے۔ عافیہ کی رہائی ان سب کیلئے فرض بھی اور اک قرض بھی۔
اور رہی عافیہ صدیقی تو وہ آج کے دن سراپا سوال ہے اقوام متحدہ سے ، انسانی حقوق کی نمائندہ تنظیموں سے ، عالمی اقوام سے ، امت مسلمہ سے کہ آج جوخواتین کا عالمی دن منارہے ہیں ، حقوق کی بات کررہے ہیں ، تو کیا میں (عافیہ ) ایک عورت نہیں ہوں؟ ایک ماں ، ایک بیٹی ، ایک بہن نہیں۔اگر ان سب سوالوں کا جوا ب ا ثبات میں ہے تو پھر میں پس زنداں کیوں ؟ مجھے کس جرم میں 86 برسوں کی سزا دی جارہی ہے؟ مجھے عورت کے ناطے کیوں کر وہ سب حقوق حاصل نہیں جن کیلئے آج کا دن منایاجارہاہے؟ کیوں کر مجھے میری بوڑھی ماں ، اور معصوم بچوں سے دور اس کال کوٹھری میں رکھا گیا ہے؟ یہ سوالات اور ایسے ہی ان گنت سوال آج کے دن ہر اس مرد و زن سے ہیں جو آج عورتوں کے عالمی دن کو منارہے ہیں، کوئی جواب۔۔۔۔۔
hafeezkhatak95@gmail.com

حفیظ خٹک
Biographical Info

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

سرجانی ٹائون سے لاپتہ 8 سالہ عروہ بازیاب

کراچی، پیر کے روز سرجانی ٹائون سیکٹر ڈی فور میں گھر کے باہر سے لاپتہ ہونےوالی 8 سالہ عروہ فہیم بازیاب، پولیس...

بدھ اور جمعہ کو سی این جی اسٹیشنز بند رہیں گے

کراچی، سندھ بھر کے سی این جی اسٹیشنز بدھ اور جمعہ کو بند رہیں گے، ذرائع کے مطابق بدھ اور جمعہ کو...

لیاقت آباد، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ٹیم پر حملہ

کراچی، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ٹیم پر لیاقت آباد میں حملہ، ذرائع ایس بی سی اے کے مطابق لیاقت آباد...

گزری، نجی بینک میں آتشزدگی،فائر بریگیڈ کی گاڑیاں روانہ

کراچی، گذری میں نجی بینک میں آتشزدگی، کنٹونمنٹ بورڈ کی گاڑیاں آگ پر قابو پانے کےلئے روانہ، ذرائع کے مطابق بینک میں...